غزہ میں جاری انسانی بحران کے درمیان ایک خاندان کی کہانی پورے المیے کی عکاسی کرتی ہے۔
مرفت رضوان اپنے بھائی کے یتیم بچوں، بہن اور بزرگ والد کے ساتھ ایک خیمے میں رہتی ہیں، جہاں ایک وقت کا کھانا بھی یقینی نہیں۔
خیراتی باورچی خانوں سے ملنے والی محدود خوراک، مہنگی سبزیاں، بے روزگاری اور بیماری نے زندگی کو مسلسل امتحان بنا دیا ہے۔
یہ صرف ایک گھر کی کہانی نہیں، بلکہ غزہ کے ہزاروں خاندانوں کی مشترکہ حقیقت ہے۔
جب بھی مرفت رضوان کو خبر ملتی ہے کہ قریبی خیراتی باورچی خانے میں کھانا تقسیم ہونے والا ہے تو اسے کچھ دیر کے لیے سکون محسوس ہوتا ہے۔
وہ ایک برتن اٹھاتی ہے اور اپنے خاندان کے حصے کا کھانا لینے نکل پڑتی ہے۔
لیکن کھانا لے کر خیمے میں واپس پہنچ جانا مسئلے کا خاتمہ نہیں ہوتا۔
وہاں 7 افراد اس خوراک کا انتظار کر رہے ہوتے ہیں اور عموماً ملنے والی مقدار سب کے لیے کافی نہیں ہوتی۔
مرفت کوشش کرتی ہے کہ موجود خوراک کو کسی طرح بڑھایا جائے۔
کبھی امدادی سامان سے بچا ہوا ٹونا ملا دیتی ہے، کبھی پھلیاں یا مٹر اور کبھی کوئی دوسری دستیاب چیز۔
یہاں مسئلہ یہ نہیں کہ آج کون سا کھانا پسند کیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ موجود خوراک کو کس طرح 7 افراد میں تقسیم کیا جائے تاکہ ہر ایک کو کچھ نہ کچھ مل سکے۔
◆ OVERSEAS POST | HUMAN STORYغزہ میں بھوک — اہم نکات ⌄
- دیر البلح کے ایک خیمے میں سات افراد محدود خوراک پر گزارا کر رہے ہیں۔
- مرفت رضوان اپنے بھائی کے تین یتیم بچوں کی دیکھ بھال کر رہی ہیں۔
- خاندان کے کسی بالغ فرد کے پاس مستقل آمدنی نہیں۔
- خیراتی باورچی خانے خاندان کی خوراک کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں۔
- کھانا کم ہو تو بزرگ اور بالغ افراد بچوں کے لیے اپنا حصہ چھوڑ دیتے ہیں۔
- سبزیاں، گوشت اور متوازن غذا خریدنا خاندان کے لیے انتہائی مشکل ہوچکا ہے۔
مزید پڑھیں
تین بچے جن کے والدین نہیں رہے
اس خاندان کی مشکل صرف غربت یا بھوک تک محدود نہیں۔
45 سالہ مرفت نے اپنے بھائی کے 3 بچوں کی ذمہ داری اس وقت سنبھالی جب اکتوبر 2024 میں شمالی غزہ پر ہونے والے ایک حملے میں بچوں کے والدین اور ان کا چھوٹا بھائی ہلاک ہوگئے۔
تینوں بچے بھی اس سانحے سے جسمانی اور ذہنی زخم لے کر نکلے۔
بڑے بچے نائف کے سر میں چھروں کے زخم آئے، جبکہ حبیب اور اس کے بھائی کے جسم کے مختلف حصے جھلس گئے تھے۔
اب یہ بچے اپنی پھوپھی مرفت، 70 سالہ دادا اور مرفت کی بہن سناء کے ساتھ دیر البلح کے ایک خیمے میں رہتے ہیں۔
خاندان کے کسی بالغ فرد کے پاس مستقل آمدنی کا ذریعہ نہیں۔
ایسے حالات میں امدادی سامان اور خیراتی باورچی خانے ان کے لیے اضافی سہولت نہیں رہے، بلکہ زندہ رہنے کے بنیادی سہاروں میں شامل ہوچکے ہیں۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXغزہ کا انسانی بحران: فیکٹ باکس ⌄
کھانا کم پڑ جائے تو سب سے پہلے بڑے اپنی خوراک چھوڑتے ہیں۔
دادا اس وقت تک کھانے کو ہاتھ نہیں لگاتے جب تک انہیں یقین نہ ہوجائے کہ ان کے پوتوں نے کھا لیا ہے۔
کئی دن ایسے بھی آتے ہیں جب پورا خاندان صرف ایک وقت کے کھانے پر گزارا کرتا ہے۔
سینکڑوں ہزار افراد خیراتی باورچی خانوں کے محتاج
مرفت کا خاندان کوئی واحد مثال نہیں۔
غزہ میں اجتماعی اور خیراتی باورچی خانے ان خاندانوں کے لیے خوراک کا اہم ذریعہ بن چکے ہیں جن کی آمدنی ختم ہوچکی ہے یا جن کے پاس کھانا پکانے کے لیے جگہ، ایندھن یا سامان موجود نہیں۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
غزہ کے دیر البلح میں ایک خیمے کے اندر سات افراد ایک وقت کے کھانے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
مرفت رضوان اپنے بھائی کے تین بچوں کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں، جنہوں نے جنگ میں اپنے والدین کھو دیے۔
خاندان کی خوراک کا بڑا حصہ امدادی سامان اور خیراتی باورچی خانوں سے آتا ہے، مگر یہ مدد بھی باقاعدہ نہیں۔
یہ کہانی غزہ کے ہزاروں خاندانوں کی اس حقیقت کی علامت ہے جہاں زندہ رہنے کے لیے ہر روز خوراک، پانی اور علاج کا نیا امتحان درپیش ہے۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور سے متعلق ادارے کے مطابق جولائی کے آغاز میں غزہ میں تقریباً 102 باورچی خانے روزانہ تقریباً 6 لاکھ 98 ہزار کھانے تیار کر رہے تھے۔
بعد میں 97 باورچی خانوں کے ذریعے روزانہ 7 لاکھ سے زیادہ کھانے تقسیم کئے جا رہے تھے۔
اعداد بظاہر بہت بڑے دکھائی دیتے ہیں، لیکن ضرورت مندوں کی مجموعی تعداد کے مقابلے میں یہ مقدار ناکافی رہتی ہے۔
مرفت کے خیمے کے قریب قائم باورچی خانہ بھی تقریباً دو ماہ بند رہا، اور دوبارہ کھلنے کے بعد ہفتے میں صرف دو دن کھانا فراہم کرنے لگا۔
سبزی بھی پہنچ سے باہر
غزہ میں خوراک کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ بازار میں کھانا موجود ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ لوگ اسے خرید سکتے ہیں یا نہیں۔
عالمی اداروں کے مطابق بیشتر آبادی کئی مرتبہ بے گھر ہوچکی ہے اور بے روزگاری انتہائی بلند سطح پر ہے۔ ایسے میں سبزیاں، پھل، گوشت اور کھانا پکانے کا ایندھن خریدنا بہت سے خاندانوں کے بس سے باہر ہوگیا ہے۔
◎ یہ کہانی کیوں اہم ہے؟
مرفت کے خاندان کے لیے گوشت اب تقریباً ناقابل حصول چیز ہے۔
یہاں تک کہ ٹماٹر اور کھیرہ بھی ایسی اشیا بن چکے ہیں جنہیں خریدنے سے پہلے کئی بار سوچنا پڑتا ہے۔
اس خاندان کے لیے معاملہ مزید سنگین اس لیے ہے کہ حبیب گردے کی پتھری کا مریض ہے۔ ڈاکٹروں نے اسے زیادہ پانی پینے اور پانی والی سبزیاں، خصوصاً کھیرہ، استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔
لیکن خاندان ایک تلخ حقیقت سے دوچار ہے: بچے کو جو چیز صحت کے لیے درکار ہے، وہ بازار میں موجود تو ہوسکتی ہے، مگر خریدنے کے لیے پیسے نہیں۔
اسی وجہ سے بچے بڑی حد تک امدادی پیکٹوں میں ملنے والی ڈبہ بند خوراک پر گزارا کرتے ہیں، حالانکہ مسلسل ایسی خوراک استعمال کرنا متوازن غذا کا متبادل نہیں۔
بحران صرف خوراک کی موجودگی کا نہیں
غزہ کی صورت حال یہ بھی دکھاتی ہے کہ غذائی بحران اب صرف امدادی ٹرکوں یا بازار میں دستیاب سامان تک محدود نہیں رہا۔
اصل مسئلہ لوگوں کی قوت خرید، خوراک تک رسائی اور ایسی متوازن غذا حاصل کرنے کی صلاحیت ہے جو انہیں بیماری اور غذائی قلت سے بچا سکے۔
🍲 خیراتی باورچی خانے — زندگی کی آخری ڈور
غزہ میں ایسے خاندانوں کے لیے اجتماعی باورچی خانے انتہائی اہم ہوچکے ہیں جن کے پاس نہ مستقل آمدنی ہے اور نہ کھانا پکانے کے لیے ضروری وسائل۔
اس طرح ایک باورچی خانے کا بند ہونا سینکڑوں خاندانوں کے لیے براہِ راست غذائی بحران میں تبدیل ہوسکتا ہے۔
امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ خوراک کی فراہمی میں کچھ بہتری کے باوجود لاکھوں افراد اب بھی شدید غذائی عدم تحفظ کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ بچوں میں غذائی قلت بدستور تشویش کا باعث ہے۔
دوسری طرف امدادی ادارے خود مالی مشکلات کا شکار ہیں اور خبردار کر رہے ہیں کہ فنڈز کی کمی جاری رہی تو خوراک کی امداد مزید محدود ہوسکتی ہے۔
جب ایک وقت کا کھانا ہی تحفظ بن جائے
عام حالات میں ایک خاندان کھانا کھاتے وقت یہ نہیں سوچتا کہ اگلی خوراک کب ملے گی۔ لیکن مرفت کے خیمے میں ہر کھانے کے ساتھ نئے سوال پیدا ہوتے ہیں۔
کیا کل باورچی خانہ کھلے گا؟ کیا امدادی پیکٹ آئے گا؟ کیا چند سبزیاں خریدی جاسکیں گی؟ اور اگر کھانا کم ہوا تو آج کون اپنا حصہ چھوڑے گا تاکہ بچے زیادہ کھا سکیں؟
🛒 خوراک موجود ہے، مگر خریدنے کی طاقت کہاں؟
- گوشت خاندان کی پہنچ سے تقریباً باہر ہوچکا ہے۔
- ٹماٹر اور کھیرہ جیسی عام سبزیاں بھی بجٹ پر بوجھ بن گئی ہیں۔
- بے روزگاری نے بڑی تعداد میں خاندانوں کی قوتِ خرید ختم کردی ہے۔
- غذائی بحران کا مطلب اب صرف خوراک کی عدم دستیابی نہیں بلکہ اسے خریدنے کی صلاحیت کا ختم ہونا بھی ہے۔
غزہ کی بھوک صرف اعداد و شمار میں نہیں دکھائی دیتی۔
یہ اس دادا میں نظر آتی ہے جو اپنے پوتوں کے کھانے کے بعد ہی کھاتا ہے، اس پھوپھی میں جو اچانک تین بچوں کی ماں بن گئی، اور اس بچے میں جسے بیماری کے باعث کھیرہ چاہئے مگر گھر والے چند دانے بھی مشکل سے خرید پاتے ہیں۔
7 افراد اور ایک وقت کے کھانے کی یہ کہانی دراصل غزہ کے ہزاروں خاندانوں کی زندگی کا خلاصہ ہے، جہاں زندہ رہنے کا مطلب صرف اگلے دن تک پہنچنا نہیں، بلکہ کم سے کم بھوک اور بیماری کے ساتھ وہاں تک پہنچنا ہے۔