غزہ پر مسلط اسرائیلی جنگ اور فلسطینیوں کی نسل کشی کو 1000 دن مکمل ہو چکے ہیں۔
مزید پڑھیں
اس طویل عرصے میں صرف قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہی نہیں ہوا، بلکہ صدیوں پرانی تاریخی و مذہبی عمارتیں بھی اسرائیلی فضائی حملوں کی نذر ہو چکی ہیں۔
مذہبی مقامات کی تباہی
غزہ کی وزارتِ اوقاف کے مطابق جنگ سے قبل علاقے میں کل 1275 مساجد موجود تھیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی جارحیت میں 1050 مساجد مکمل طور پر تباہ جبکہ 191 کو جزوی نقصان پہنچا ہے۔ 10 اکتوبر 2025 کو معاہدے کے باوجود حملوں کا سلسلہ آج بھی کہیں نہ کہیں جاری ہے۔
تاریخی مساجد کا خاتمہ
غزہ کی قدیم ترین عمارت’’المسجد العمری الکبیر‘ بھی تباہی کی زد میں آ چکی ہے۔ 4100 مربع میٹر پر پھیلی ہوئی یہ مسجد اپنے 38 ستونوں کے ساتھ ایک تاریخی ورثہ تھی۔
اسی طرح مسجد سید ہاشم، جہاں حضرت محمدﷺ کے پردادا کا مزار ہے، کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا۔
مملوک دور کے فن تعمیر کا خاتمہ
مملوک دور کے فن تعمیر کا شاہکار مسجدِ کاتب ولایہ اور مسجد ابن عثمان اب ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں۔
ابن عثمان مسجد میں 1446 میں وفات پانے والے امیر سیف الدین یلخجا کا مزار بھی تھا، جو ان تاریخی مقامات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔
اہم آثار قدیمہ اور مساجد
مسجد علی بن مروان، مسجد الظفر دمری، جامع المحکمہ، مسجد الست رقیہ اور مسجد الشیخ عثمان قشقار جیسے قدیم مقامات بھی اسرائیلی بمباری سے محفوظ نہ رہ سکے۔
خان یونس کی سب سے بڑی مسجد بھی ان حملوں کی نذر ہو کر مکمل تباہی کا شکار ہو چکی ہے۔
گرجا گھروں پر حملے اور انسانی المیہ
مساجد کی طرح غزہ کے تاریخی گرجا گھر بھی اب محفوظ نہیں رہے۔
کلیسائے مقدسہ، پانچویں صدی کا قدیم کلیسائے سینٹ پورفیریوس اور کلیسائے المعمدانی پر حملے کیے گئے۔ خاص طور پر المعمدانی اسپتال کے صحن میں ہونے والے حملے میں 500 افراد جاں بحق ہوئے، جو تاریخ کی بدترین مجرمانہ کارروائیوں میں شمار ہوتا ہے۔
جنگ کے مجموعی اثرات اور انسانی جانی نقصان
اکتوبر 2023 سے جاری اس جنگ میں اب تک 73 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور 1 لاکھ 73 ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق غزہ کا 90 فیصد شہری انفرا اسٹرکچر اسرائیلی بمباری سے مکمل طور پر تباہ یا ناقابل استعمال ہو چکا ہے۔
یہ صورتحال محض عمارتوں کا نقصان نہیں، بلکہ ایک ایسی تہذیبی اور مذہبی میراث کا خاتمہ ہے جو صدیوں سے غزہ کی پہچان تھی۔
انسانی تاریخ کے یہ اہم مقامات اب صرف ملبے کی شکل میں باقی ہیں، جو بین الاقوامی برادری کی خاموشی اور جنگی تباہ کاریوں کی خاموش گواہی دے رہے ہیں۔