غزہ میں چاروں طرف تباہ عمارتیں اور ملبے کے درمیان ایک چھوٹا سا فٹبال میدان ہے اور اس میں فلسطینی نوجوان گیند کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
بظاہر یہ کھیل کی ایک عام تصویر ہے، مگر فرانس پہنچ کر یہی تصویر ایک بڑے سیاسی تنازع میں بدل گئی۔
فلسطینی فوٹو جرنلسٹ جہاد الشرافی نے ایسوسی ایٹڈ پریس کے لیے یہ منظر 14 فروری 2026 کو غزہ شہر میں محفوظ کیا تھا۔ تصویر میں جنگ کی تباہی بھی دکھائی دیتی ہے اور اس کے بیچ زندگی جاری رکھنے کی فلسطینی کوشش بھی۔
📷
ملبے کے بیچ فٹبال: تصویر کی پوری کہانی کیا ہے؟
+
ملبے کے بیچ فٹبال: تصویر کی پوری کہانی کیا ہے؟
یہ تصویر محض کھیل کا ایک فریم نہیں بلکہ بمباری سے تباہ حال غزہ میں زندگی، امید اور مزاحمت کی زندہ علامت ہے۔ ایک طرف راکھ بنی بلند و بالا عمارتیں ہیں اور دوسری طرف مٹی پر گیند کے پیچھے دوڑتے پرعزم نوجوان۔
14 فروری کا تاریخی منظر
فلسطینی فوٹو جرنلسٹ جہاد الشرافی نے ایسوسی ایٹڈ پریس (AP) کے لیے غزہ شہر کے ملبے میں کھیلے جانے والے اس مقابلے کو اپنے کیمرے میں محفوظ کیا۔
فرانسیسی فوٹو فیسٹیول کا حصہ
تصویر کو فرانس کے شہر دوفیل میں منعقدہ بین الاقوامی اسپورٹس فوٹوگرافی نمائش میں 6 ستمبر تک عام نمائش کے لیے چنا گیا تھا۔
دباؤ پر اچانک بیدخلی
اسرائیل نواز کارکنوں کی شدید مہم اور بلدیہ کے دباؤ کے بعد منتظمین نے تنازع سے بچنے کے بہانے تصویر ہٹا کر سائیکلنگ کا فریم لگا دیا۔
سینسرشپ کے بعد عالمی گونج
تصویر ہٹائے جانے کے اقدام نے الٹا اثر دکھایا اور یہ منظر یورپ، امریکہ اور مشرقِ وسطیٰ میں کروڑوں صارفین تک وائرل ہو گیا۔
کھیل کی تصویر یا سیاسی خطرہ؟
فرانسیسی اخبار لومانیٹے کے مطابق یہ تصویر فرانس کے دوفیل اسپورٹس فوٹو فیسٹیول میں 6 ستمبر تک نمائش کا حصہ رہنا تھی، لیکن پھر اسرائیل کے حامی کارکنوں نے اس کے خلاف مہم شروع کردی۔
بالآخر منتظمین نے تصویر ہٹا کر اس کی جگہ سائیکل سواروں کی تصویر لگا دی۔ دوفیل بلدیہ کا مؤقف تھا کہ وہ تنازع پیدا کرنا یا کسی کے جذبات مجروح کرنا نہیں چاہتی۔
فرانسیسی اسپورٹس فیسٹیول سے غزہ کے ملبے میں فٹبال کھیلتے نوجوانوں کی تصویر ہٹانے پر اسرائیل نواز دباؤ اور یورپی سیاست کا دوہرا معیار بے نقاب ہو گیا۔
فلسطینی فوٹو جرنلسٹ جہاد الشرافی نے غزہ کے ملبے میں نوجوانوں کے فٹبال کھیلنے اور زندگی کی امید کا منظر محفوظ کیا۔
فرانسیسی نمائش کے منتظمین نے اسرائیل نواز مہم کے آگے جھکتے ہوئے تصویر ہٹا کر اس کی جگہ عام سائیکل سواروں کی تصویر لگا دی۔
یورپی پارلیمنٹ کے ارکان اور عالمی تجزیہ کاروں نے اسے شرمناک اقدام قرار دیا جس سے تصویر دنیا بھر میں وائرل ہو گئی۔
اکتوبر 2023 سے اب تک سینکڑوں ایتھلیٹس اور اسپورٹس انفراسٹرکچر کو نشانہ بنا کر کھیل کی تمام سرگرمیاں مفلوج کر دی گئیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
اس وضاحت نے معاملہ ٹھنڈا کرنے کے بجائے مزید بھڑکا دیا۔ ناقدین کا سوال تھا کہ ملبے میں فٹبال کھیلتے نوجوانوں کی تصویر آخر کس کے جذبات کے لیے خطرہ تھی؟
Le festival de photo de sport de Deauville cède aux pressions pro-israéliennes et retire une photo prise à Gaza
— L'Humanité (@humanite_fr) August 24, 2026
➡️ https://t.co/BkRgF16nYz pic.twitter.com/Y891QFcjqd
⚡
ایک تصویر سے اتنا خوف کیوں؟
خوف کی وجوہات
ایک تصویر سے اتنا خوف کیوں؟
1۔ فلسطینیوں کے انسانی روپ کا اعتراف
تصویر ثابت کرتی ہے کہ بے رحم بمباری اور محاصرے کے باوجود غزہ کے باسی عام انسان ہیں جو زندہ رہنے، کھیلنے اور مسکرانے کا بنیادی حق رکھتے ہیں، جو جارحانہ جنگی پروپیگنڈے کو جھٹلاتا ہے۔
2۔ جنگی تباہی کا خاموش ثبوت
پس منظر میں گرائی گئی بلند و بالا عمارتوں کا ملبہ مغربی ناظرین کے سامنے غزہ کی ہولناک بربادی کو بغیر کسی لفظ کے بے نقاب کرتا ہے۔
3۔ مزاحمت اور ناقابلِ شکست جذبہ
بندوق اور بارود کے سامنے فٹبال کا کھیل اس عزم کو ظاہر کرتا ہے کہ فلسطینی قوم کو اپنے وجود اور زمین سے محروم نہیں کیا جا سکا۔
4۔ مغربی ہمدردی اور رائے عامہ کا دباؤ
تصویر کا آرٹ گیلری میں لگنا عام یورپی شہریوں میں فلسطینیوں کے لیے شدید جذباتی اور انسانی ہمدردی بیدار کرنے کا باعث بن رہا تھا۔
تصویر ہٹی مگر کہانی پھیل گئی
فرانسیسی سوشلسٹ پارٹی کے مقامی رہنما سیلوان لارشے نے تصویر ہٹائے جانے پر سوال کیا کہ امید اور زندہ رہنے کی خواہش دکھانے والی تصویر کیوں ہٹائی گئی؟
اس دوران تصویر کے خلاف مہم چلانے والے مائیک کریف نے کامیابی پر فخر کا اظہار بھی کیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر 6 لاکھ 34 ہزار ویوز کا حوالہ دیتے ہوئے ردعمل کا مذاق اڑایا۔
This image of a football match in Gaza was removed from a sports photography festival in France, following Israeli pressure. pic.twitter.com/pBugj5Cllk
— Alan MacLeod (@AlanRMacLeod) August 24, 2026
کریف نے خود کو’اسرائیل نواز کارکن‘ کہنے پر بھی اعتراض کیا اور اپنے لیے ’انتہائی شدت پسند صہیونی‘ کی اصطلاح فخر کے ساتھ استعمال کی۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جس تصویر کو خاموشی سے نمائش سے ہٹایا گیا تھا، وہ پہلے سے کہیں زیادہ لوگوں تک پہنچ گئی۔
تصویر ہٹائی گئی، مگر دنیا بھر میں پھیل گئی
▼
تصویر ہٹائی گئی، مگر دنیا بھر میں پھیل گئی
🚫 1۔ گیلری سے ہٹانے کا خفیہ فیصلہ
دوفیل بلدیہ اور منتظمین نے تنازع سے بچنے کے لیے تصویر دیوار سے اتار کر اسے عوامی نظروں سے اوجھل کرنے کی کوشش کی۔
📱 2۔ سوشل میڈیا پر تاریخی وائرل ردعمل
پابندی لگتے ہی لاکھوں صارفین، صحافیوں اور بین الاقوامی شخصیات نے تصویر کو اپنی والز پر شیئر کر کے عالمی ٹرینڈ بنا دیا۔
📢 3۔ اسٹرائسینڈ ایفیکٹ (Streisand Effect)
جس تصویر کو چند سو افراد نے فرانسیسی گیلری میں دیکھنا تھا، سنسرشپ کی بدولت وہ دنیا بھر کے کروڑوں ناظرین تک پہنچ گئی۔
نتیجہ: سچائی کو دبانے کی کوشش نے تصویر کو اور زیادہ طاقتور بنا دیا، اور غزہ کے کھنڈرات میں فٹبال کھیلتے بچوں کا عزم عالمی یکجہتی کا بین الاقوامی استعارہ بن گیا۔
L’invisibilisation du peuple palestinien jusque dans les arts.
— Emma Fourreau (@emma_frr) August 24, 2026
Même l’image de jeunes Palestiniens jouant au football au milieu des ruines de Gaza dérange.
Retirer la photographie de Jehad Alshrafi du Deauville Sport Images Festival est une décision indigne. Les organisateurs… pic.twitter.com/uVdVshFrd8
یورپ سے امریکا تک ردعمل
یہ تنازع بہت تیزی کے ساتھ فرانس کی حدود سے باہر نکل گیا۔ یورپی پارلیمنٹ کی رکن ایما فورو نے منتظمین اور بلدیہ سے باضابطہ جواب مانگا اور فنون میں بھی فلسطینیوں کو نظروں سے اوجھل کرنے کی کوشش کو شرمناک قرار دیا۔
یورپی پارلیمنٹ کے سابق رکن مک والیس نے اسے یورپی سیاست پر صہیونی اثرورسوخ سے جوڑا۔
🌍
یورپ سے امریکا تک: کس نے کیا کہا؟
+
یورپ سے امریکا تک: کس نے کیا کہا؟
تصویر ہٹائے جانے کے اقدام نے بین الاقوامی سطح پر شدید ردِعمل کو جنم دیا، جہاں سیاست دانوں، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور ماہرین نے اسے اظہارِ رائے اور فن پر سنگین حملہ قرار دیا۔
ایما فورو (رکن یورپی پارلیمنٹ)
انہوں نے منتظمین کے اقدام کو شرمناک قرار دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا اب یورپی فنون کی نمائشوں میں فلسطینیوں کا وجود دکھانا بھی جرم بن چکا ہے؟
ڈاکٹر جل اسٹائن (سابق صدارتی امیدوار)
امریکی سیاست دان نے طنزیہ انداز میں اس سنسرشپ کو 'اسرائیلی طرز کی نام نہاد آزادیِ صحافت' کا کھلا ثبوت قرار دیا۔
مک والیس (سابق یورپی رکن پارلیمنٹ)
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ یورپی ثقافتی و سیاسی اداروں پر صیہونی لابی کے گہرے اثر و رسوخ اور دباؤ کی واضح علامت ہے۔
سیلوان لارشے (فرانسیسی رہنما)
فرانسیسی سوشلسٹ پارٹی کے رہنما نے برہمی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ امید، حوصلے اور زندگی کا جذبہ بیدار کرنے والی تصویر ہٹانا ناقابلِ فہم ہے۔
اس کے علاوہ امریکا کی سابق صدارتی امیدوار جل اسٹائن نے طنزیہ انداز میں اس متنازع واقعے کو ’اسرائیلی طرز کی آزادیِ صحافت‘ قرار دیا۔
عرب اور غیر ملکی صحافیوں اور بلاگرز نے بھی جواب میں اس تصویر کو بڑے پیمانے پر شیئر کرنا شروع کردیا۔ صحافی لیلیٰ حامد نے سوال اٹھایا کہ غزہ کے باقی ماندہ چند میدانوں میں سے ایک کی تصویر دکھانا بھی ناقابل قبول کیوں بن گیا؟
Zionism rules in France, as it does with most of the Political Class all across Europe where exposing the Truth is not tolerated anymore...#FreePalestine https://t.co/7C8B68rCRQ
— Mick Wallace (@wallacemick) August 24, 2026
⚖️
تصویر پر پابندی یا فلسطینی کہانی پر پردہ؟
◀
تصویر پر پابندی یا فلسطینی کہانی پر پردہ؟
🎭 مغربی لبرل ازم کا دہرا معیار
ماہرِ تعلیم زیکری فوسٹر کے مطابق معصوم نوجوانوں کو صرف فٹبال کھیلتے دکھانے پر بھی صیہونی لابی کی جانب سے یہود دشمنی کا الزام لگانا مغرب کے دہرے معیار کا عکاس ہے۔
🧹 بصری شناخت کو مٹانے کی کوشش
ناقدین کا کہنا ہے کہ اصل ہدف تصویر نہیں بلکہ فلسطینی قوم کی ثقافت، استقامت اور ان کی بقا کی کہانی کو مغربی معاشرے کی یادداشت سے کھرچنا ہے۔
تجزیاتی خلاصہ: یہ تنازع ثابت کرتا ہے کہ کیمرے کی ایک سچی آنکھ جنگی محاذ سے زیادہ طاقتور ہو سکتی ہے، کیونکہ وہ جھوٹے پروپیگنڈے کے پردے چاک کر کے مظلوم کی اصل حقیقت دنیا کے سامنے لاتی ہے۔
’اب وہ میدان پر بمباری کریں گے‘
ماہر تعلیم زیکری فوسٹر نے اس معاملے کو دہرے معیار کی مثال قرار دیا۔ ان کے نزدیک فلسطینیوں کو فٹبال کھیلتے دکھانے جیسی تصویر کو بھی یہود دشمنی کے تناظر میں دیکھنا اسی تضاد کو ظاہر کرتا ہے۔
کچھ کارکنوں نے اس سے بھی زیادہ تلخ خدشہ ظاہر کیاکہ اب جب یہ میدان دنیا کی نظروں میں آچکا ہے تو اسرائیلی فوج کہیں اسے بھی نشانہ نہ بنا دے۔
Press freedom Israeli style. https://t.co/pNvAVqrgVB
— Dr. Jill Stein🌻 (@DrJillStein) August 24, 2026
یہ خدشہ اس لیے بھی اہم ہے کہ فلسطینی کھیل اور میدان پہلے ہی جنگ کی بھاری قیمت ادا کر چکے ہیں۔
⚠️
’اب میدان پر بمباری ہوگی!‘ خدشہ کیوں اٹھا؟
◀
’اب میدان پر بمباری ہوگی!‘ خدشہ کیوں اٹھا؟
⚽ 400 فلسطینی ایتھلیٹس کی شہادت
فلسطینی اولمپک کمیٹی کے مطابق جنگ کے دوران اب تک 400 سے زائد کھلاڑی اور اسپورٹس آفیشلز اسرائیلی حملوں میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
🏟️ اسپورٹس انفراسٹرکچر کی منظم بربادی
غزہ اور مغربی کنارے کے تقریباً تمام بڑے اسٹیڈیمز، کلبز اور ٹریننگ گراؤنڈز کو بمباری کر کے کھنڈر اور ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کیا جا چکا ہے۔
خوف کا پسِ منظر: انسانی حقوق کے کارکنوں کو شدید اندیشہ ہے کہ بین الاقوامی توجہ حاصل کرنے کے بعد اسرائیلی فوج اس آخری باقی ماندہ کچے میدان کو بھی نشانہ بنا کر نوجوانوں سے کھیل اور امید کا یہ آخری سہارا بھی نہ چھین لے۔
غزہ میں کھیل بھی جنگ سے محفوظ نہیں
فلسطینی اولمپک کمیٹی کے اندازوں کے مطابق اکتوبر 2023 سے غزہ اور مغربی کنارے میں جاری اسرائیلی کارروائیوں کے دوران 400 فلسطینی کھلاڑی جان سے جاچکے ہیں۔
کھیلوں کی تنصیبات کی وسیع پیمانے پر تباہی نے کھلاڑیوں کی سرگرمیوں کو بھی مکمل طور پر مفلوج کردیا ہے۔
Voici la photo supprimée de l’exposition du Deauville Sport Images Festival.
— Mr. Propagande (@MrPropagande) August 24, 2026
N'hésitez pas à la partager.
📷(AP Photo/Jehad Alshrafi) https://t.co/SNYHExHfR5 pic.twitter.com/bWTHqvXKKC
اسی پس منظر میں جہاد الشرافی کی یہ تصویر صرف فٹبال میچ کا منظر نہیں رہتی۔ ایک طرف تباہ عمارتیں ہیں، دوسری طرف گیند کے پیچھے دوڑتے نوجوان۔
شاید اسی تضاد نے تصویر کو اتنا طاقتور بنایا کہ اسے نمائش سے تو ہٹا دیا گیا، مگر روکنے کی کوشش نے ملبے کے درمیان کھیلتے فلسطینیوں کا منظر پوری دنیا کے سامنے اور زیادہ نمایاں کردیا۔
A sports festival in France removed a photo showing Gaza’s destruction (one of the few football pitches still standing) because Israelis didn’t like being confronted with the aftermath of their genocide. https://t.co/S0RicX4vCc
— Leyla Hamed (@leylahamed) August 24, 2026