تیل کی دولت سے پہچانا جانے والا سعودی عرب اب ایک نئی شناخت دنیا کے سامنے فخر سے پیش کر رہا ہے۔
مزید پڑھیں
اس بار مملکت میں تیل نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت، اسٹارٹ اپس، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی سرمایہ نظر آ رہا ہے۔
اس تبدیلی کی بڑی جھلک 31 اگست تا 3 ستمبر ریاض میں ہونے والے LEAP 2026 میں دکھائی دے گی۔
سعودی عرب کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پانچویں لیپ میں 1,800 سے زیادہ عالمی ٹیکنالوجی برانڈز، 600 سے زائد اسٹارٹ اپس،
ایک ہزار سے زیادہ مقررین اور 1,900 سے زائد سرمایہ کار شریک ہوں گے۔
اے آئی کی دنیا ریاض میں کیوں جمع ہو رہی ہے؟
+
اے آئی کی دنیا ریاض میں کیوں جمع ہو رہی ہے؟
لیپ 2026 میں 1,800 سے زائد عالمی ٹیک کمپنیوں اور 1,900 انویسٹرز کا ریاض پہنچنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سعودی عرب خطے میں مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کا مرکز بن چکا ہے۔
ڈیپ فیسٹ (DeepFest) کا خصوصی فوکس
جنریٹو اے آئی، روبوٹکس، ماڈل گورننس اور سمارٹ سیکیورٹی پر مرکوز سیشنز جن میں دنیا کے ٹاپ محققین اور ڈویلپرز شریک ہیں۔
اربوں ڈالر کے وینچر کیپیٹل فنڈز
بین الاقوامی سرمایہ کار اور خودمختار دولت فنڈز امید افزا اے آئی اسٹارٹ اپس اور کلاؤڈ انفراسٹرکچر میں فنڈنگ کے لیے متحرک ہیں۔
میگا اسمارٹ سٹیز کی ضروریات
نیوم اور دیگر اسمارٹ اربن پراجیکٹس کے لیے ریئل ٹائم اے آئی الگورتھمز اور خودمختار سسٹمز کے عملی نفاذ کی کھوج۔
عالمی سطح پر ٹیکنالوجی شراکت داری
مملکت صرف کنزیومر بننے کے بجائے عالمی کمپنیوں کے ریجنل ہیڈ کوارٹرز اور ڈیٹا سینٹرز کو ریاض منتقل کروانے میں کامیاب ہو رہی ہے۔
5 days. 5th edition. One Giant LEAP.
— LEAP (@LEAPandInnovate) August 26, 2026
The future returns to Riyadh in just five days. Are you ready?#LEAP2026 🚀 pic.twitter.com/ZRVUEtGyEN
اس موقع پر منتظمین 2 لاکھ ایک ہزار سے زیادہ شرکا کی آمد بھی متوقع قرار دے رہے ہیں۔
Innovation doesn’t stop at one destination.
— LEAP (@LEAPandInnovate) July 26, 2026
Next stop: Riyadh. 🇸🇦
See you in Riyadh from 31 August – 3 September for LEAP’s 5th edition.
Register now via link in bio.
سجّلوا الآن!
نحو مستقبل التقنية…
نلتقي بكم في الرياض، حيث يجتمع قادة الابتكار من حول
العالم.
31 أغسطس –… pic.twitter.com/hUIFtv6IQt
اصل اہمیت نمائش نہیں، سرمایہ کاری ہے
لیپ کو صرف نئی ٹیکنالوجی دکھانے والی نمائش سمجھنا اس کی اصل اہمیت کو نظرانداز کرنا ہوگا۔
سعودی عرب تیل کی معیشت سے آگے بڑھ کر ریاض میں لیپ 2026 کے ذریعے دنیا بھر کے ہزاروں ٹیک برانڈز اور سرمایہ کاروں کو اے آئی کے عالمی مرکز پر جمع کر رہا ہے۔
دنیا بھر سے پالیسی ساز، ٹیکنالوجی ماہرین اور کاروباری نمائندے 4 روزہ کانفرنس میں شرکت کریں گے۔
سعودی مارکیٹ اور ابھرتے ہوئے خطوں میں جدید ٹیکنالوجی منصوبوں کی مالی معاونت کے لیے جمع ہوں گے۔
فن ٹیک، ہیلتھ ٹیک اور روبوٹکس سمیت جدید شعبوں کے تخلیقی کاروباری ماڈلز کی نمائش کی جائے گی۔
ڈیپ فیسٹ کے تحت جنریٹو اے آئی اور روبوٹکس کو روزمرہ کاروباری آپریشنز سے جوڑنے پر خصوصی مکالمہ ہوگا۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
ریاض میں ایک ہی جگہ ٹیک کمپنیوں، اسٹارٹ اپس، سرمایہ کاروں، پالیسی سازوں اور عالمی ماہرین کو جمع کرنا سعودی عرب کے وژن 2030 حکمت عملی کا حصہ ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق مملکت ڈیجیٹل اکانومی کو وسعت دے کر معیشت کے نئے شعبے کھولنا اور سعودی عرب کو ٹیکنالوجی، اے آئی اور اختراع کا عالمی مرکز بنانا چاہتی ہے۔
🏛️
تیل سے ٹیکنالوجی تک: مملکت کا بڑا منصوبہ
وژن 2030
تیل سے ٹیکنالوجی تک: مملکت کا بڑا منصوبہ
🎯 وژن 2030 اور آمدنی کے نئے ذرائع
سعودی عرب کا اسٹریٹجک ہدف خام تیل کی برآمد پر تاریخی انحصار کو ختم کر کے نالج بیسڈ ڈیجیٹل اکانومی، کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور جدید مینوفیکچرنگ کو جی ڈی پی کا مرکزی محرک بنانا ہے۔
1۔ ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میں ریاستی سرمایہ کاری
قومی ڈیٹا سینٹرز، فائیو جی نیٹ ورکس اور ہائپر اسکیلرز کے قیام کے لیے پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (PIF) کے اربوں ڈالر مختص۔
2۔ قانون سازی اور سرمایہ کار دوست اصلاحات
ٹیک کمپنیوں کے لیے ٹیکس مراعات، آسان ویزا پالیسی اور دانشورانہ املاک کے تحفظ کے جدید قوانین کا نفاذ۔
3۔ مقامی ہنر مندی اور نوجوانوں کی تربیت
سعودی یوتھ کو پروگرامنگ، سائبر سیکیورٹی اور ڈیٹا اینالیٹکس میں بااختیار بنا کر مستقبل کے کلیدی عہدوں پر فائز کرنا۔
مصنوعی ذہانت سب سے بڑی کشش
اس سال توجہ کا بڑا مرکز DeepFest ہوگا، اس میں جنریٹو اے آئی، روبوٹکس، اے آئی گورننس، سیکیورٹی اور پائیداری جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔
اس کا مقصد صرف مستقبل کی باتیں کرنا نہیں بلکہ یہ دکھانا بھی ہے کہ اے آئی حقیقی کاروبار اور روزمرہ زندگی میں کہاں استعمال ہو رہی ہے۔
پاکستانی نوجوانوں اور ٹیک کمپنیوں کے لیے مواقع
آئی ٹی برآمدات
پاکستانی نوجوانوں اور ٹیک کمپنیوں کے لیے مواقع
💻 روایتی لیبر سے ہائی ٹیک مہارتوں کی طرف منتقلی
خلیجی جاب مارکیٹ میں روایتی تعمیراتی اور غیر ہنر مند ملازمتوں کے بجائے سافٹ ویئر ڈویلپرز، کلاؤڈ انجینئرز، فن ٹیک ماہرین اور اے آئی پروفیشنلز کی زبردست مانگ پیدا ہو رہی ہے۔
🚀 پاکستانی سافٹ ویئر ہاؤسز کی توسیع
پاکستانی آئی ٹی کمپنیوں کے لیے سعودی مارکیٹ میں سرکاری و نجی پراجیکٹس کے ٹھیکے حاصل کرنے اور جوائنٹ وینچرز کے وسیع دروازے کھل رہے ہیں۔
💵 فری لانسرز اور ریموٹ جابز کا کیش فلو
سعودی اسٹارٹ اپس پاکستانی فری لانسرز کو پراجیکٹ بیسڈ کنٹریکٹس دے رہے ہیں جس سے پاکستان میں آئی ٹی ترسیلاتِ زر میں تیز اضافے کا امکان ہے۔
بین الاقوامی کانفرنس کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ فن ٹیک، ہیلتھ ٹیک، اسمارٹ سٹیز، گیمنگ، اسپورٹس ٹیکنالوجی اور ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر سمیت متعدد شعبے اس کا حصہ ہوں گے۔
یہاں مجموعی طور پر 20 سے زیادہ موضوعاتی ٹریکس اور 300 گھنٹوں سے زیادہ کا مواد رکھا گیا ہے۔
🌐
ریاض عالمی ٹیکنالوجی کا مرکز کیسے؟
لیپ 2026ء کا حجم
ریاض عالمی ٹیکنالوجی کا مرکز کیسے؟
متوقع کل شرکا
دنیا بھر سے پالیسی سازوں، انجینئرز اور بانیوں کی شرکت۔
عالمی ٹیک برانڈز
مائیکروسافٹ، گوگل، آئی بی ایم سمیت سرکردہ کمپنیوں کے اسٹالز۔
ابھرتے ہوئے اسٹارٹ اپس
فن ٹیک، ہیلتھ ٹیک اور ایگری ٹیک کے انوویٹو پروڈکٹس۔
عالمی برانڈ کی توسیع: 2022 میں ریاض سے شروع ہونے والا لیپ اب ہانگ کانگ (LEAP East) تک پھیل چکا ہے، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ سعودی عرب ٹیکنالوجی کے ایجنڈے کو عالمی سطح پر لیڈ کر رہا ہے۔
’ریاض‘ اب صرف خریدار نہیں ہے
لیپ 2026 کی یہی بڑی معاشی کہانی ہے کہ سعودی عرب عالمی ٹیکنالوجی کا صرف خریدار بننے کے بجائے سرمایہ، کمپنیوں، ماہرین اور نئی ٹیکنالوجی کو اپنے ہاں کھینچنے کی کوشش کر رہا ہے۔
2022 میں ریاض سے شروع ہونے والا لیپ اب ہانگ کانگ میں LEAP East تک پہنچ چکا ہے۔ اس طرح ایک سعودی کانفرنس آہستہ آہستہ بین الاقوامی ٹیکنالوجی پلیٹ فارم بن رہی ہے۔
🔮
لیپ کے بعد سعودی ٹیک معیشت کہاں جائے گی؟
◀
لیپ کے بعد سعودی ٹیک معیشت کہاں جائے گی؟
📈 کلاؤڈ اور مینوفیکچرنگ اکانومی
لیپ کے معاہدوں کے بعد سعودی عرب مڈل ایسٹ کا سب سے بڑا اے آئی کلاؤڈ ہب بن جائے گا جہاں عالمی سیمی کنڈکٹر اور ڈیٹا ہوسٹنگ کمپنیوں کے پلانٹس کام کریں گے۔
🦄 مقامی یونیکورن اسٹارٹ اپس کا ظہور
سرمایہ کاری کے نتیجے میں فن ٹیک اور ہیلتھ کیئر کے شعبوں میں اربوں ڈالر مالیت کے سعودی نژاد اسٹارٹ اپس عالمی مارکیٹ میں مدمقابل ہوں گے۔
حتمی خلاصہ: لیپ محض 4 دن کی تقریب نہیں بلکہ سعودی عرب کی معاشی خود انحصاری اور مشرقِ وسطیٰ کو سلیکون ویلی جیسا عالمی ٹیک مرکز بنانے کا ایک پائیدار اور طویل مدتی روڈ میپ ہے۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے بھی اس تبدیلی میں ایک واضح پیغام ہے کہ مستقبل کی خلیجی معیشت میں مواقع صرف تیل، تعمیرات اور روایتی ملازمتوں تک محدود نہیں رہیں گے۔
اے آئی، سافٹ ویئر، فن ٹیک، سائبر سیکیورٹی اور ڈیجیٹل مہارتیں نئے دروازے کھول رہی ہیں اور ریاض اس نئی دوڑ میں اپنی جگہ تیزی سے بنا رہا ہے۔