بھارت میں ٹک ٹاک پر ایک مختصر ویڈیو نے سائنس دانوں کو غیر معمولی دریافت تک پہنچا دیا۔
بہار میں زیرِ زمین پانی سے تقریباً 4 سینٹی میٹر لمبی، بے رنگ اور انتہائی چھوٹی آنکھوں والی مچھلی ملی، جسے Gangaichthys indonepalicus کا نام دیا گیا۔
محققین کے مطابق یہ دریائے گنگا کے حوض میں زیرِ زمین زندگی کے لیے مخصوص پہلی معلوم مچھلی ہے۔
سوشل میڈیا کو عام طور پر تفریح، خبروں اور روزمرہ زندگی کی ویڈیوز کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لیکن بھارت میں ٹک ٹاک پر نشر ہونے والی ایک مختصر ویڈیو ایک غیر معمولی سائنسی دریافت کا نقطۂ آغاز بن گئی۔
یہ کہانی 2024 میں شروع ہوئی، جب بھارت اور نیپال کی سرحد کے قریب ایک علاقے میں زیر زمین پانی نکالنے کے دوران ایک چھوٹی اور غیر معمولی شکل کی مچھلی سامنے آئی۔
اس کی ویڈیو ٹک ٹاک پر پوسٹ کی گئی، جہاں اسے دیکھنے والے زیادہ تر افراد شاید اسے ایک عجیب سا آبی جانور سمجھ کر آگے بڑھ گئے، لیکن چند ماہرین کی نظر اس پر رک گئی۔
◆ OVERSEAS POST | SPECIAL REPORTزیرِ زمین نایاب مچھلی — اہم نکات ⌄
- ✓2024 میں ٹک ٹاک پر سامنے آنے والی ویڈیو نے سائنس دانوں کو غیر معمولی مچھلی کی تلاش پر آمادہ کیا۔
- ✓مچھلی بھارت کی ریاست بہار کے زیرِ زمین آبی ذخیرے سے حاصل ہوئی۔
- ✓پہلا نمونہ تقریباً 2,000 لیٹر پانی پمپ کرنے کے بعد ملا، جبکہ بہتر نمونہ مزید 500 لیٹر کے بعد حاصل ہوا۔
- ✓تقریباً 4 سینٹی میٹر لمبی مچھلی کا جسم تقریباً شفاف، رنگت سے محروم اور آنکھیں بہت چھوٹی ہیں۔
- ✓اسے Gangaichthys indonepalicus نام دیا گیا؛ تحقیق اسے نیا جنس اور نئی نوع قرار دیتی ہے۔
مچھلی کی شکل عام دریائی یا تالابی مچھلیوں سے مختلف تھی۔
اس کا جسم باریک، تقریباً شفاف اور رنگت سے محروم دکھائی دیتا تھا۔
یہ خصوصیات عام طور پر ان جانداروں میں پائی جاتی ہیں جو طویل عرصے سے روشنی سے محروم غاروں یا زیر زمین پانی کے نظام میں زندگی گزارتے ہیں۔
مزید پڑھیں
سائنس دانوں نے ویڈیو کو سنجیدگی سے لیا
ماہرین کو شبہ ہوا کہ ویڈیو میں دکھائی دینے والی مچھلی کسی ایسی نوع سے تعلق رکھ سکتی ہے جس کا ابھی تک باقاعدہ سائنسی ریکارڈ موجود نہیں۔
اس کے بعد محققین نے بھارتی ریاست بہار کے ان علاقوں کا رخ کیا جہاں زیر زمین پانی ٹیوب ویلوں اور پمپوں کے ذریعے نکالا جاتا ہے۔
ان کے سامنے سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ ایسی مچھلی کو تلاش کرنا آسان نہیں تھا، کیونکہ وہ کسی کھلے تالاب، دریا یا جھیل میں نہیں بلکہ زمین کی سطح کے نیچے موجود آبی ذخیرے میں رہتی تھی۔
محققین کو مچھلی کا پہلا نمونہ حاصل کرنے کے لیے تقریباً دو ہزار لیٹر زیر زمین پانی پمپ کرنا پڑا۔
پہلا نمونہ مل تو گیا، لیکن وہ مناسب حالت میں نہیں تھا۔
ٹیم نے کوشش جاری رکھی اور مزید تقریباً 5 سو لیٹر پانی نکالنے کے بعد ایک بہتر اور محفوظ نمونہ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی۔
i OVERSEAS POST | FACT BOXنایاب مچھلی: فیکٹ باکس ⌄
- سائنسی نام
- Gangaichthys indonepalicus
- خاندان
- Chaudhuriidae
- لمبائی
- تقریباً 4 سینٹی میٹر
- مقام
- بہار، شمالی بھارت
- رہائش
- زیرِ زمین آبی ذخائر
- خصوصیات
- بے رنگ جسم، انتہائی چھوٹی اور جلد سے ڈھکی آنکھیں
- سائنسی حیثیت
- نیا جنس اور نئی نوع؛ گنگا کے حوض کی پہلی معلوم زیرِ زمین زندگی کے لیے مخصوص مچھلی
صرف نئی مچھلی نہیں، نیا جنس بھی
تحقیق کے دوران مچھلی کے جسم، ہڈیوں، اندرونی ساخت اور جینیاتی خصوصیات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
نتائج نے سائنس دانوں کو مزید حیران کردیا۔
معلوم ہوا کہ یہ صرف پہلے سے معلوم کسی مچھلی کی نئی قسم نہیں، بلکہ ایک ایسے نئے جنس سے تعلق رکھتی ہے جسے اس سے پہلے سائنس میں بیان نہیں کیا گیا تھا۔
محققین نے اس کا سائنسی نام Gangaichthys indonepalicus رکھا۔
یہ مچھلی تقریباً 4 سینٹی میٹر لمبی ہے۔
اس کا جسم انتہائی باریک اور لمبوترا ہے، جس کی وجہ سے اسے Earthworm eel یعنی کیچوے سے مشابہ مچھلیوں کے گروپ میں شمار کیا جاتا ہے۔
◎ OVERSEAS POST | ANALYSISیہ دریافت کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ دریافت زیرِ زمین آبی دنیا کے بارے میں تین اہم سائنسی اشارے دیتی ہے:
اس کی آنکھیں بہت چھوٹی ہیں اور جلد کے نیچے چھپی ہوئی ہیں، جبکہ جسم پر رنگت تقریباً موجود نہیں۔
سائنس دانوں کے مطابق یہ خصوصیات اس بات کا مضبوط ثبوت ہیں کہ یہ مچھلی زیادہ تر یا مکمل طور پر ایسی جگہ رہتی ہے جہاں روشنی نہیں پہنچتی۔
دریائے گنگا کے علاقے میں اپنی نوعیت کی پہلی دریافت
اس دریافت کی اہمیت صرف ایک نئی مچھلی ملنے تک محدود نہیں۔
محققین کے مطابق یہ دریائے گنگا کے وسیع آبی حوض میں پائی جانے والی پہلی ایسی مچھلی ہے جو مکمل طور پر زیر زمین پانی کے ماحول سے مطابقت رکھتی ہے۔
گنگا کا میدانی علاقہ دنیا کے گنجان آباد خطوں میں شمار ہوتا ہے اور لاکھوں لوگ پینے، زراعت اور روزمرہ ضروریات کے لیے زیر زمین پانی استعمال کرتے ہیں۔
اس کے باوجود اس پانی کے اندر موجود حیاتیاتی دنیا کے بارے میں انسانی معلومات اب بھی انتہائی محدود ہیں۔
1′ OVERSEAS POST | QUICK READایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
2024 میں بھارت–نیپال سرحد کے قریب بورویل سے نکلنے والی عجیب مچھلی کی ٹک ٹاک ویڈیو سائنس دانوں کی نظر سے گزری۔
محققین بہار پہنچے اور نمونے کے لیے ہزاروں لیٹر پانی پمپ کیا؛ پہلا نمونہ تقریباً 2,000 لیٹر کے بعد ملا۔
تحقیق سے معلوم ہوا کہ تقریباً 4 سینٹی میٹر لمبی یہ بے رنگ مچھلی نیا جنس اور نئی نوع ہے، جسے Gangaichthys indonepalicus نام دیا گیا۔
یہ گنگا کے حوض سے ریکارڈ ہونے والی پہلی زیرِ زمین زندگی کے لیے مخصوص مچھلی ہے۔
نئی دریافت نے یہ سوال پیدا کردیا ہے کہ کیا اس وسیع زیر زمین آبی نظام میں مزید ایسی مچھلیاں، حشرات یا دوسرے جاندار بھی موجود ہیں جن کا سائنس کو ابھی تک علم نہیں؟
زیر زمین پانی صرف پانی کا ذخیرہ نہیں
سائنس دانوں کے لیے یہ دریافت ایک اہم یاد دہانی بھی ہے کہ زیر زمین آبی ذخائر کو محض انسانوں کے لیے پانی کے ذخیرے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہئے۔
یہ ذخائر اپنے اندر مکمل ماحولیاتی نظام رکھتے ہیں، جہاں ایسے جاندار لاکھوں برس سے زندگی گزار سکتے ہیں جو زمین کی سطح پر موجود ماحول سے بالکل مختلف حالات کے عادی ہوچکے ہیں۔
A blurry #TikTok clip of a fish coming out of a borewell led scientists straight to a brand new species living underground beneath the India-Nepal border. Meet Gangaichthys indonepalicus. https://t.co/XkT0ihek60
— Digital Trends (@DigitalTrends) August 17, 2026
ایسے جانداروں کا وجود زیر زمین پانی کے معیار، آلودگی اور ماحول میں ہونے والی تبدیلیوں کے بارے میں بھی اہم معلومات فراہم کرسکتا ہے۔
اگر زیر زمین پانی ضرورت سے زیادہ نکالا جائے یا کیمیائی آلودگی اس تک پہنچ جائے تو ممکن ہے کہ انسانوں کے علم میں آنے سے پہلے ہی کئی نایاب انواع ختم ہوجائیں۔
ایک ویڈیو، ایک بڑا سائنسی سبق
اس پوری کہانی کا سب سے دلچسپ پہلو یہی ہے کہ ایک بڑی سائنسی تحقیق کا آغاز کسی جدید تجربہ گاہ، سیٹلائٹ یا مہنگے تحقیقی منصوبے سے نہیں، بلکہ موبائل فون سے بنائی گئی ایک مختصر سوشل میڈیا ویڈیو سے ہوا۔
ٹک ٹاک پر اپ لوڈ ہونے والی چند سیکنڈ کی ویڈیو نے سائنس دانوں کو ایک ایسی دنیا تک پہنچا دیا جو ہمارے قدموں کے نیچے موجود تھی لیکن انسانی نظروں سے چھپی ہوئی تھی۔
یہ دریافت بتاتی ہے کہ بعض اوقات سائنس کے بڑے راز انتہائی معمولی مشاہدات کے اندر چھپے ہوتے ہیں—ضرورت صرف انہیں پہچاننے والی نگاہ کی ہوتی ہے۔