دنیا خوراک کے حوالے سے مہنگائی کے ایک نئے اور تشویش ناک دور میں داخل ہو رہی ہے۔
مزید پڑھیں
گندم، مکئی، چینی اور کوکو جیسی بنیادی اجناس مہنگی ہو رہی ہیں۔ کہیں جنگ نے راستے بند کیے، کہیں شدید گرمی فصلیں جلا رہی اور اب طاقتور ال نینو نے آنے والے مہینوں کی پریشانی مزید بڑھا دی ہے۔
بلومبرگ کے مطابق 10 بڑی زرعی اجناس پر مشتمل اس کا ایگریکلچر اسپاٹ انڈیکس اگست میں 13 فیصد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ یہ جولائی 2012 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ بلندی کی جانب بڑھ رہا ہے۔
🌾
گندم سے چینی تک: دنیا میں کیا کیا مہنگا ہورہا ہے؟
+13% اسپاٹ انڈیکس
بلومبرگ ایگریکلچر انڈیکس میں 13 فیصد سے زائد کے حالیہ اضافے نے 2012 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ تیزی دکھائی ہے، جہاں عالمی منڈی میں بنیادی غذائی اجناس کی قیمتیں بیک وقت بلندی کی طرف دوڑ رہی ہیں۔
1۔ گندم: بحیرہ اسود میں رسدی ناکہ بندی
روس اور یوکرین جو عالمی گندم برآمدات کا 28 فیصد حصہ رکھتے ہیں، ان کی بندرگاہوں پر حملوں نے رسد کو متاثر کیا جس سے گندم کی عالمی قیمت میں 5.8 فیصد فوری اضافہ دیکھا گیا۔
2۔ چینی: پیداواری خسارہ اور 20 فیصد چھلانگ
بھارت میں گنے کی پیداوار 3.43 کروڑ ٹن سے گر کر 3.06 کروڑ ٹن پر آ گئی جس کے باعث عالمی منڈی میں چینی کے نرخ ایک ہی ماہ میں تقریباً 20 فیصد تک بڑھ گئے۔
3۔ مکئی اور اناج: شدید گرمی کا اثر
امریکا اور یورپ کے زرعی بیلٹ میں شدید گرمی نے فصل کو جھلسایا جس سے مکئی 3.6 فیصد مہنگی ہوئی اور مجموعی اناج کے عالمی انڈیکس میں 3.4 فیصد کا اضافہ ہوا۔
4۔ کوکو اور پروسیسڈ غذائی خام مال
افریقی خطوں میں موسمی تغیر اور سپلائی چین کے تعطل کے باعث کوکو کے نرخوں میں 20 فیصد تیزی آئی جس سے خوراک سے وابستہ مینوفیکچرنگ لاگت مزید بڑھ گئی۔
گندم ہے، مگر منڈی تک پہنچانا مشکل
سب سے زیادہ تشویش گندم پر ہے۔ روس اور یوکرین عالمی گندم تجارت میں انتہائی اہم ہیں، لیکن بحیرہ اسود میں جہازوں، بندرگاہوں اور برآمدی تنصیبات پر حملوں نے رسد کا نظام متاثر کردیا ہے۔
امریکی محکمہ زراعت کے تخمینے کے مطابق 2026-27 میں دونوں ممالک مجموعی طور پر 5 کروڑ 95 لاکھ ٹن گندم برآمد کرسکتے ہیں، یعنی متوقع عالمی تجارت کا تقریباً 28 فیصد۔
جنگ اور موسمیاتی دباؤ: خوراک کا عالمی بحران 🌾
زرعی اجناس کی قیمتوں میں بارہ سالہ ریکارڈ اضافہ اور عالمی سپلائی چین کے شدید خطرات
جنگ، شدید گرمی اور ال نینو کے اثرات کے باعث بنیادی زرعی اجناس کی عالمی قیمتیں بارہ سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں جس کے اثرات عام صارفین تک پہنچ رہے ہیں۔
📈 بلومبرگ ایگریکلچر انڈیکس 🌾
دس بڑی زرعی اجناس کے اسپاٹ انڈیکس میں جولائی 2012 کے بعد سب سے بڑی ماہانہ تیزی۔
🚢 بحیرہ اسود گندم تجارت ⚓
روس اور یوکرین کے بحران کے باعث عالمی منڈی کی مجموعی گندم ترسیل کا بڑا حصہ خطرے میں۔
🍬 چینی و کوکو کی قیمتیں ☕
شدید گرمی اور پیداواری کمی کے باعث اگست میں اشیائے خوراک کی لاگت میں ریکارڈ اضافہ۔
🌍 عالمی بینک غذائی انڈیکس 🚨
مشرق وسطیٰ تنازع کے ابتدائی دو ماہ کے دوران عالمی غذائی قیمتوں میں مجموعی اضافہ۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ماہرین کے مطابق مسئلہ صرف گندم دستیابی نہیں، اسے محفوظ طریقے سے عالمی خریداروں تک پہنچانا بھی ہے۔
اگر یہ رکاوٹ مزید طویل ہوئی تو آج کا شپنگ بحران اگلے زرعی سیزن تک پیداوار کو بھی متاثر کرسکتا ہے۔
پاکستان پر اثرات: کیا روٹی اور چینی مزید مہنگی ہوں گی؟
◀
آٹے اور روٹی پر بین الاقوامی دباؤ
اگرچہ ملکی پیداوار موجود ہوتی ہے، مگر عالمی گندم مہنگی ہونے، کھاد کی درآمدی لاگت اور ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے کسان کی پیداواری لاگت بڑھ کر آٹے کے تھیلے کو مہنگا کر سکتی ہے۔
علاقائی چینی کی طلب اور اسمگلنگ کا خطرہ
بھارت میں چینی کی پیداوار گرنے سے خطے میں طلب بڑھی ہے؛ پاکستان میں طلب و رسد کا معمولی فرق یا برآمدی دباؤ مقامی مارکیٹ میں چینی کی فی کلو قیمت پر فوری اثر ڈال سکتا ہے۔
پام آئل اور درآمدی گھی کا بل
پاکستان خوردنی تیل کا بڑا حصہ درآمد کرتا ہے؛ عالمی زرعی انڈیکس میں تیزی اور بحری فریٹ کے کرائے بڑھنے سے گھی اور کوکنگ آئل کے دام براہِ راست بڑھ سکتے ہیں۔
ال نینو اور برصغیر میں غیر معمولی گرمی
عالمی موسمیاتی تنظیم کی پیش گوئی کے مطابق برصغیر میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ربیع اور خریف کی فصلوں کی پیداواری شرح کو غیر یقینی بنا سکتا ہے۔
باورچی خانے پر بوجھ: عالمی سطح پر ایندھن، کھاد اور بحری کرایوں کا بیک وقت مہنگا ہونا پاکستان کے درآمدی بل کو دباؤ میں لائے گا، جس کا حتمی بوجھ عام شہری کی روزمرہ خوراک پر پڑ سکتا ہے۔
موسم نے دوسرا محاذ کھول دیا
جنگ کے ساتھ ساتھ موسم بھی خوراک کی منڈی کو جھٹکے دے رہا ہے۔ امریکا اور یورپ میں گرمی نے مکئی متاثر کی، جبکہ اگست میں چینی اور کوکو کی قیمتیں تقریباً 20 فیصد بڑھیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی پیش گوئی کے مطابق ایک طاقتور ال نینو تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے، جو نومبر کے قریب اپنے عروج پر پہنچ سکتا ہے۔
اس کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں خشک سالی، شدید بارش اور غیر معمولی گرمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔
اسی طرح بھارت بھی اس دباؤ سے محفوظ نہیں ہے۔ خراب موسم اور بیماریوں کے باعث چینی کی پیداوار کا تخمینہ 3 کروڑ 43 لاکھ ٹن سے گھٹ کر 3 کروڑ 6 لاکھ ٹن رہ گیا، جس کے بعد حکومت نے 10 لاکھ ٹن خام چینی بغیر محصول درآمد کرنے کی اجازت دی۔
⚡ جنگ + گرمی + ال نینو: خوراک کا بحران کیسے بن رہا ہے؟ 3 رکاوٹیں
پہلا محاذ: بحیرہ اسود اور مشرقِ وسطیٰ میں جنگ
یوکرین و روس کی گندم ترسیل پر حملے اور خلیجی تنازعات سے خام تیل 90 ڈالر سے اوپر جانے کے باعث فرٹیلائزر اور بین الاقوامی سمندری جہاز رانی کا خرچ 5 فیصد سے زائد بڑھ چکا ہے۔
دوسرا محاذ: شمالی نصف کرہ میں ریکارڈ ہیٹ ویوز
یورپ اور امریکا کے زرعی خطوں میں شدید گرمی نے اناج کے دانے کو سکھا دیا جس سے مکئی اور سویابین کی فی ایکڑ پیداوار میں توقع سے زیادہ کمی ریکارڈ ہوئی۔
تیسرا محاذ: طاقتور ال نینو کا عروج (نومبر پیک)
بحر الکاہل میں درجہ حرارت بڑھنے سے عالمی بارشوں کا قدرتی نظام درہم برہم ہو رہا ہے، جو ایشیا میں خشک سالی اور لاطینی امریکا میں سیلاب لا کر فصلوں کو تباہ کرنے کے دہانے پر ہے۔
عالمی مہنگائی پہلے ہی سر اٹھا رہی ہے
اقوام متحدہ کے ادارہ خوراک و زراعت کے مطابق جولائی میں عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ 0.6 فیصد بڑھ کر 131.1 پوائنٹس ہوگیا۔ اناج کی قیمتیں 3.4 فیصد بڑھیں، جن میں گندم 5.8 فیصد اور مکئی 3.6 فیصد مہنگی ہوئی۔
مشرق وسطیٰ کی جنگ نے اس مسئلے کو مزید کردیا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد 2 ماہ میں عالمی غذائی قیمتیں 5 فیصد بڑھیں، جبکہ توانائی، کھاد اور نقل و حمل کی بڑھتی لاگت بھی خوراک کو مہنگا کررہی ہے۔
🔭 آگے کیا ہوگا؟ عالمی فوڈ مارکیٹ کے 5 بڑے خطرات ⚠️
پہلا خطرہ: گندم برآمدات کے لیے بحری کوریڈور کی طویل بندش
اگر بحیرہ اسود میں فوجی حملے جاری رہے تو 5.95 کروڑ ٹن گندم منڈیوں تک نہیں پہنچ پائے گی، جس سے افریقا اور مشرق وسطیٰ میں گندم کی شدید قلت اور روٹی کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
2۔ غذائی تحفظ پر ملکی پابندیاں (پروٹیکشنزم)
بھارت کی طرح دیگر بڑے زرعی ممالک اپنی مقامی ضروریات پوری کرنے کے لیے چاول، چینی اور گندم کی برآمد پر مکمل پابندی عائد کر سکتے ہیں، جس سے عالمی قلت سنگین ہوگی۔
3۔ کھاد اور گیس کے نرخوں کا زرعی پیداوار پر اثر
توانائی بحران سے یوریا اور فاسفورس کھاد مہنگی ہو چکی ہے، جس کے باعث غریب ممالک کے کاشتکار کم کھاد استعمال کریں گے اور آئندہ سیزن میں مجموعی پیداوار مزید گرے گی۔
4۔ ال نینو کے اثرات کا نومبر میں عروج
آئندہ مہینوں میں ال نینو اپنے عروج پر پہنچنے سے ایشیا میں غیر معمولی خشک سالی اور لاطینی امریکا میں طوفانی بارشیں زرعی سپلائی کو شدید دھچکا پہنچائیں گی۔
5۔ ترقی پذیر ممالک میں زرمبادلہ کا دباؤ
مہنگے غذائی درآمدی بل کے باعث پاکستان، مصر اور بنگلہ دیش جیسی معیشتوں کے زرمبادلہ کے ذخائر پر شدید دباؤ آئے گا جس سے مقامی کرنسی اور قوتِ خرید مزید گرے گی۔
پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی کیوں؟
پاکستان کے لیے اصل خطرہ صرف عالمی گندم کی قیمت نہیں۔ مہنگا ایندھن، کھاد، چینی، خوردنی تیل اور عالمی شپنگ لاگت ایک ساتھ دباؤ بڑھا سکتے ہیں۔
اسی طرح ال نینو کے باعث خطے میں موسم کی بے ترتیبی بھی اہم خطرہ ہے۔
واضح رہے کہ عالمی موسمیاتی تنظیم نے برصغیر میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔
عالمی منڈی کا یہ بحران اگر طویل ہوا تو اس کا اثر صرف تجارتی اسکرینوں پر نظر نہیں آئے گا، بلکہ اس کی آخری منزل عام آدمی کا باورچی خانہ ہوسکتی ہے، جہاں روٹی سے چینی تک ہر بنیادی چیز کی قیمت پہلے ہی حساس مسئلہ بنی ہوئی ہے۔