چین کے جنوب مغربی پہاڑوں کی چٹانی دراڑوں میں اگنے والے نازک سفید پھول کو سائنس دانوں نے باقاعدہ گوشت خور پودا قرار دیا ہے۔
یہ خوشبو سے چھوٹے حشرات کو متوجہ کرکے چپچپے بالوں میں پھنساتا اور ان کے جسم سے غذائیت حاصل کرتا ہے۔
دریافت نے چارلس ڈارون کے 1875 میں پیش کیے گئے خیال کو درست ثابت کردیا۔
یہ دو ہزار سے زیادہ انواع پر مشتمل نباتاتی سلسلے «سیکسی فریگیلز» کا پہلا ثابت شدہ گوشت خور پودا ہے۔
یہ سفید پھول حرکت کرتا ہے
نہ شکار کا پیچھا
خوشبو سے حشرات کو بلاتا
چپچپے جال میں پھنساتا
اور ان کے جسم کو بیجوں کی غذا بنا لیتا ہے
چین کے جنوب مغربی پہاڑوں میں تین ہزار میٹر کی بلندی پر ایک کیڑا سفید پھول پر اترتا ہے۔
سرخ بالوں کے قطرے شبنم جیسے دکھائی دیتے ہیں، مگر چھوتے ہی کیڑا چپک جاتا ہے۔
نکلنے کی کوشش میں وہ مزید پھنس جاتا ہے، جبکہ پھول ساکت رہتا ہے۔
نہ کوئی جبڑا بند ہوتا ہے نہ پتے حرکت کرتے ہیں، یہ خاموش جال ہے۔
یہ ’سیکسی فریگا کینڈیلبرم‘ نامی پودا ہے جو چنگھائی–تبت اور ہینگ دوان پہاڑوں کی چٹانی دراڑوں میں اگتا ہے۔
سائنس دانوں نے ثابت کیا کہ یہ حشرات کو پکڑتا، ہضم کرتا اور غذائیت جذب کرتا ہے۔
یوں یہ دو ہزار سے زیادہ انواع والے سلسلے ’سیکسی فریگیلز‘ کا پہلا ثابت شدہ گوشت خور پودا ہے۔
مزید پڑھیں
اس دریافت نے ڈیڑھ صدی پرانا سائنسی خیال بھی درست ثابت کردیا۔
چارلس ڈارون نے 1875 میں اسی خاندان کی دو یورپی انواع پر چپچپے بالوں سے چمٹے کیڑے دیکھے تھے۔
انہیں شبہ ہوا کہ یہ پودے گوشت خور ہیں، مگر شکار کے ہضم اور غذائیت کے استعمال کو ثابت نہ کرسکے۔
نئی تحقیق مختلف مگر قریبی نوع پر ہوئی ہے۔
یہ پودا یوننان سے جنوب مغربی سیچوان تک 2500 سے 3300 میٹر کی بلندی پر اگتا ہے، جہاں نائٹروجن کم ہے۔
یہ عنصر پھول اور بیج بنانے کے لیے ضروری ہے، مگر چٹانی دراڑ میں پھیلی جڑیں کافی مقدار حاصل نہیں کرپاتیں۔
ایک منٹ میں کہانی ⌄
چین کے بلند پہاڑوں میں اگنے والا سفید پھول بظاہر نازک، مگر حقیقت میں خاموش شکاری ہے۔ اس کے سرخ غدودی بال چھوٹے حشرات کو پھنساتے ہیں۔ پودا انہیں ہضم کرکے نائٹروجن حاصل کرتا اور یہ غذائیت اپنے پھولوں اور بیجوں تک پہنچاتا ہے۔ اس دریافت نے چارلس ڈارون کے 150 سال پرانے خیال کو سائنسی ثبوت فراہم کردیا۔
کمی پوری کرنے کے لیے ڈنڈیوں اور شاخوں کے بال گوند جیسا مادہ خارج کرتے ہیں، جس میں چھوٹے حشرات پھنس جاتے ہیں۔
ایک بالغ پودے پر اوسطاً 71 حشرات چپکے ملے۔
محفوظ نمونوں میں بھی 45 میں سے 43 پر حشرات موجود تھے؛ بعض 1888 کے تھے۔
گویا پھول ایک صدی سے سائنس دانوں کے سامنے شکار کررہا تھا۔
پودا اتفاق پر انحصار نہیں کرتا، بلکہ خوشبو سے حشرات کو بلاتا ہے۔
جب محققین نے پھول کی مہک روک دی تو آنے والے حشرات نمایاں طور پر کم ہوگئے۔
تجزیے میں کشش پیدا کرنے والے خوشبودار مرکبات بھی ملے۔
اہم نکات ⌄
- پودا 2500 سے 3300 میٹر کی بلندی پر اگتا ہے۔
- ایک بالغ پودے پر اوسطاً 71 حشرات پائے گئے۔
- پھول خوشبو سے چھوٹے حشرات کو اپنے قریب بلاتا ہے۔
- چپچپے سرخ بال شکار کو فرار ہونے سے روکتے ہیں۔
- نائٹروجن-15 تجربے نے غذائیت جذب کرنے کی تصدیق کی۔
لیکن کسی کیڑے کو پکڑ لینا پودے کو گوشت خور ثابت نہیں کرتا۔
شکار کو ہضم کرنا اور غذائیت جذب کرنا بھی ضروری ہے۔
محققین نے غدودی بالوں میں ’فاسفیٹیز‘ انزائم پایا، جو شکار کو توڑنے میں مدد دیتا ہے۔
فیصلہ کن تجربے میں پھل مکھیوں کو ’نائٹروجن-15‘ والی غذا کھلا کر پودے کے جال پر رکھا گیا۔
بعد میں مکھیوں کا کیمیائی نشان پودے میں مل گیا۔
یہ نشان غیر گوشت خور پودوں میں ظاہر نہیں ہوا اور نہ مٹی سے آیا تھا۔
یوں ثابت ہوا کہ پھول حشرات کو ہضم کرکے ان کی غذائیت استعمال کرتا ہے۔
شکار کی غذا یکساں تقسیم نہیں ہوئی۔
سب سے زیادہ نائٹروجن پھولوں میں پہنچی۔
یہ پودا کئی برس زندہ رہتا ہے، مگر زندگی میں صرف ایک بار پھول اور بیج پیدا کرتا ہے۔
اسی لئے شکار کی توانائی افزائش کے اس واحد موقع پر خرچ کرتا ہے۔
فیکٹ باکس ⌄
پودے کو زر افشانی کے لیے حشرات بھی درکار ہیں، مگر جال سب کو نہیں مارتا۔ چپچپے بال چھوٹے، غیر مؤثر کیڑوں کو روک لیتے ہیں، جبکہ بڑی مکھیاں اور شہد کی مکھیاں نکل جاتی اور زردانہ منتقل کرتی رہتی ہیں۔
یوں شکار اور افزائش میں توازن قائم رہتا ہے۔
یہ دریافت گوشت خور پودوں کے روایتی تصور کو بدلتی ہے۔
ایسے پودے عموماً دلدلی زمینوں سے وابستہ سمجھے جاتے ہیں، مگر یہ پھول نسبتاً خشک پہاڑی چٹانوں پر زندہ ہے۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ غذائی کمی، چاہے دلدل میں ہو یا پہاڑ پر، ارتقا کو شکار کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کرسکتی ہے۔
ممکن ہے یہ پھول صرف آغاز ہو، کیونکہ اسی خاندان کی دوسری انواع بھی چپچپے بال رکھتی اور کم غذائیت والے علاقوں میں اگتی ہیں۔
شاید کئی اور خاموش پھول یہی خفیہ زندگی گزار رہے ہوں۔
ڈارون کے مشاہدے کے ڈیڑھ صدی بعد معلوم ہوا کہ نزاکت اور درندگی ایک پھول میں جمع ہوسکتی ہیں۔
وہ شکار کا پیچھا نہیں کرتا، چٹان پر کھلتا، خوشبو پھیلاتا اور انتظار کرتا ہے۔
کیڑا پھنسے تو اس کا اختتام نئی ابتدا بن جاتا ہے: پھول، بیج اور نئی زندگی۔