امریکی سرکاری قرض پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔
اصل خطرہ یہ نہیں کہ امریکا کو قرض دینے والے ختم ہوگئے، بلکہ یہ ہے کہ سرمایہ کار اب پہلے سے زیادہ شرحِ منافع مانگ رہے ہیں۔
چین کی امریکی بانڈز میں سرمایہ کاری کم ہوئی ہے، طویل مدتی بانڈ ییلڈ تقریباً دو دہائیوں کی بلند سطحوں پر ہے اور قرض پر سود خود امریکی بجٹ کے سب سے بڑے اخراجات میں شامل ہوگیا ہے۔
امریکا کا مجموعی سرکاری قرض پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر کی حد عبور کرچکا ہے، لیکن مسئلہ صرف اس بڑے عدد تک محدود نہیں۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اب ایک زیادہ اہم سوال سامنے آرہا ہے:
امریکا کو قرض دیتا کون رہے گا، اور کس قیمت پر؟
امریکی وزارتِ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق 18 اگست 2026 کو مجموعی امریکی سرکاری قرض 40.047 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔
اس میں تقریباً 32.266 ٹریلین ڈالر وہ قرض ہے جو سرمایہ کاروں اور عوام کے پاس موجود سکیورٹیز کی شکل میں ہے، جبکہ تقریباً 7.782 ٹریلین ڈالر امریکی سرکاری اداروں کے درمیان داخلی قرض ہے۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTامریکی قرض 40 ٹریلین ڈالر — اہم نکات ⌄
- ✓امریکا کا مجموعی سرکاری قرض پہلی بار 40.047 ٹریلین ڈالر تک پہنچ گیا۔
- ✓جنوری 2017 میں قرض تقریباً 19.95 ٹریلین ڈالر تھا؛ یعنی ایک دہائی سے بھی کم عرصے میں تقریباً دوگنا ہوگیا۔
- ✓10 سالہ ٹریژری بانڈ کی نیلامی میں ییلڈ 4.683 فیصد رہی، جو 19 سال کی بلند ترین سطح تھی۔
- ✓30 سالہ بانڈ کی نیلامی میں ییلڈ 5.216 فیصد تک پہنچی، جو 25 سال کی بلند ترین سطح تھی۔
- !غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاس جون میں تقریباً 9.299 ٹریلین ڈالر کے امریکی ٹریژری بانڈز تھے۔
- !اصل خطرہ خریداروں کا غائب ہونا نہیں، بلکہ امریکا کے لیے قرض کی بڑھتی ہوئی قیمت ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ واشنگٹن کو نہ صرف موجودہ کھربوں ڈالر کے بانڈز کے لیے خریداروں کی ضرورت ہے بلکہ بجٹ خسارہ پورا کرنے اور میچور ہونے والے قرض کی ادائیگی کے لیے مسلسل نئے بانڈز بھی جاری کرنا پڑتے ہیں۔
مزید پڑھیں
10 سال سے بھی کم عرصے میں قرض دوگنا
امریکی قرض میں اضافے کی رفتار اس وقت زیادہ واضح ہوتی ہے جب موجودہ اعداد کا موازنہ جنوری 2017 سے کیا جائے۔
اس وقت امریکا کا مجموعی قرض تقریباً 19.95 ٹریلین ڈالر تھا۔
اس کا مطلب ہے کہ 10 سال مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ قرض تقریباً دوگنا ہوچکا ہے۔
رائٹرز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے ادوارِ صدارت میں اب تک امریکی قرض میں تقریباً 11.6 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ جو بائیڈن کے دور میں یہ اضافہ تقریباً 8.4 ٹریلین ڈالر رہا۔
قرض میں تیز اضافے کی ایک بڑی وجہ کورونا وبا کے دوران غیر معمولی حکومتی اخراجات تھے، لیکن وبا ختم ہونے کے بعد بھی مسئلہ ختم نہیں ہوا۔
امریکی حکومت کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان فرق مسلسل بہت بڑا رہا۔
صرف جولائی میں امریکا نے 432 ارب ڈالر کا ماہانہ بجٹ خسارہ ریکارڈ کیا، جو ملکی تاریخ کا چوتھا سب سے بڑا ماہانہ خسارہ تھا۔
i OVERSEAS POST | FACT BOX40 ٹریلین ڈالر: فیکٹ باکس ⌄
- مجموعی امریکی سرکاری قرض
- 40.047 ٹریلین ڈالر
- عوام اور سرمایہ کاروں کے پاس قرض
- 32.266 ٹریلین ڈالر
- سرکاری اداروں کے درمیان داخلی قرض
- تقریباً 7.782 ٹریلین ڈالر
- غیر ملکی ٹریژری ہولڈنگز
- 9.299 ٹریلین ڈالر
- جاپان کی ہولڈنگز
- 1.117 ٹریلین ڈالر
- برطانیہ کی ہولڈنگز
- 940 ارب ڈالر
- چین کی ہولڈنگز
- 633 ارب ڈالر
- رواں مالی سال میں سود کی ادائیگیاں
- تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر
مالی سال 2026 کے پہلے دس ماہ میں مجموعی خسارہ گزشتہ پورے مالی سال کے خسارے سے بھی بڑھ چکا تھا، حالانکہ مالی سال ختم ہونے میں ابھی دو ماہ باقی تھے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں اصل مسئلہ شروع ہوتا ہے۔
ہر نیا خسارہ نئے قرض کا تقاضا کرتا ہے، اور ہر نیا بانڈ کسی خریدار کا محتاج ہوتا ہے۔
امریکا کو قرض دیتا کون ہے؟
ایک طویل عرصے تک اس سوال کا جواب بہت آسان تھا: تقریباً پوری دنیا۔
امریکی ٹریژری بانڈز عالمی مالیاتی نظام کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔
مرکزی بینک، پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیاں، سرمایہ کاری فنڈز اور بڑے مالیاتی ادارے انہیں دنیا کے سب سے زیادہ محفوظ اور قابلِ فروخت اثاثوں میں شمار کرتے ہیں۔
امریکی سرمایہ کار اور مقامی مالیاتی ادارے اب بھی امریکی سرکاری قرض کے سب سے بڑے خریدار ہیں، جبکہ غیر ملکی سرمایہ کار بھی ایک بہت بڑا حصہ رکھتے ہیں۔
تاہم حالیہ اعداد و شمار کچھ اہم تبدیلیوں کی نشاندہی کررہے ہیں۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSIS40 ٹریلین ڈالر کا قرض کیوں اہم ہے؟ ⌄
امریکی قرض کا اثر صرف واشنگٹن کے بجٹ تک محدود نہیں؛ اس کی قیمت پوری عالمی مالیاتی منڈی میں منتقل ہوسکتی ہے۔
جون 2026 میں غیر ملکی سرمایہ کاروں کے پاس امریکی ٹریژری سکیورٹیز کی مجموعی مالیت تقریباً 9.299 ٹریلین ڈالر تھی، جبکہ مئی میں یہ رقم 9.371 ٹریلین ڈالر تھی۔
اگرچہ سالانہ بنیادوں پر یہ رقم اب بھی 2.3 فیصد زیادہ تھی، لیکن تین بڑے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے ایک ماہ کے دوران اپنی ہولڈنگز کم کیں۔
جاپان بدستور امریکی قرض کا سب سے بڑا غیر ملکی خریدار ہے، جس کے پاس تقریباً 1.117 ٹریلین ڈالر کے امریکی بانڈز موجود ہیں۔
اس کے بعد برطانیہ تقریباً 940 ارب ڈالر کے ساتھ دوسرے نمبر پر ہے، جبکہ چین کے پاس تقریباً 633 ارب ڈالر کے امریکی ٹریژری بانڈز ہیں۔
چین کا معاملہ خاص طور پر اہم ہے۔
امریکی بانڈز میں چینی سرمایہ کاری 2008 کے بعد کم ترین سطح پر آچکی ہے اور ایک سال کے دوران اس میں 13 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔
لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ چین یا باقی دنیا نے امریکا کو قرض دینا بند کردیا ہے۔
اصل تبدیلی اس سے زیادہ پیچیدہ ہے:
خریدار اب بھی موجود ہیں، لیکن وہ پہلے سے زیادہ منافع مانگ رہے ہیں۔
قرض مل رہا ہے، مگر قیمت بڑھ گئی
یہ تبدیلی حالیہ امریکی ٹریژری بانڈز کی نیلامیوں میں واضح طور پر نظر آئی۔
10 سالہ امریکی بانڈز کی ایک نیلامی میں حکومت کو 4.683 فیصد منافع دینا پڑا، جو اسی نوعیت کی نیلامی میں 19 سال کی بلند ترین شرح تھی۔
اسی طرح 30 سالہ بانڈز کی شرحِ منافع ایک نیلامی میں 5.216 فیصد تک پہنچ گئی، جو تقریباً 25 سال کی بلند ترین سطح تھی۔
ثانوی مارکیٹ میں 18 اگست کو 30 سالہ امریکی بانڈز کی ییلڈ 5.327 فیصد تک پہنچ گئی، جو 2007 کے بعد سب سے بلند سطح تھی۔
یہ اعداد ایک اہم حقیقت بیان کرتے ہیں۔
ابھی تک ایسا کوئی بحران پیدا نہیں ہوا جسے خریداروں کی مکمل بغاوت کہا جاسکے۔ سرمایہ کار امریکی بانڈز خریدنا بند نہیں کررہے۔
✓? OVERSEAS POST | VERIFIEDکیا مصدقہ ہے، اور 40 ٹریلین کا مطلب کیا نہیں؟ ⌄
مصدقہ معلومات
- امریکی وزارتِ خزانہ کے مطابق مجموعی سرکاری قرض 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے۔
- حالیہ بانڈ نیلامیوں میں طویل مدتی ییلڈ کئی دہائیوں کی بلند سطحوں تک پہنچی ہے۔
- جون میں غیر ملکی ٹریژری ہولڈنگز تقریباً 9.299 ٹریلین ڈالر رہیں۔
- چین کی ہولڈنگز کم ہوئی ہیں، مگر جاپان، برطانیہ، چین اور دوسرے سرمایہ کار اب بھی بڑے خریدار ہیں۔
- قرض پر سود امریکی وفاقی بجٹ کے سب سے بڑے اخراجات میں شامل ہوچکا ہے۔
تاحال غیر ثابت یا غیر واضح
- 40 ٹریلین ڈالر کا مطلب یہ نہیں کہ امریکا فوری طور پر دیوالیہ ہونے والا ہے۔
- یہ ثابت نہیں کہ دنیا نے امریکی بانڈز خریدنا چھوڑ دیا ہے؛ خریدار اب بھی موجود ہیں۔
- چینی ہولڈنگز میں کمی کو امریکی قرض کی مکمل فروخت یا بائیکاٹ نہیں کہا جاسکتا۔
- ٹریژری کی بانڈ بائی بیکس قرض کو منسوخ نہیں کرتیں؛ ان کا مقصد مارکیٹ کی لیکویڈیٹی بہتر کرنا ہے۔
- بلند ییلڈ اکیلے ڈالر کے عالمی ریزرو کردار کے خاتمے کا ثبوت نہیں۔
اہم احتیاط: 40 ٹریلین ڈالر ایک تاریخی اور اہم حد ہے، لیکن اسے ’امریکا کے دیوالیہ ہونے‘ یا ’بانڈ خریدار ختم ہونے‘ کے مترادف قرار دینا درست نہیں۔ اصل دباؤ قرض کی تیزی سے بڑھتی لاگت ہے۔
بلکہ بعض پنشن فنڈز، انشورنس کمپنیوں اور طویل مدتی سرمایہ کاروں کے لیے بلند شرحِ منافع امریکی بانڈز کو مزید پُرکشش بھی بناتی ہے۔
مگر مارکیٹ اب خطرے کی قیمت نئے انداز سے طے کررہی ہے۔
سادہ الفاظ میں:
دنیا اب بھی امریکا کو قرض دینے کے لیے تیار ہے، مگر اس قرض پر زیادہ سود مانگ رہی ہے۔
سود خود ایک بہت بڑا خرچ بن گیا
یہاں امریکا ایک مزید مشکل دائرے میں داخل ہوتا ہے۔
قرض جتنا زیادہ ہوگا، حکومت کو اتنا ہی زیادہ قرض لینا پڑے گا۔ اور شرحِ سود جتنی بلند ہوگی، موجودہ قرض کو دوبارہ فنانس کرنا اتنا ہی مہنگا ہوگا۔
کچھ حالات میں حکومت کو صرف قرض کی لاگت اور سود کی ادائیگی کے لیے بھی مزید قرض لینا پڑتا ہے۔
تازہ اعداد کے مطابق رواں مالی سال میں اب تک امریکی حکومت کی قرض پر سود کی ادائیگیاں تقریباً 1.2 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکی ہیں۔
اور مالی سال ابھی مکمل نہیں ہوا۔
مالی سال 2025 میں امریکی قرض پر سود کی لاگت پہلی بار وزارتِ دفاع کے مجموعی اخراجات سے بھی تجاوز کرگئی تھی۔
2026 کے پہلے دس ماہ میں سود امریکی وفاقی بجٹ کا دوسرا سب سے بڑا خرچ بن چکا تھا، جس سے زیادہ صرف سوشل سکیورٹی پر خرچ ہوا۔
یہاں تک کہ قرض پر سود کا خرچ Medicare پروگرام کے اخراجات سے بھی زیادہ ہوگیا۔
اس کا سادہ مطلب یہ ہے کہ امریکی ٹیکس سے حاصل ہونے والے ہر ڈالر کا بڑھتا ہوا حصہ سڑکوں، تعلیم، دفاع، صحت یا نئی ترقی پر خرچ ہونے کے بجائے پرانے قرض کا سود ادا کرنے میں جا رہا ہے۔
امریکی وزارتِ خزانہ بھی متحرک
بانڈز کی بڑھتی ہوئی شرحِ منافع نے امریکی وزارتِ خزانہ کو بھی اقدامات پر مجبور کیا ہے۔
وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے بعض طویل مدتی بانڈز کی دوبارہ خریداری کے پروگرام کا حجم بڑھا کر کم از کم 4 ارب ڈالر فی آپریشن کرنے کا اعلان کیا، جبکہ ضرورت پڑنے پر اسے مزید بڑھانے کی گنجائش بھی رکھی گئی۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
امریکا کا مجموعی سرکاری قرض پہلی بار 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔ واشنگٹن مسلسل بجٹ خسارے کو پورا کرنے اور پرانے قرض کو ری فنانس کرنے کے لیے نئے ٹریژری بانڈز جاری کرتا ہے۔
خریدار اب بھی موجود ہیں، لیکن حالیہ نیلامیوں اور مارکیٹ میں طویل مدتی بانڈز کی ییلڈ کئی دہائیوں کی بلند سطحوں تک پہنچی۔ اس کا مطلب ہے کہ سرمایہ کار امریکی حکومت کو قرض دینے کے لیے زیادہ منافع مانگ رہے ہیں۔
اصل خطرہ فوری دیوالیہ پن نہیں، بلکہ یہ ہے کہ قرض اور سود کی لاگت مسلسل بڑھتی رہے۔ جب دنیا کی سب سے بڑی معیشت کے قرض کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کے اثرات ڈالر، اسٹاکس، سونے اور عالمی شرحِ سود تک پہنچ سکتے ہیں۔
مقصد بانڈ مارکیٹ میں لیکویڈیٹی بہتر کرنا اور طویل مدتی شرحِ منافع پر دباؤ کم کرنا تھا۔
اس اعلان کے بعد 30 سالہ بانڈز کی ییلڈ وقتی طور پر نیچے آئی، لیکن یہ اثر زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔
20 اگست تک ییلڈ دوبارہ تقریباً 5.24 فیصد تک پہنچ گئی، یعنی 2007 کے بعد کی بلند ترین سطحوں کے قریب۔
اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ تکنیکی اقدامات کی ایک حد ہے۔
وزارتِ خزانہ مارکیٹ میں ٹریڈنگ بہتر کرسکتی ہے، بانڈز کے اجرا کا طریقہ بدل سکتی ہے اور کچھ دباؤ وقتی طور پر کم کرسکتی ہے۔
مگر صرف ان اقدامات سے بنیادی مسئلہ ختم نہیں ہوسکتا:
امریکا مسلسل بہت بڑا بجٹ خسارہ چلا رہا ہے اور قرض ہر سال بڑھتا جا رہا ہے۔
امریکی قرض پوری دنیا کے لیے کیوں اہم ہے؟
امریکی قرض صرف امریکا کا داخلی مسئلہ نہیں۔
امریکی ٹریژری بانڈز کی شرحِ منافع عالمی مالیاتی نظام میں سب سے اہم حوالہ جاتی شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔
اگر واشنگٹن کے قرض لینے کی قیمت بڑھتی ہے تو اس کا اثر اکثر پوری معیشت میں پھیلتا ہے۔
گھروں کے قرض، گاڑیوں کی فنانسنگ، کمپنیوں کی فنانسنگ، کارپوریٹ بانڈز اور ابھرتی ہوئی منڈیوں کے قرض تک مہنگے ہوسکتے ہیں۔
اسی طرح امریکی بانڈز پر زیادہ منافع انہیں شیئرز، سونے اور دیگر اثاثوں کے مقابلے میں زیادہ پُرکشش بنا سکتا ہے اور دنیا بھر سے سرمایہ امریکا کی طرف کھینچ سکتا ہے۔
اس لیے اصل سوال یہ نہیں کہ امریکا کل اپنا قرض ادا کرسکے گا یا نہیں۔
فی الحال ایسے شواہد موجود نہیں کہ سرمایہ کار امریکی ٹریژری بانڈز کو عالمی مالیاتی نظام کا بنیادی محفوظ اثاثہ سمجھنا چھوڑ رہے ہیں۔
اصل اور زیادہ حقیقت پسندانہ سوال یہ ہے:
سرمایہ کار امریکی حکومت کے مسلسل بڑھتے قرض کو خریدنے کے لیے آخر کتنی بلند شرحِ منافع مانگیں گے؟
یہ دونوں سوال ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔
امریکا کو فی الحال قرض دینے والے خریداروں کی کمی کا سامنا نہیں، مگر خطرہ یہ ہے کہ اس قرض کی قیمت ہر سال زیادہ ہوتی جائے۔
اور اب جب امریکی قرض 40 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کرچکا ہے، تو مالیاتی منڈیاں واشنگٹن کو ایک واضح پیغام دے رہی ہیں:
پیسہ اب بھی دستیاب ہے، لیکن سستے قرض کا دور شاید ختم ہوچکا ہے۔
اور جب قرض لینے والا دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہو، تو اس کے قرض کی بڑھتی ہوئی قیمت صرف امریکا تک محدود نہیں رہتی۔
اس کے اثرات عالمی شرحِ سود، ڈالر، شیئر مارکیٹس، سونے اور دنیا بھر میں سرمائے کی لاگت تک پہنچتے ہیں۔
↗ OVERSEAS POST | SOURCESاصل اور معتبر ذرائع ⌄
اعداد اور مارکیٹ ییلڈز کے لیے Reuters اور U.S. Treasury بنیادی حوالہ ہیں؛ تجزیاتی نتیجہ یہ ہے کہ اصل دباؤ خریداروں کی عدم موجودگی نہیں بلکہ قرض کی بڑھتی ہوئی قیمت ہے۔