سپر ہیرو فلموں کی دنیا میں اسپائیڈر مین کا نام ہی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
سرخ اور نیلے لباس میں عمارتوں کے درمیان جھولتا یہ کردار بچوں سے لے کر بڑوں تک دنیا بھر میں کروڑوں مداح رکھتا ہے، مگر اس بار اسپائیڈر مین کا مقابلہ اسکرین پر موجود کسی ولن سے زیادہ ایک ایسے تنازع سے ہے جس کی جڑیں ہالی ووڈ سے ہزاروں کلومیٹر دُور مشرق وسطیٰ تک پھیلی ہوئی ہیں۔
نئی فلم ’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘ کی عالمی نمائش جولائی کے آخر
میں شروع ہوئی تو اس کے ساتھ ہی عرب دنیا میں بائیکاٹ کی آوازیں بھی بلند ہونے لگیں۔
معاشی تجزیہ
فلم کے ایک ٹکٹ کی طاقت کیا ہے؟
▼
فلم کے ایک ٹکٹ کی طاقت کیا ہے؟
ابتدائی آمدن کا دباؤ
ہالی ووڈ پروڈکشن ہاؤسز کے لیے ابتدائی ہفتے کے آخر (Opening Weekend) کی آمدن فلم کے حتمی مستقبل، شیئرز کی قیمتوں اور پروڈیوسرز کے قد کا تعین کرتی ہے۔
تجارتی نفع کا حصہ
ہر خریدا گیا ٹکٹ بالآخر ان سرمایہ کاروں اور پروڈیوسرز کے منافع میں اضافہ کرتا ہے جو اہم فیصلے کرتے ہیں، جس سے ان کا تجارتی اثر و رسوخ بڑھتا ہے۔
صارف کا سیاسی انتخاب
موجودہ دور میں معاشی بائیکاٹ کے حامی ٹکٹ کی خریداری کو محض تفریح کے بجائے اخلاقی اور سیاسی مؤقف کے ایک باقاعدہ اظہار کے طور پر دیکھتے ہیں۔
پابندی اور پیغام رسانی
سینما کی خالی نشستیں کارپوریٹ اداروں کو یہ واضح پیغام دیتی ہیں کہ عوام متنازع شخصیات یا متنازع پالیسیوں کی پشت پناہی کو قبول نہیں کریں گے۔
بائیکاٹ کا یہ تنازع فلم کی کہانی یا اس کے اداکاروں پر نہیں بلکہ اس کی پروڈکشن سے وابستہ اسرائیلی نژاد امریکی پروڈیوسر آوی آراد پر ہے۔
سوشل میڈیا سے شروع ہونے والی یہ مہم اب لبنان اور اُردن سمیت مختلف عرب معاشروں تک پہنچ چکی ہے۔
اس بائیکاٹ کے حامیوں کا پیغام سادہ ہے۔ یعنی فلم کا ٹکٹ نہ خریدیں، کیونکہ ان کے نزدیک ہر ٹکٹ بالآخر اس فلم کی تجارتی کامیابی میں حصہ ڈالتا ہے۔
فلم اچانک سیاسی تنازع کیسے بن گئی؟
غزہ جنگ نے مشرق وسطیٰ میں سیاست کے ساتھ صارفین کے رویوں کو بھی بدل دیا ہے۔ مصنوعات اور کمپنیوں کے بعد اب فلم، موسیقی اور تفریحی صنعت سے وابستہ شخصیات بھی بائیکاٹ مہمات کی زد میں آ رہی ہیں۔
’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘ اسی بدلتے ماحول اور حالات کی تازہ مثال ہے۔
مہم چلانے والے کارکنوں کا بنیادی اعتراض آوی آراد کی پروڈکشن میں شمولیت اور اسرائیل کے بارے میں ان کے ماضی کے مؤقف پر ہے۔
کارکنوں کے خیال میں سینما کا ٹکٹ محض تفریح پر خرچ ہونے والی رقم نہیں بلکہ صارف کا ایک معاشی فیصلہ بھی ہے اور یہی وجہ ہے کہ سوشل میڈیا پر فلم نہ دیکھنے کی اپیل کو فلسطینیوں سے اظہارِ یکجہتی کے ایک طریقے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اسپائیڈر مین فلم کا بائیکاٹ
ہالی ووڈ پروڈیوسر کا سیاسی پس منظر اور عرب دنیا کا سخت ردِعمل
نئی اسپائیڈر مین فلم کے پروڈیوسر آوی آراد کی اسرائیل کی حمایت اور فوجی پس منظر کے باعث مشرق وسطیٰ میں فلم کے بائیکاٹ کی عالمی مہم زور پکڑ گئی ہے۔
🚨 بائیکاٹ کی بنیادی وجہ
فلم کے پروڈیوسر آوی آراد کا 1967 جنگ میں اسرائیلی فوج کا حصہ رہنا اور نیتن یاہو کا سیاسی دفاع تنازع کا مرکز بن گیا۔
🌍 عرب ممالک کا مطالبہ
لبنان اور اردن میں بائیکاٹ گروپس نے عوام سے ٹکٹ نہ خریدنے اور سینما گھروں سے نمائش روکنے کی اپیل کر دی۔
💡 معاشی اور ثقافتی حکمت عملی
کارکنوں کے مطابق سینما کا ٹکٹ محض تفریح نہیں بلکہ مالی فیصلہ ہے، جسے فلسطینیوں سے یکجہتی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
🎬 پاپ کلچر پر جنگ کے اثرات
غزہ جنگ کے اثرات اب سفارت کاری سے نکل کر ہالی ووڈ اور عالمی تفریحی انڈسٹری تک پھیل چکے ہیں۔
اوورسیز پوسٹ انٹرایکٹیو انفوگرافک سسٹم
بچوں کا ہیرو اور والدین سے سوال
مہم کا ایک دلچسپ پہلو یہ ہے کہ بعض کارکن اسے صرف بڑوں کی سیاسی بحث تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔
مصری کارکن می محمد نے اس بائیکاٹ کو بچوں کے لیے بھی ایک سبق قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بچوں کو بتایا جا سکتا ہے کہ ان کی رائے اور انتخاب اہمیت رکھتے ہیں اور بظاہر معمولی فیصلہ، مثلاً کسی فلم کا ٹکٹ خریدنا، بھی کسی بڑے معاملے سے جڑا ہوسکتا ہے۔
ایک اور مصری کارکن انجی ندا نے بھی لوگوں سے سینما نہ جانے کی اپیل کی، جبکہ کانٹینٹ کریئیٹر مازن عدلی نے ٹکٹ خریدنے کو فلم کی آمدن بڑھانے سے جوڑا اور اسے فلسطین میں جاری صورت حال کے تناظر میں دیکھا۔
اسی طرح کینیڈین کارکن سالار رسول نے اس سے بھی وسیع مؤقف اپناتے ہوئے اسرائیل سے وابستہ یا اس کی پالیسیوں کی حمایت کرنے والی شخصیات کے بائیکاٹ کی حمایت کی۔
اسپائیڈر مین کے بائیکاٹ کی پوری کہانی
❖
فلم کا اعلان اور ریلیز
سونی پکچرز کی جانب سے نئی فلم 'اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے' جولائی کی عالمی نمائش کے لیے پیش کی گئی، جس میں پیٹر پارکر کی کہانی کو نیا موڑ دیا گیا۔
پروڈیوسر کا تنازع
فلم کے مرکزی پروڈیوسر آوی آراد کے اسرائیلی فوج سے متعلق ماضی اور حالیہ سیاسی بیانات سامنے آنے کے بعد سوشل میڈیا پر اعتراضات نے جنم لیا۔
عرب دنیا میں تحرک
لبنان، اردن اور مصر کے فعال کارکنان اور تنظیموں نے عوامی سطح پر فلم کا سینما بائیکاٹ کرنے اور شوز کی منسوخی کے لیے منظم مہم کا آغاز کر دیا۔
ثقافتی و معاشی اثرات
تنازع اب محض فلمی بحث نہیں رہا بلکہ یہ پاپ کلچر کی دنیا میں غزہ جنگ کے معاشی و ثقافتی اثرات کے ایک نئ نمونے کے طور پر ابھرا ہے۔
آوی آراد کون ہیں اور اعتراض کیوں ہے؟
اس پوری بحث کو سمجھنے کے لیے آوی آراد کا پس منظر جاننا بھی اہم ہے۔
آوی آراد ہالی ووڈ میں سپر ہیرو فلموں کے حوالے سے ایک معروف نام ہیں۔ وہ مارول سے وابستہ متعدد بڑے منصوبوں، خصوصاً اسپائیڈر مین فرنچائز کی پروڈکشن میں کردار ادا کر چکے ہیں۔
لیکن ان کی زندگی کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، جو کہ موجودہ تنازع کی بنیاد بنا ہوا ہے۔
دستیاب معلومات کے مطابق آراد نے جون 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دی تھیں۔ بعد میں وہ امریکا منتقل ہوئے اور بالآخر تفریحی صنعت میں ایک بااثر پروڈیوسر بن گئے۔
بائیکاٹ کے حامی صرف ان کے فوجی ماضی کو مسئلہ نہیں بنا رہے بلکہ حالیہ سیاسی بیانات کو بھی سامنے رکھ رہے ہیں۔
نیتن یاہو کے دفاع نے معاملہ مزید حساس بنایا
غزہ جنگ کے دوران آوی آراد اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفاع میں بھی سامنے آئے۔
2024 میں انہوں نے امریکی سینیٹ کے اس وقت کے ڈیموکریٹک اکثریتی رہنما چک شومر کے خلاف ایک کھلا خط لکھا تھا۔ شومر نے اسرائیل میں نئے انتخابات کا مطالبہ کرتے ہوئے نیتن یاہو کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
آراد نے جواب میں شومر پر ’اسرائیل سے غداری‘ کا الزام لگایا اور نیتن یاہو کے مؤقف کا دفاع کیا۔
یہی سیاسی پس منظر اب ان کے ہالی ووڈ کردار سے جوڑا جا رہا ہے اور بائیکاٹ مہم کے حامی اسے فلم سے دُور رہنے کی بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔
اسپائیڈر مین تنازع کا اسرائیل سے کنکشن
پس منظر و تجزیہ
🎖️ ملٹری بیک گراؤنڈ
فلم کے اسرائیلی نژاد امریکی پروڈیوسر آوی آراد نے جون 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیلی فوج میں خدمات انجام دی تھیں۔ ان کا یہ عسکری پس منظر مہم جو کارکنوں کا بنیادی اعتراض ہے۔
✉️ سیاسی خط اور نیتن یاہو کا دفاع
غزہ جنگ کے بعد 2024 میں آوی آراد نے امریکی سینیٹر چک شومر کے خلاف کھلا خط لکھ کر نیتن یاہو کا دفاع کیا تھا اور شومر پر تنقید کی تھی، جس نے اس تنازع کو سیاسی طور پر مزید بگاڑ دیا۔
تنقید نگاروں کے مطابق فلم کی کامیابی اسرائیلی حمایت یافتہ شخصیات کو تقویت دیتی ہے، جبکہ حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ ایک کاروباری ہالی ووڈ پروجیکٹ ہے۔
لبنان سے اُردن تک پھیلی مہم
فلم کے خلاف بائیکاٹ کا یہ معاملہ اب صرف انفرادی سوشل میڈیا پوسٹس تک محدود نہیں رہا۔ لبنان میں اسرائیل کے حامیوں کے بائیکاٹ کے لیے سرگرم ایک مہم نے عوام سے فلم کے ٹکٹ نہ خریدنے کی اپیل کی ہے۔
تنظیم کا مؤقف ہے کہ آوی آراد کے اسرائیل کی حمایت میں سامنے آنے والے خیالات کے بعد فلم دیکھنا ثقافتی سطح پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے دائرے میں آتا ہے۔
اس کے علاوہ اُردن میں یہ معاملہ ایک قدم مزید آگے بڑھا ہے، جہاں بائیکاٹ مہم نے نہ صرف عوام سے فلم نہ دیکھنے کو کہا بلکہ اردنی سینما گھروں سے اسے نہ دکھانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
گروپ نے اُردن کی فنکار برادری سے بھی اس معاملے پر مؤقف اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
کیا اصل لڑائی باکس آفس کی ہے؟
جدید فلم انڈسٹری میں کسی بڑے بجٹ کی فلم کی کامیابی کا فیصلہ صرف تنقیدی جائزوں سے نہیں بلکہ ابتدائی دنوں کی باکس آفس آمدن سے بھی ہوتا ہے۔ اسی لیے بائیکاٹ مہم کا مرکز ٹکٹ کی خریداری ہے۔
کارکنوں کا مقصد فلم کا مواد تبدیل کرانا نہیں بلکہ صارفین کی قوت استعمال کرکے مالی دباؤ پیدا کرنا ہے۔
یاد رہے کہ یہ حکمت عملی نئی نہیں ہے، تاہم غزہ جنگ کے بعد ثقافتی بائیکاٹ کو ملنے والی توجہ نے اسے زیادہ نمایاں بنا دیا ہے۔
اب بحث صرف یہ نہیں کہ کون سی کمپنی کہاں کاروبار کرتی ہے، بلکہ یہ بھی دیکھی جا رہی ہے کہ کسی فلم، فنکار یا پروڈیوسر کا سیاسی پس منظر کیا ہے۔
اسپائیڈر مین کے خلاف کون کھڑا ہے؟
▼
لبنانی بائیکاٹ گروپس
لبنان میں اسرائیل مخالف فعال تنظیموں نے عوامی سطح پر فلم دیکھنے کو ثقافتی تعطل کے خلاف قرار دیا اور بائیکاٹ کی کال دی۔
اردنی عوامی اور فنکار برادری
اردن میں بائیکاٹ مہمات نے مقامی سینما گھروں سے شوز کی منسوخی اور فنکار برادری سے یکجہتی کا مطالبہ کیا ہے۔
مصری سوشل میڈیائیسٹیویسٹس
می محمد اور انجی ندا جیسے فعال کارکنان نے والدین پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کو اس بائیکاٹ کے ذریعے انتخاب کی طاقت سکھائیں۔
عالمی و کینیڈین ایکٹیوسٹس
سالار رسول جیسے عالمی نمائندوں نے اسرائیل کی حمایتی پالیسیوں کے حامل تمام اعلیٰ عہدیداروں کا بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دی ہے۔
اسپائیڈر مین کی نئی کہانی میں کیا ہے؟
اس سیاسی تنازع سے الگ دیکھا جائے تو ’اسپائیڈر مین: برانڈ نیو ڈے‘ مقبول فرنچائز کی اگلی کڑی ہے۔ سونی پکچرز کی اس فلم میں ٹام ہالینڈ دوبارہ پیٹر پارکر کے کردار میں نظر آتے ہیں جبکہ زندایا بھی فلم کا حصہ ہیں۔
کہانی ’اسپائیڈر مین: نو وے ہوم‘ کے واقعات کے بعد شروع ہوتی ہے۔ پیٹر پارکر کی شناخت لوگوں کی یادداشت سے مٹ چکی ہے اور وہ اپنی زندگی نئے سرے سے شروع کرنا چاہتا ہے، مگر نیویارک میں ایک نیا خطرہ اسے دوبارہ میدان میں لے آتا ہے۔
فلم کے پروڈیوسرز کیون فائیگی، ایمی پاسکل اور آوی آراد ہیں، ہدایت کاری ڈیسٹن ڈینیئل کریٹن نے کی ہے۔
کیا فلم کا ٹکٹ سیاسی بیان بن چکا ہے؟
یہ شاید اس تنازع کا سب سے اہم سوال ہے۔
فلم دیکھنے والے ایک عام شخص کے لیے سینما کا ٹکٹ 2، 3 گھنٹے کی تفریح ہوسکتا ہے، لیکن بائیکاٹ مہم چلانے والوں کے نزدیک یہی ٹکٹ صارف کی معاشی طاقت اور سیاسی ترجیح کا اظہار ہے۔
پاکستانی شائقین کے لیے سوال: فلم دیکھیں یا بائیکاٹ؟
✦
پاکستانی شائقین کے لیے سوال: فلم دیکھیں یا بائیکاٹ؟
پہلو 1: اخلاقی اور معاشی موقف
اگر آپ سمجھتے ہیں کہ فلم کا ٹکٹ خریدنا بالآخر فلسطینیوں کے خلاف بیانات دینے والے پروڈیوسرز کے منافع میں اضافہ کرتا ہے، تو سینما سے دور رہنا ایک اخلاقی احتجاج بن سکتا ہے۔
پہلو 2: محض تفریح کا نقطہ نظر
کچھ شائقین کا مؤقف ہے کہ فلم بنانے میں ہزاروں دیگر فنکار اور تکنیکی عملہ شامل ہوتا ہے اور اسے محض ایک فرد کی عسکری یا سیاسی وابستگی پر پرکھنا مناسب نہیں ہے۔
یہ مہم باکس آفس پر کتنا اثر ڈالتی ہے، اس کا فیصلہ آنے والے اعداد و شمار کریں گے، مگر ایک بات واضح ہے کہ غزہ جنگ کے اثرات اب سفارت کاری اور سڑکوں پر ہونے والے احتجاج تک محدود نہیں رہے۔
اس مہم کے سائے عالمی برانڈز سے گزرتے ہوئے ہالی ووڈ اور پاپ کلچر تک پہنچ چکے ہیں اور یوں دنیا کو بچانے والا اسپائیڈر مین اس بار خود ایک ایسی عالمی سیاسی بحث کے جال میں پھنس گیا ہے، جس سے نکلنے کا راستہ شاید کسی فلمی اسکرپٹ میں موجود نہیں۔