براہ راست نشریات

کیا سعودی عرب میں فاریکس اور کرپٹو منع ہے، قانون کیا کہتا ہے؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
کرپٹو سعودی عرب

سعودی عرب میں فاریکس اور کرپٹو کو یکساں طور پر مکمل ممنوع قرار دینا درست نہیں۔
غیر اجازت یافتہ فاریکس کاروبار اور تشہیر پر سخت پابندیاں ہیں، جبکہ بہت سی آن لائن فاریکس سرگرمیاں ایسے مالی معاہدوں میں آتی ہیں جن پر سرمایہ کاری کے الگ ضابطے لاگو ہوتے ہیں۔
دوسری طرف بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیاں سعودی عرب میں سرکاری طور پر منظور شدہ کرنسیاں یا سرمایہ کاری کے ذرائع نہیں اور ان میں سرمایہ کاری مقامی مالیاتی تحفظ سے باہر ہے۔

میں سعودی عرب میں مقیم ہوں اور فاریکس اور کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہوں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ سعودی عرب میں فاریکس اور بٹ کوائن سمیت تمام کرپٹو کرنسیوں کی خرید و فروخت ممنوع ہے، جبکہ بہت سے غیر ملکی پلیٹ فارم یہاں استعمال بھی ہورہے ہیں۔

 براہِ کرم بتائیں کہ سعودی قانون اس بارے میں کیا کہتا ہے؟ 

کیا ایک عام شخص اپنی رقم سے فاریکس یا کرپٹو میں سرمایہ کاری کرسکتا ہے؟

جواب

اس سوال کا سیدھا جواب یہ ہے کہ سعودی عرب میں فاریکس اور کرپٹو کی صورتِ حال ایک جیسی نہیں اور انہیں صرف ’جائز‘ یا ’ممنوع‘ کہہ دینا بھی درست نہیں۔

OVERSEAS POST | HIGHLIGHTSاہم نکات
  • غیر اجازت یافتہ فاریکس کاروبار، دلالی اور تشہیر پر سخت پابندیاں ہیں۔
  • بیرون ملک لائسنس یافتہ کمپنی کو لازماً سعودی عرب میں خدمات کی اجازت نہیں ہوتی۔
  • بہت سی آن لائن فاریکس سرگرمیاں قیمت کے فرق کے معاہدوں کے ذریعے ہوتی ہیں، جن پر الگ ضابطے لاگو ہوسکتے ہیں۔
  • بٹ کوائن اور دوسری کرپٹو کرنسیاں سعودی عرب میں منظور شدہ کرنسیاں یا باقاعدہ منظور شدہ سرمایہ کاری کے ذرائع نہیں۔
  • صرف کسی ایپ کا سعودی عرب میں چلنا سرکاری اجازت کی دلیل نہیں۔
overseaspost.net

سعودی مرکزی بینک ساما اور سعودی کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی سی ایم اے کے قواعد سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل فرق اس بات میں ہے کہ کوئی شخص اپنی رقم سے سرمایہ کاری کررہا ہے، دوسروں کے لیے ٹریڈ کررہا ہے، لوگوں سے سرمایہ لے رہا ہے یا کسی غیر منظور شدہ کمپنی کی تشہیر کررہا ہے۔

فاریکس کے بارے میں قانون کیا کہتا ہے؟

سعودی مرکزی بینک ساما نے 2017 میں ایسی غیر ملکی فاریکس کمپنیوں کے بارے میں سخت ہدایات جاری کی تھیں جو سعودی عرب میں مطلوبہ اجازت کے بغیر اپنی خدمات پیش کرتی یا ان کی تشہیر کرتی تھیں۔

i OVERSEAS POST | FACT BOXفیکٹ باکس: قانون کیا کہتا ہے؟
نگران ادارےساما، کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی
فاریکسلائسنس اور سرگرمی کی نوعیت اہم
غیر ملکی لائسنسسعودی اجازت کا متبادل نہیں
کرپٹوغیر منظور شدہ کرنسی/اثاثہ
ذاتی ملکیتعمومی فوجداری جرم کی صریح عبارت سامنے نہیں آتی
بنیادی احتیاطپلیٹ فارم اور مالی آلے کی قانونی حیثیت چیک کریں
overseaspost.net

ان ہدایات میں ایسے افراد اور اداروں کے خلاف بھی تنبیہ کی گئی جو ان کمپنیوں کے لیے مقامی دلال یا واسطہ بنیں، لوگوں سے رقوم وصول کریں یا اپنے سعودی بینک کھاتوں کو ایسی سرگرمیوں کے لیے استعمال کریں۔ 

بینکوں کو بھی بعض مشتبہ فاریکس رقوم کی منتقلی کی نگرانی اور ضروری کارروائی کی ہدایت دی گئی۔ (rulebook.sama.gov.sa)

البتہ بعد میں ساما نے یہ فرق بھی واضح کیا کہ بعض غیر ملکی فاریکس کمپنیاں اپنے ملک کے معتبر مالیاتی نگران اداروں سے باقاعدہ اجازت یافتہ ہوسکتی ہیں۔ 

اس لیے ہر غیر ملکی فاریکس کمپنی کو ایک ہی درجے میں رکھنا درست نہیں۔ (rulebook.sama.gov.sa)

1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں مختصر جواب

فاریکس: غیر اجازت یافتہ کاروبار، دلالی اور تشہیر پر پابندیاں موجود ہیں۔

کرپٹو: بٹ کوائن اور دوسری کرپٹو کرنسیاں سعودی عرب میں سرکاری طور پر منظور شدہ سرمایہ کاری نہیں۔

اہم فرق: ذاتی سرمایہ کاری اور دوسروں کے لیے مالی خدمات فراہم کرنا ایک جیسی قانونی سرگرمی نہیں۔

overseaspost.net

لیکن یہاں ایک بات بہت اہم ہے:

کسی کمپنی کا برطانیہ، آسٹریلیا یا کسی دوسرے ملک میں اجازت یافتہ ہونا اس بات کا ثبوت نہیں کہ اسے سعودی عرب میں بھی اپنی خدمات پیش کرنے یا تشہیر کرنے کی اجازت حاصل ہے۔

یعنی غیر ملکی اجازت نامہ اور سعودی اجازت نامہ دو الگ چیزیں ہیں۔

کیا اپنی رقم سے فاریکس کرنا جائز ہے؟

یہ سوال نسبتاً پیچیدہ ہے۔

عام طور پر لوگ ہر آن لائن کرنسی خرید و فروخت کو فاریکس کہتے ہیں، لیکن بہت سے پلیٹ فارم پر حقیقت میں کرنسی خریدنے کے بجائے قیمت کے فرق پر معاہدے کئے جاتے ہیں، جنہیں سی ایف ڈی کہا جاتا ہے۔

OVERSEAS POST | LEGAL GUIDEفاریکس: اصل پابندی کہاں ہے؟
  • بغیر مطلوبہ اجازت فاریکس خدمات فراہم کرنا یا ان کی تشہیر مسئلہ بن سکتی ہے۔
  • غیر اجازت یافتہ افراد کا بروکر، واسطہ یا رقم جمع کرنے والا بننا ممنوع سرگرمی میں آسکتا ہے۔
  • سعودی بینک کھاتوں کو غیر منظور شدہ مالی سرگرمی کے لیے استعمال کرنا بھی ضابطہ جاتی جانچ کا باعث بن سکتا ہے۔
  • ساما کی 2017 ہدایات بعد میں ترمیم شدہ حیثیت میں ہیں، اس لیے ہر غیر ملکی کمپنی کو ایک ہی درجے میں نہیں رکھا جاسکتا۔
overseaspost.net

سعودی کیپیٹل مارکیٹ اتھارٹی ایسے معاہدوں کو مالیاتی سکیورٹیز کی ایک قسم شمار کرتی ہے۔ اسی وجہ سے ان پر عام کرنسی تبدیل کرنے کے بجائے سرمایہ کاری کے الگ ضابطے لاگو ہوسکتے ہیں۔ (cma.gov.sa)

اس لیے یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ:

’اگر آپ اپنی ہی رقم سے فاریکس کررہے ہیں تو کسی قسم کا قانونی مسئلہ نہیں‘۔

زیادہ درست بات یہ ہے کہ اپنی رقم سے سرمایہ کاری کرنا اور دوسروں کے لیے ٹریڈ کرنا یا تشہیر کرنا دو مختلف چیزیں ہیں، لیکن قرضی سہولت کے ساتھ فاریکس یا قیمت کے فرق والے معاہدوں میں تجارت کو بھی بلاشرط جائز نہیں کہا جاسکتا۔

کرپٹو کرنسی کے بارے میں کیا موقف ہے؟

بٹ کوائن، ایتھیریم اور دوسری کرپٹو کرنسیوں کے بارے میں سعودی حکام کا موقف زیادہ محتاط ہے۔

2018 میں سی ایم اے کی سربراہی میں قائم سرکاری کمیٹی نے واضح کیا تھا کہ بٹ کوائن سمیت مجازی کرنسیاں سعودی عرب میں منظور شدہ کرنسیاں نہیں تھیں اور اس وقت ان میں سرمایہ کاری سعودی مالیاتی نگرانی اور تحفظ کے دائرے سے باہر تھی۔ (cma.gov.sa)

تاہم اس کے بعد سعودی مالیاتی شعبے میں ہونے والی پیش رفت کے باعث بٹ کوائن سے متعلق سرمایہ کاری کی موجودہ صورتِ حال کو الگ سے سمجھنا ضروری ہے۔

? OVERSEAS POST | EXPLAINERاپنی رقم سے فاریکس کرنا: کیا مکمل اجازت ہے؟

یہاں سادہ “ہاں” یا “نہیں” کافی نہیں۔

عام طور پر لوگ ہر آن لائن کرنسی خرید و فروخت کو فاریکس کہتے ہیں، لیکن بہت سے پلیٹ فارم پر اصل میں قیمت کے فرق کے معاہدے (CFDs) ہوتے ہیں۔
  • ایسے معاہدے سرمایہ کاری کے الگ ضابطوں کے تحت آسکتے ہیں۔
  • صرف یہ کہنا کہ “میں اپنی رقم سے ٹریڈ کررہا ہوں، اس لیے سب کچھ جائز ہے” درست نہیں۔
  • پلیٹ فارم، معاہدے اور متعلقہ نگران ادارے کی حیثیت دیکھنا ضروری ہے۔
overseaspost.net

حکام نے اس میں شدید قیمت اتار چڑھاؤ، دھوکے، رقوم کے ضائع ہونے، نامعلوم فریقوں کو رقم بھیجنے اور دیگر مالی خطرات سے بھی خبردار کیا۔

اس لیے یہ کہنا درست ہے کہ:

بٹ کوائن اور دوسری کرپٹو کرنسیاں سعودی عرب میں سرکاری طور پر منظور شدہ کرنسیاں یا باقاعدہ منظور شدہ سرمایہ کاری کے ذرائع نہیں ہیں۔

کیا بٹ کوائن خریدنا یا رکھنا جرم ہے؟

یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے۔

سعودی سرکاری بیانات میں ایسی کوئی واضح عمومی عبارت سامنے نہیں آتی جس میں صرف بٹ کوائن خریدنے، اپنے پاس رکھنے یا کسی کرپٹو کرنسی کا مالک ہونے کو بذاتِ خود فوجداری جرم قرار دیا گیا ہو۔

لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کرپٹو سعودی عرب میں باقاعدہ منظور شدہ سرمایہ کاری ہے۔

OVERSEAS POST | REGULATIONغیر ملکی لائسنس: کیا وہ کافی ہے؟

نہیں، لازماً نہیں۔

  • کسی کمپنی کا برطانیہ، آسٹریلیا یا کسی دوسرے ملک میں اجازت یافتہ ہونا اس کی عالمی حیثیت بتاتا ہے۔
  • لیکن ایسا لائسنس سعودی عرب میں خدمات، دلالی یا تشہیر کی خودکار اجازت نہیں بنتا۔
  • غیر ملکی اجازت نامہ اور سعودی ریگولیٹری اجازت دو الگ معاملات ہیں۔
overseaspost.net

اس لیے زیادہ درست بات یہ ہوگی:

کرپٹو کرنسیوں کو سعودی عرب میں سرکاری منظوری حاصل نہیں اور ان میں سرمایہ کاری مقامی مالیاتی تحفظ سے باہر ہے، تاہم صرف ذاتی طور پر کرپٹو رکھنے کو عمومی طور پر الگ فوجداری جرم قرار دینے والی واضح سرکاری عبارت دستیاب نہیں۔

اگر کرپٹو کا استعمال دھوکے، ناجائز رقوم، منی لانڈرنگ، لوگوں سے غیر قانونی طور پر سرمایہ جمع کرنے یا کسی اور ممنوعہ سرگرمی کے لیے کیا جائے تو پھر متعلقہ سعودی قوانین لاگو ہوسکتے ہیں۔

کیا کسی ایپ کا سعودی عرب میں چلنا اجازت کی دلیل ہے؟

نہیں۔

کسی فاریکس یا کرپٹو ایپ کا سعودی عرب میں کھل جانا، اس پر کھاتا بن جانا یا سعودی بینک کارڈ سے رقم جمع ہوجانا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ کمپنی سعودی حکام سے اجازت یافتہ ہے۔

OVERSEAS POST | CRYPTOکرپٹو کرنسی: سعودی موقف کیا ہے؟
  • بٹ کوائن اور دوسری مجازی کرنسیاں سعودی عرب میں منظور شدہ کرنسیاں نہیں۔
  • ان میں سرمایہ کاری مقامی مالیاتی نگرانی اور تحفظ سے باہر رہتی ہے۔
  • حکام قیمتوں کے شدید اتار چڑھاؤ، فراڈ اور نامعلوم فریقوں کو رقم بھیجنے کے خطرات سے خبردار کرتے رہے ہیں۔
  • اس لیے کرپٹو کو “باقاعدہ سعودی منظور شدہ سرمایہ کاری” کہنا درست نہیں۔
overseaspost.net

اسی طرح کسی کمپنی کا سوشل میڈیا پر اشتہار چلانا بھی قانونی اجازت کی دلیل نہیں۔

اس لیے کسی بھی پلیٹ فارم کو رقم بھیجنے سے پہلے یہ ضرور دیکھنا چاہئے کہ:

وہ کس ادارے سے اجازت یافتہ ہے، کس ملک میں رجسٹرڈ ہے، سعودی عرب میں اس کی خدمات کی حیثیت کیا ہے اور آپ جس مالی معاہدے میں داخل ہورہے ہیں وہ حقیقت میں کس نوعیت کا ہے۔

ایک عام مقیم شخص کیا کرے؟

اگر آپ سعودی عرب میں رہتے ہوئے فاریکس یا کرپٹو میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو صرف یہ دیکھنا کافی نہیں کہ کمپنی مشہور ہے یا بہت سے لوگ اسے استعمال کررہے ہیں۔

سرمایہ کاری سے پہلے اس کمپنی کی قانونی حیثیت، اجازت نامہ اور مالی نگرانی ضرور چیک کریں۔

✓? OVERSEAS POST | LEGAL ANSWERکیا بٹ کوائن رکھنا جرم ہے؟

دستیاب سرکاری مواد میں صرف بٹ کوائن یا دوسری کرپٹو کرنسی اپنے پاس رکھنے کو عمومی طور پر الگ فوجداری جرم قرار دینے والی واضح عبارت سامنے نہیں آتی۔

لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کرپٹو سعودی عرب میں باقاعدہ منظور شدہ سرمایہ کاری ہے۔

اگر معاملہ فراڈ، ناجائز رقوم، منی لانڈرنگ یا غیر قانونی سرمایہ جمع کرنے سے جڑ جائے تو متعلقہ قوانین الگ سے لاگو ہوسکتے ہیں۔

overseaspost.net

خاص طور پر اگر کوئی کمپنی آپ کو بہت زیادہ یا یقینی منافع کا وعدہ کرے، لوگوں کو شامل کرنے پر کمیشن دے، آپ سے دوسروں کی رقم اکٹھی کرنے کو کہے یا آپ کو اس کی تشہیر کے بدلے معاوضہ دے تو زیادہ احتیاط ضروری ہے۔

آخر میں مختصر جواب

فاریکس: 

سعودی عرب میں غیر اجازت یافتہ فاریکس کاروبار، دلالی اور تشہیر پر سخت پابندیاں ہیں۔ بعض غیر ملکی کمپنیاں اپنے ملک میں قانونی طور پر اجازت یافتہ ہوسکتی ہیں، لیکن اس سے انہیں سعودی عرب میں خودکار اجازت نہیں مل جاتی۔

! OVERSEAS POST | WARNINGایپ چل رہی ہے، کیا اس کا مطلب اجازت ہے؟

نہیں۔ کسی ایپ یا ویب سائٹ کا سعودی عرب میں کھل جانا سرکاری اجازت کا ثبوت نہیں۔

  • ×کھاتا بن جانا = سعودی منظوری نہیں
  • ×سعودی بینک کارڈ قبول ہونا = سعودی لائسنس نہیں
  • ×سوشل میڈیا اشتہار = قانونی اجازت نہیں
  • ×مشہور عالمی برانڈ = سعودی نگران ادارے کی منظوری نہیں
overseaspost.net

کرپٹو: 

بٹ کوائن سعودی عرب میں سرکاری کرنسی نہیں اور اس سے متعلق سرمایہ کاری کی قانونی و ضابطہ جاتی صورت مختلف ہوسکتی ہے۔ 

اس موضوع کی مزید تفصیل پھر کبھی پیش کی جائے گی۔

ذاتی ملکیت: 

دستیاب سرکاری مواد میں صرف بٹ کوائن یا دوسری کرپٹو کرنسی اپنے پاس رکھنے کو عمومی طور پر الگ فوجداری جرم قرار دینے والی واضح عبارت سامنے نہیں آتی، لیکن اسے باقاعدہ سعودی منظوری بھی حاصل نہیں۔

لہٰذا سب سے محفوظ راستہ یہی ہے کہ کسی بھی فاریکس یا کرپٹو پلیٹ فارم میں رقم لگانے سے پہلے اس کی قانونی اور مالیاتی حیثیت کی اچھی طرح تصدیق کرلی جائے۔

نوٹ: 

یہ جواب سعودی سرکاری ضوابط اور دستیاب سرکاری بیانات کی بنیاد پر معلوماتی رہنمائی ہے۔ کسی مخصوص فرد، کمپنی یا مالی معاملے کے لیے اسے باقاعدہ قانونی مشورہ نہ سمجھا جائے۔

OVERSEAS POST | SOURCESاصل سرکاری ذرائع
overseaspost.net

1 تبصرہ

  1. السلام علیکم
    بہترین معلومات کی فراہمی پر شکریہ۔ میں نے یہ رپورٹ غور سے پڑھی ہے مگر ایک اہم بات مجھے سمجھ نہیں آئی۔ اگر بٹ کوائف کی سعودی عرب میں کوئی قانونی حیثیت نہیں اور اس کی ٹریڈنگ بھی منع ہے تو پھر سعودی مالیاتی ادارے اس کے فنڈ کی سہولت کیوں دے رہے ہیں۔ میں خود ایک اجازت یافتہ سعودی مالیاتی ادارے کے بٹ کوائن فنڈ میں انویسٹ کر رہا ہوں۔ اس کے علاوہ سعودی بروکر بٹ کوائن ای ٹی ایف کی بھی سہولت دیتے ہیں۔ ذرا وضاحت فرمادیں۔

رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے