سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانی ہر ماہ اپنے گھروں کو رقم بھیجتے اور خاندانوں کے بہتر مستقبل کے لیے برسوں پردیس میں گزارتے ہیں۔
لیکن اس معاشی کامیابی کے پیچھے تنہائی، بچوں سے دوری، بوڑھے ہوتے والدین اور زندگی کے وہ قیمتی لمحات بھی ہیں جو دوبارہ نہیں ملتے۔
یہ فیچر اسی پردیسی کی کہانی ہے جو رفتہ رفتہ دو وطنوں کے درمیان جینا سیکھ لیتا ہے۔
جدہ کی سڑکیں خاموش ہونے لگی تھیں۔
اعجاز نے گودام میں اپنی طویل ڈیوٹی ختم کی اور اس چھوٹے سے کمرے میں واپس آگیا جہاں وہ 3 دوسرے کارکنوں کے ساتھ رہتا تھا۔
جوتے اتارے، چائے کا کپ بنایا اور سونے سے پہلے حسبِ معمول موبائل فون اٹھا لیا۔
اسکرین پر بیوی کا چہرہ نمودار ہوا۔
پیچھے بیٹا اسکول کا کام کر رہا تھا، جبکہ بیٹی ہاتھ میں اپنی بنائی ہوئی ایک تصویر لئے باپ کو دکھانے کے لئے بے چین تھی۔
اعجاز نے تصویر دیکھی، مسکرایا اور بیٹی کے لئے تالیاں بجائیں۔
بیٹی نے خوشی سے کہا:
’بابا! جب آپ واپس آئیں گے تو میں آپ کو اپنا نیا کمرہ دکھاؤں گی‘۔
اعجاز مسکرایا، مگر جواب نہ دے سکا۔
وہ خود نہیں جانتا تھا کہ گھر واپسی کب ہوگی۔
چند منٹ بعد کال ختم ہوگئی۔
موبائل کی اسکرین بجھی تو کمرے میں پھر وہی خاموشی چھا گئی۔
اس لمحے اعجاز کو پیسوں کی کمی نہیں تھی۔
کمی صرف اس بات کی تھی کہ وہ اپنے گھر میں موجود نہیں تھا۔
مزید پڑھیں
یہ صرف اعجاز کی کہانی نہیں۔
یہ لاکھوں تارکینِ وطن کی زندگی کی وہ حقیقت ہے جو بینک اکاؤنٹس، تنخواہوں اور ترسیلاتِ زر کے اعداد و شمار میں دکھائی نہیں دیتی۔
’چند سال بعد واپس آجاؤں گا‘
جب کوئی پاکستانی نوجوان سعودی عرب یا کسی دوسرے خلیجی
ملک کے لئے روانہ ہوتا ہے تو اس کے سوٹ کیس میں صرف کپڑے نہیں ہوتے۔
اس کے ساتھ والدین کی امیدیں، بہن بھائیوں کی تعلیم، بچوں کا مستقبل اور بعض اوقات وہ قرض بھی سفر کرتا ہے جو بیرونِ ملک جانے کے لئے لیا گیا ہوتا ہے۔
سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک میں کام کرنے والے لاکھوں پاکستانی اپنے خاندانوں کے بہتر مستقبل کے لیے برسوں اپنوں سے دور رہتے ہیں۔ وہ ہر ماہ گھر پیسے بھیجتے ہیں، بچوں کی تعلیم، والدین کے علاج اور خاندان کی ضروریات پوری کرتے ہیں، مگر اس کامیابی کی ایک قیمت ایسی بھی ہے جسے کوئی بینک اسٹیٹمنٹ نہیں دکھاتا — اپنوں سے دور گزرتا وقت۔
ایئرپورٹ پر رخصت ہوتے ہوئے اکثر ایک ہی وعدہ کیا جاتا ہے:
’بس چند سال… پھر واپس آجاؤں گا‘۔
لیکن پردیس انسان کے منصوبوں کے مطابق نہیں چلتا۔
دو سال 5 بن جاتے ہیں، 5 پھر 10 میں بدل جاتے ہیں اور ایک دن انسان اچانک محسوس کرتا ہے کہ وقت اس سے کہیں زیادہ تیزی سے گزر گیا۔
جس بچے کو چھوڑ کر گیا تھا، وہ نوجوان ہوچکا ہوتا ہے۔
والد کے بال سفید اور ماں کے چہرے پر عمر کی لکیریں گہری ہوچکی ہوتی ہیں۔
ہر حوالہ ایک کہانی ہے
باہر سے تصویر کامیابی کی نظر آتی ہے۔
ماہانہ تنخواہ آ رہی ہے۔
گھر پیسے پہنچ رہے ہیں۔
گاؤں میں مکان بن رہا ہے۔
بچوں کو بہتر اسکول میں پڑھایا جا رہا ہے اور خاندان کا معیارِ زندگی بدل رہا ہے۔
مگر اس تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔
- بیشتر پاکستانی بہتر روزگار اور خاندان کے محفوظ مستقبل کے لیے پردیس جاتے ہیں۔
- چند سال کا سفر بعض اوقات دس، پندرہ یا بیس برس تک پھیل جاتا ہے۔
- ترسیلاتِ زر خاندانوں کے ساتھ پاکستانی معیشت کے لیے بھی اہم سہارا ہیں۔
- ویڈیو کال نے فاصلے کم کیے، مگر خاندان کے ساتھ جسمانی موجودگی کا متبادل نہیں بن سکی۔
- بچوں کا بچپن اور والدین کے ساتھ گزارا وقت دوبارہ حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
- طویل عرصے بعد بہت سے پردیسی خود کو بیک وقت دو وطنوں سے وابستہ محسوس کرتے ہیں۔
ایک باپ نے اپنے بچے کے پہلے قدم ویڈیو کال پر دیکھے۔
کوئی اپنے والد کے جنازے میں نہیں پہنچ سکا۔
کسی ماں نے بیماری چھپائے رکھی تاکہ دور بیٹھا بیٹا پریشان نہ ہو۔
پاکستانی تارکینِ وطن کی ترسیلاتِ زر ملک کی معیشت کے لیے انتہائی اہم ہیں اور سعودی عرب طویل عرصے سے ان کے بڑے ذرائع میں شامل ہے۔
یہ رقم لاکھوں خاندانوں کی ضروریات پوری کرتی اور ملکی معیشت کو سہارا دیتی ہے۔
لیکن کوئی معاشی رپورٹ یہ نہیں بتاتی کہ ان اربوں ڈالر کے پیچھے کتنی عیدیں تنہائی میں گزریں، کتنی سالگرہیں موبائل اسکرین پر دیکھی گئیں اور کتنے بچوں نے پوچھا:
’امی، بابا کب آئیں گے؟‘
فاصلہ کم ہوا، جدائی نہیں
ایک وقت تھا جب پردیسی خط کے انتظار میں ہفتے گزار دیتے تھے۔
آج چند سیکنڈ میں ویڈیو کال ہوجاتی ہے۔
لیکن ٹیکنالوجی نے فاصلے کم کئے ہیں، جدائی ختم نہیں کی۔
پردیسی اپنے بچے کو بڑا ہوتے دیکھ سکتا ہے، مگر اسے گلے نہیں لگا سکتا۔
وہ والد کے سفید ہوتے بال دیکھ سکتا ہے، ماں کی تھکن محسوس کرسکتا ہے، گھر میں ہونے والی تقریب میں موبائل کے ذریعے شریک ہوسکتا ہے۔
پھر کال ختم ہوتی ہے اور وہ دوبارہ اپنے کمرے، اپنی ڈیوٹی اور اپنی تنہائی میں واپس آجاتا ہے۔
بچے کو تحفے سے زیادہ باپ چاہئے
بچے اقامہ، ملازمت کے معاہدے اور مالی ذمہ داریوں کو نہیں سمجھتے۔
انہیں صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ ان کا باپ دور ہے۔
پہلا اسکول ڈے، بیماری کی رات، امتحان کا خوف، کھیل میں پہلی کامیابی—یہ چھوٹے واقعات ہی بعد میں زندگی کی بڑی یادیں بن جاتے ہیں۔
بچہ شاید برسوں بعد یہ بھول جائے کہ والد نے اسے کون سا مہنگا فون بھیجا تھا، مگر یہ نہیں بھولتا کہ خوف کے وقت اس کا ہاتھ کس نے پکڑا تھا۔
’ہم ٹھیک ہیں، تم فکر نہ کرو‘
والدین کی کہانی بھی مختلف نہیں۔
ماں ہر فون پر کہتی ہے:
’ہم ٹھیک ہیں، تم اپنی فکر کرو‘۔
بعض اوقات وہ اپنی بیماری بھی چھپا لیتی ہے تاکہ بیٹا پریشان نہ ہو۔
والد بھی بیٹے کی کامیابی پر فخر کرتا ہے، مگر عمر بڑھنے کے ساتھ اسے پیسوں سے زیادہ اس کی موجودگی کی ضرورت محسوس ہونے لگتی ہے۔
اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایئرپورٹ پر کیا گیا ایک عام سا الوداعی معانقہ زندگی کا آخری معانقہ ثابت ہوجاتا ہے۔
پاکستانی تارکینِ وطن کی کہانی اکثر ترسیلاتِ زر، ملازمتوں اور معاشی اعدادوشمار کے ذریعے بیان ہوتی ہے۔ لیکن ہر حوالہ بھیجنے والے کے پیچھے ایک انسان اور ایک خاندان موجود ہے۔ پردیس کی اصل قیمت سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم صرف یہ نہ دیکھیں کہ ایک شخص نے کتنا کمایا، بلکہ یہ بھی دیکھیں کہ اس نے اس کامیابی کے لیے اپنی زندگی کے کون سے لمحات قربان کیے۔
کیا پردیس جانے کا فیصلہ غلط تھا؟
ضروری نہیں۔
لاکھوں لوگ شوق سے اپنے خاندان نہیں چھوڑتے۔
وہ بہتر روزگار، بچوں کی تعلیم، والدین کے علاج اور خاندان کے محفوظ مستقبل کے لیے نکلتے ہیں۔
بعض خاندان غربت سے نکلے، بچوں نے یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی، گھر بنے اور زندگیاں بدلیں۔
اسی لیے پردیس کو صرف دکھ کی کہانی کہنا بھی ناانصافی ہوگی۔
یہ قربانی بھی ہے اور امید بھی۔
مسئلہ شاید پردیس جانا نہیں، بلکہ یہ بھول جانا ہے کہ جس خاندان کے لئے انسان کما رہا ہے، اسے صرف اس کے پیسوں کی نہیں، اس کی بھی ضرورت ہے۔
دو وطن، ایک زندگی
طویل عرصہ بیرونِ ملک گزارنے کے بعد ایک عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے۔
سعودی عرب میں اسے سڑکیں، دفتر، دوست اور روزمرہ زندگی مانوس لگنے لگتی ہے۔
پاکستان میں اس کی جڑیں، خاندان، بچپن اور یادیں ہوتی ہیں۔
یہاں ہو تو وہاں کی یاد آتی ہے۔
وہاں جائے تو یہاں کی زندگی یاد آنے لگتی ہے۔
ایک پاکستانی بہتر مستقبل کی تلاش میں خلیج آتا ہے اور سوچتا ہے کہ دو تین سال بعد واپس چلا جائے گا۔ مگر ضروریات بڑھتی ہیں اور واپسی مؤخر ہوتی جاتی ہے۔ ادھر بچے بڑے ہوتے ہیں اور والدین بوڑھے۔
ویڈیو کال اسے گھر سے جوڑے رکھتی ہے، لیکن اسکرین کے پار موجود بچے کو وہ گلے نہیں لگا سکتا۔ برسوں بعد واپسی پر شاید مکان بن چکا ہو، کچھ سرمایہ بھی جمع ہو، مگر تب احساس ہوتا ہے کہ زندگی کے بعض خسارے پیسوں سے پورے نہیں ہوتے۔
یوں پردیسی آہستہ آہستہ دو وطنوں کے درمیان رہنے والا انسان بن جاتا ہے۔
اور جب برسوں بعد مستقل واپسی ہوتی ہے تو کبھی گھر مکمل ہوتا ہے، زمین خریدی جاچکی ہوتی ہے اور کچھ رقم بھی جمع ہوتی ہے۔
مگر وقت انتظار نہیں کرتا۔
بچے بڑے ہوچکے ہوتے ہیں، دوست اپنی زندگیوں میں مصروف اور بعض پیارے دنیا سے جا چکے ہوتے ہیں۔
تب شاید پہلی بار احساس ہوتا ہے کہ پیسوں سے مکان تو بنایا جاسکتا ہے…
ماضی کا ایک لمحہ نہیں خریدا جاسکتا۔
پردیس کا اصل حساب شاید بینک اسٹیٹمنٹ میں نہیں ملتا۔
وہ ان لمحوں میں لکھا ہوتا ہے جو انسان سے دور رہتے ہوئے گزر گئے۔
آخرکار پردیسی دو وطنوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے:
ایک وطن اسے رزق اور مواقع دیتا ہے۔
دوسرا اس کا دل، یادیں اور اپنے لوگ سنبھال کر رکھتا ہے۔
اور شاید پردیس کی سب سے بڑی قیمت یہی ہے کہ وہ انسان سے پیسہ یا محنت نہیں چھینتا…
وہ وقت لے جاتا ہے—اور وقت کبھی واپس نہیں آتا۔