اسرائیل میں جاری سیاسی ہلچل اور انتخابات کو اکثر نیتن یاہو کے دائیں بازو اور اپوزیشن کے درمیان ایک فیصلہ کن معرکہ قرار دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
تاہم، تاریخی حقائق اور سیاسی ڈھانچہ یہ بتاتے ہیں کہ تل ابیب میں چاہے کوئی بھی حکمران آئے، فلسطینیوں کے خلاف استعماری پالیسیوں، اسرائیلی جارحٰت اور زمین پر قبضے کا تسلسل بدستور برقرار رہتا ہے۔
تاریخی پس منظر: نکبہ اور نسل کشی
تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ 1948ء میں اللد شہر کا سقوط فلسطینیوں کی تاریخ کا ایک دردناک باب ہے۔
اسرائیلی منصوبہ بندی، جسے ’آپریشن ڈینی‘ کہا گیا، کا مقصد اللد، رملہ اور لطربون پر قبضہ کرنا تھا۔ اس آپریشن کے دوران ہزاروں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، جو آج بھی ایک منظم نسل کشی کی علامت مانا جاتا ہے۔
اس وقت کے فوجی افسر اسحاق رابین نے فلسطینی شہریوں کو بلاامتیاز نکالنے (بے دخلی) کے احکامات دیے تھے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وہی رابین دہائیوں بعد واشنگٹن میں امن کے علمبردار بن کر سامنے آئے۔ یہ دہرا معیار اسرائیلی سیاست کا خاصہ ہے، جہاں ’امن‘ کی آڑ میں فلسطینیوں کے بنیادی حقوق اور حق واپسی کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔
صہیونی بائیں بازو کا کردار
مغربی میڈیا میں اسرائیلی ’بائیں بازو‘ کو اکثر لبرل اور اعتدال پسند قرار دیا جاتا ہے، لیکن یہی وہ طبقہ تھا جس نے جارح اور غاصب ریاست کی بنیاد رکھی۔
ڈیوڈ بن گورین جیسے رہنماؤں نے اشتراکیت کے لبادے میں یہودی بستیوں کا جال بچھایا اور فوجی طاقت کے ذریعے فلسطینیوں کو بے دخل کیا۔
ان کی پالیسیوں میں ’ٹریڈ یونینز‘ اور کبوتز‘ (اجتماعی بستیاں) جیسی تنظیمیں شامل تھیں، جنہوں نے نہ صرف معاشی طور پر فلسطینیوں کو الگ تھلگ کیا بلکہ ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھی جو اپنی فطرت ہی میں استعماری ہے۔
بن گورین کی دُور اندیشی یہ تھی کہ تقسیم کو ایک مستقل حل نہیں بلکہ ریاست کو مضبوط بنانے کے ایک مرحلے کے طور پر استعمال کیا جائے۔
دائیں بازو کا ’آہنی دیوار‘ کا نظریہ
اسرائیلی دائیں بازو نے، جس کی بنیاد ولادیمیر جابوتنسکی نے رکھی تھی، اپنی پالیسی کو آہنی دیوار کا نام دیا تھا۔
اُن کا مؤقف یہ تھا کہ فلسطینی اپنی سرزمین پر قبضے کو کبھی قبول نہیں کریں گے، لہذا اسے صرف طاقت کے بل بوتے پر ہی جاری رکھا جا سکتا ہے۔
یہ نظریہ آج کے انتہا پسند رہنماؤں جیسے سموٹریچ اور بین گویر کے بیانات میں پوری طرح عیاں ہوتا ہے۔
مناخم بیگن (سابق اسرائیلی وزیراعظم) سے لے کر نیتن یاہو تک، دائیں بازو نے فلسطین کی زمین کو ’یہودا اور سامرہ‘ کا نام دے کر اسے مذہبی اور تاریخی حق قرار دیا ہے۔
آج کی اسرائیلی سیاست میں دائیں اور بائیں بازو کے درمیان فرق صرف طریقہ کار کا ہے، جبکہ مقصد ایک ہی ہے کہ فلسطین پر مکمل غلبہ اور فلسطینیوں کی سیاسی خواہشات اور حقوق کو کچلنا۔
غزہ جنگ اور انتخابی منظرنامہ
7 اکتوبر 2023ء کے بعد اسرائیل ایک گہرے سیکیورٹی اور سیاسی بحران سے گزر رہا ہے۔
موجودہ انتخابات کا مرکزی نکتہ یہ نہیں ہے کہ فلسطینیوں کو ان کا حق ملے گا، بلکہ یہ ہے کہ کون سا رہنما اسرائیل کی سیکیورٹی ناکامیوں کے داغ کو زیادہ مؤثر طریقے سے صاف کر سکتا ہے۔
نیتن یاہو اپنی بقا کے لیے جنگ کو طویل کر رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن اسے بہتر انداز میں مینج کرنے کا دعویٰ کر رہی ہے۔
مبصرین کے مطابق اسرائیلی سیاست کے تمام دھارے متفق ہیں کہ فلسطینیوں کا حقِ خود ارادیت ایک خطرہ ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل میں چہروں کی تبدیلی سے اس استعماری ڈھانچے میں کوئی بنیادی فرق نہیں پڑتا جو نکبہ سے آج تک جاری ہے۔
اسرائیل کی سیاست چاہے دائیں بازو کی ہو یا لبرل نقاب پوش بائیں بازو کی، فلسطینیوں کے لیے اس کا نتیجہ صرف مزید محاصرہ، زمین پر قبضہ اور جبر ہی ہے۔