غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نئی تجویز سامنے آئی ہے جس کے تحت حماس اور دیگر فلسطینی مسلح گروہ اپنے ہتھیار اسرائیل کے بجائے ایک نئی فلسطینی ٹیکنوکریٹ انتظامیہ کے حوالے کریں گے۔
اس کے بدلے اسرائیلی فوج غزہ سے مرحلہ وار انخلا کرے گی اور سکیورٹی کی ذمہ داریاں فلسطینی پولیس اور بین الاقوامی استحکام فورس کو منتقل کی جائیں گی۔
غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری مذاکرات ایک ایسے حساس مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں جو جنگ شروع ہونے کے بعد اب تک کی سب سے اہم پیش رفت ثابت ہوسکتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان سامنے آیا ہے کہ حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کو غیرمسلح کرنے کے بدلے اسرائیلی فوج کے غزہ سے مرحلہ وار انخلا اور سکیورٹی و انتظامی ذمہ داریاں فلسطینی ٹیکنوکریٹ حکومت اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کے حوالے کرنے سے متعلق ایک مفاہمت طے پا گئی ہے۔
اگرچہ امریکی انتظامیہ اس پیش رفت کو امن کی جانب ایک ’تاریخی قدم‘ قرار دے رہی ہے، تاہم اب تک سامنے آنے والی تفصیلات سے واضح ہے کہ یہ کوئی مکمل اور حتمی معاہدہ نہیں، بلکہ مختلف مراحل پر مشتمل ایک فریم ورک ہے۔
مزید پڑھیں
اس پر عمل درآمد کے لیے اسرائیل کی باضابطہ منظوری، اقدامات کی ترتیب، نگرانی کے طریقۂ کار، حوالے کیے جانے والے ہتھیاروں کی نوعیت اور انہیں وصول یا محفوظ کرنے والے ادارے سے متعلق اختلافات کا حل ضروری ہوگا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات 30 جولائی 2026 کی شب اعلان کیا کہ ’بورڈ آف پیس‘ غزہ میں حماس اور دیگر مسلح گروہوں
کو مکمل طور پر غیرمسلح کرنے کے معاہدے تک پہنچ گیا ہے۔
ان کے مطابق عمل درآمد منظم مراحل میں ہوگا اور ہتھیار جمع کرانے کے عمل میں پیش رفت کے ساتھ اسرائیلی فوج بھی مرحلہ وار پیچھے ہٹے گی۔
اسی دوران ایک بین الاقوامی استحکام فورس اور نئی فلسطینی پولیس غزہ میں سکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھالیں گی۔
ٹرمپ نے اس سلسلے میں مصر، قطر اور ترکی کے ثالثی کردار کو بھی سراہا۔
امریکی تصور کے مطابق یہ منصوبہ محض ہتھیار اکٹھے کرنے تک محدود نہیں ہوگا۔ اس میں غزہ کی سیاسی اور سکیورٹی حکمرانی سے حماس کا کردار ختم کرنا، سرنگوں اور ہتھیار سازی کے مراکز کو غیر فعال کرنا اور غزہ کا انتظام ’غزہ کی قومی انتظامی کمیٹی‘ کے حوالے کرنا بھی شامل ہے۔
📰خلاصہ ⌄
غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک نیا فریم ورک سامنے آیا ہے، جس کے تحت حماس اور دیگر فلسطینی دھڑے اپنے ہتھیار اسرائیل کے بجائے ایک نئی فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کرسکتے ہیں۔ اس کے بدلے اسرائیلی فوج غزہ سے مرحلہ وار انخلا کرے گی، جبکہ سکیورٹی کی ذمہ داریاں فلسطینی پولیس اور ایک بین الاقوامی استحکام فورس کو منتقل کرنے کی تجویز ہے۔
یہ مجوزہ کمیٹی فلسطینی ٹیکنوکریٹس پر مشتمل ہوگی اور اسے بین الاقوامی اداروں اور بورڈ آف پیس کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے شہری خدمات، سرکاری اداروں کی بحالی اور تعمیر نو کی ذمہ داریاں سنبھالنا ہوں گی۔
تاہم حماس کے بیانات سے جلد ہی واضح ہوگیا کہ تحریک اور امریکی انتظامیہ اس مفاہمت کی ایک جیسی تشریح نہیں کررہے۔
امریکی انتظامیہ
اور حماس کی
مفاہمت کے
حوالے سے
تشریح میں
فرق ہے
حماس کے مذاکراتی وفد کے رکن غازی حمد نے کہا کہ تحریک نے ایک ’جامع فریم ورک‘ پر رضامندی ظاہر کی ہے، جو صرف ہتھیاروں کے مسئلے تک محدود نہیں، بلکہ شرم الشیخ میں 2025 میں طے پانے والے معاہدے کے تحت اسرائیلی ذمہ داریوں پر عمل درآمد سے بھی منسلک ہے۔
غازی حمد کے مطابق اسرائیل کو پہلے غزہ میں اپنے حملے بند کرنا ہوں گے، فوج کو ان مقامات سے پیچھے ہٹانا ہوگا جہاں وہ گزشتہ اکتوبر کے بعد داخل ہوئی، اور انسانی امداد اور تجارتی سامان کی آمد میں اضافہ کرنا ہوگا۔
ان اقدامات کے بعد حماس اپنے ہتھیار اسرائیل یا اسرائیلی فوج کے حوالے کرنے کے بجائے نئی فلسطینی قومی انتظامی کمیٹی کو منتقل کرنے کا عمل شروع کرسکتی ہے۔
اس مؤقف سے ظاہر ہوتا ہے کہ حماس براہ راست فوجی ہتھیار ڈالنے یا فوری طور پر اسرائیل کے سامنے اپنا اسلحہ جمع کرانے کی بات نہیں کررہی۔
⭐5 اہم ترین نکات ⌄
تحریک کی تشریح کے مطابق اسلحہ ایک نئے فلسطینی ادارے کو ایک جامع سیاسی تصفیے کے تحت منتقل کیا جائے گا، جس کے نتیجے میں جنگ اور غزہ میں اسرائیلی فوجی موجودگی کا خاتمہ ہونا چاہئے۔
حماس ایسی ضمانتیں بھی چاہتی ہے جن سے یہ یقینی بنایا جاسکے کہ اسرائیل، ہتھیاروں کی منتقلی یا فلسطینی دھڑوں کے عسکری ڈھانچے کو ختم کرنے کے بعد دوبارہ فوجی کارروائیاں شروع نہیں کرے گا۔
دوسری جانب اسرائیل اس عمل کے بالکل مختلف طریقۂ کار پر اصرار کررہا ہے۔
رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ اسرائیل اس وقت تک نام نہاد ’یلو لائن‘ سے پیچھے نہیں ہٹے گا جب تک حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح اور غزہ کو ہتھیاروں سے پاک نہیں کردیا جاتا۔
یوں پورے مجوزہ معاہدے کی بنیادی رکاوٹ ایک ہی سوال میں سمٹ آتی ہے:
کیا اسرائیل پہلے انخلا کرے گا تاکہ حماس ہتھیار جمع کرانے کا عمل شروع کرے، یا حماس پہلے ہتھیار چھوڑے گی تاکہ اسرائیل اپنی فوج واپس بلائے؟
امریکی تجویز اس مشکل کو باہمی اور متوازی اقدامات کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
اس کے تحت ہر مرحلے میں دونوں فریق ایک مخصوص قدم اٹھائیں گے اور اس کی تصدیق کے بعد اگلے مرحلے میں داخل ہوں گے۔
📌فیکٹ باکس ⌄
امریکی ذرائع نے اس منصوبے کو ’عدم اعتماد پر مبنی فارمولہ‘ قرار دیا ہے، کیونکہ حماس کو خدشہ ہے کہ اسلحہ حوالے کرنے کے بعد اسرائیل انخلا نہیں کرے گا، جبکہ اسرائیل کو شبہ ہے کہ فوجی پسپائی شروع ہونے کے بعد حماس اپنے عسکری ڈھانچے کو حقیقتاً ختم نہیں کرے گی۔
ابتدائی تفصیلات کے مطابق عمل کا آغاز غزہ میں موجود پولیس فورس کے ہتھیار نئی فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کرنے سے ہوسکتا ہے۔
یہ مرحلہ تقریباً دو ہفتوں میں شروع کیے جانے کی تجویز ہے۔
تاہم یہ قدم حماس کے زیادہ تر جنگجوؤں یا تحریک اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے بھاری ہتھیاروں کا احاطہ نہیں کرے گا۔
سب سے پیچیدہ مرحلہ راکٹوں، میزائلوں، ٹینک شکن ہتھیاروں، دھماکا خیز مواد، زیرزمین سرنگوں، اسلحہ سازی کی تنصیبات اور خفیہ گوداموں سے متعلق ہوگا۔
امریکی ابتدائی اندازوں کے مطابق بھاری ہتھیاروں کو حوالے کرنے اور سرنگوں اور فوجی مراکز کو غیر فعال کرنے کا عمل 200 سے 350 دن تک جاری رہ سکتا ہے۔ تاہم اس کے لیے ابھی کوئی حتمی اور متفقہ شیڈول موجود نہیں۔
🧭مجوزہ عمل درآمد کے مراحل ⌄
اس پوری کارروائی میں بین الاقوامی استحکام فورس کو بنیادی کردار دیے جانے کا امکان ہے۔
یہ فورس نئی فلسطینی پولیس کی تربیت، ہتھیاروں کی وصولی، ان کی محفوظ منتقلی یا تباہی کی تصدیق اور اسرائیلی فوج اور فلسطینی انتظامیہ کے زیرکنٹرول علاقوں کے درمیان تعیناتی میں معاونت کرے گی۔
اس فورس کی تشکیل بھی کئی پیچیدہ سوالات کو جنم دیتی ہے۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ کون سے ممالک اس میں شامل ہوں گے، اس کے اختیارات کیا ہوں گے، طاقت کے استعمال کے قواعد کیسے طے کیے جائیں گے اور وہ ان فلسطینی گروہوں سے کس طرح نمٹے گی جو ہتھیار جمع کرانے سے انکار کرسکتے ہیں۔
اس کے علاوہ فورس کی کامیابی کے لیے فلسطینی اور اسرائیلی، دونوں جانب سے قبولیت ضروری ہوگی، تاکہ غزہ کے باشندے اسے کسی ایسی غیرملکی قوت کے طور پر نہ دیکھیں جو اسرائیلی مفادات کے تحفظ یا فلسطینیوں پر سکیورٹی انتظامات مسلط کرنے کے لیے تعینات کی گئی ہو۔
❗یہ کیوں اہم ہے؟ ⌄
یہ پیش رفت اس لیے غیرمعمولی ہے کہ پہلی مرتبہ حماس غزہ کی حکمرانی چھوڑنے اور اپنے ہتھیار کسی فلسطینی انتظامیہ کو منتقل کرنے کے امکان پر سنجیدہ مذاکرات کررہی ہے۔ منصوبہ کامیاب ہوا تو مستقل جنگ بندی، تعمیر نو، بے گھر فلسطینیوں کی واپسی اور غزہ میں نئی انتظامی و سکیورٹی ساخت کا راستہ کھل سکتا ہے۔
مسئلہ صرف حماس تک محدود نہیں۔
غزہ میں فلسطینی اسلامی جہاد سمیت دیگر مسلح گروہ بھی موجود ہیں، جبکہ جنگ کے دوران متعدد چھوٹے گروہ اور مقامی مسلح نیٹ ورک بھی سامنے آئے ہیں۔
لہٰذا غزہ کو غیرمسلح کرنے کا عمل اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک تمام دھڑے اس میں شامل نہ ہوں اور دوبارہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ یا مقامی سطح پر تیاری کو روکنے کا مؤثر نظام قائم نہ کیا جائے۔
اس مرحلے پر اسرائیل کا سرکاری مؤقف سب سے زیادہ غیریقینی عنصر ہے۔
جمعہ 31 جولائی کی صبح تک اسرائیلی حکومت نے نئی تجویز کی باضابطہ منظوری کا اعلان نہیں کیا تھا، اگرچہ امریکی حکام کا کہنا تھا کہ تل ابیب کو مذاکرات کے تمام مراحل سے آگاہ رکھا گیا ہے۔
اسرائیلی قیادت کو یہ شبہ بھی ہے کہ حماس واقعی اپنی پوری عسکری طاقت، ہتھیاروں کے ذخیرے اور غزہ کے اندر موجود سکیورٹی اثرورسوخ سے دستبردار ہونے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔
🔎کیا تصدیق ہوئی، کیا ابھی واضح نہیں؟ ⌄
✓ کیا تصدیق ہوئی؟
- حماس ایک وسیع فریم ورک پر بات کرنے پر آمادہ ہے۔
- اسلحہ فلسطینی انتظامیہ کو منتقل کرنے کی تجویز موجود ہے۔
- مرحلہ وار انخلا اور نزع سلاح پر مذاکرات ہورہے ہیں۔
- علاقائی ثالث مذاکرات میں شریک ہیں۔
؟ کیا ابھی واضح نہیں؟
- اسرائیل کی حتمی اور باضابطہ منظوری۔
- اسرائیلی فوج کے مکمل انخلا کی تاریخ۔
- تمام فلسطینی دھڑوں کی شرکت۔
- بین الاقوامی فورس کی ساخت اور اختیارات۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب حماس اس سے قبل غزہ میں اپنی شہری حکومت تحلیل کرنے اور اقتدار ایک فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کو منتقل کرنے پر آمادگی ظاہر کرچکی ہے۔
اگر انتظامی اقتدار کی منتقلی کے ساتھ ہتھیار بھی نئے فلسطینی ادارے کے حوالے کیے جاتے ہیں تو یہ 2007 سے قائم حماس کی حکمرانی کے ماڈل کے خاتمے اور غزہ میں ایک بالکل نئے سیاسی اور سکیورٹی دور کے آغاز کے مترادف ہوگا۔
اس کے باوجود امریکی اعلان میں موجود امید پسندی، اس پورے عمل کی ناکامی کے امکانات کو ختم نہیں کرتی۔
اسلحہ جمع کرنے کے معاہدہ کی تعریف پر اختلاف، خفیہ ہتھیاروں یا سرنگوں کے الزامات، کسی فلسطینی دھڑے کی مخالفت یا اسرائیل کی جانب سے سکیورٹی ضرورت کے نام پر غزہ کے بعض علاقوں میں موجودگی برقرار رکھنے کے باعث تعطل کا شکار ہوسکتا ہے۔
مذاکرات کے دوران اسرائیلی حملوں اور فوجی کارروائیوں کا جاری رہنا بھی فریقین کے درمیان پہلے ہی کمزور اعتماد کو مکمل طور پر ختم کرسکتا ہے۔
🔮ممکنہ اگلا منظرنامہ ⌄
مثبت منظرنامہ
اسرائیل منظوری دیتا ہے، مرحلہ وار انخلا اور ہتھیاروں کی منتقلی شروع ہوجاتی ہے اور مستقل جنگ بندی کی راہ ہموار ہوتی ہے۔
درمیانی منظرنامہ
محدود انخلا اور پولیس کے اسلحے کی منتقلی شروع ہوتی ہے، مگر بھاری ہتھیاروں اور سرنگوں پر مذاکرات طویل ہوجاتے ہیں۔
منفی منظرنامہ
دونوں فریق پہلے قدم کی شرط پر قائم رہتے ہیں اور مجوزہ فریم ورک عملی مرحلے سے پہلے تعطل کا شکار ہوجاتا ہے۔
اسرائیل کے اندر سیاسی دباؤ حکومت کو مکمل انخلا سے متعلق رعایتیں دینے سے روک سکتا ہے، جبکہ حماس کو بھی اپنے اندر اور دیگر فلسطینی دھڑوں کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، خصوصاً اگر ہتھیار جمع کرانے کے بدلے فلسطینی ریاست، مستقل جنگ بندی یا اسرائیلی انخلا کی واضح ضمانت نہ ملے۔
اس لیے موجودہ پیش رفت کو ایک اہم سیاسی پیش رفت تو قرار دیا جاسکتا ہے، لیکن اسے ابھی جنگ کا خاتمہ نہیں سمجھا جاسکتا۔
پہلی مرتبہ ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ حماس اصولی طور پر ہتھیار کسی فلسطینی انتظامیہ کے حوالے کرنے اور غزہ کی حکمرانی سے دستبردار ہونے پر بات کرنے کے لیے تیار ہے، بشرطیکہ اسرائیل انخلا کرے اور اقتدار ایک نئی فلسطینی حکومت کو منتقل کیا جائے۔
تاہم اس منصوبے کی کامیابی سیاسی اعلانات سے نہیں بلکہ زمینی اقدامات سے جانچی جائے گی۔
⏱️ایک منٹ میں پوری کہانی ⌄
غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ایسا فریم ورک زیرِ بحث ہے جس میں حماس اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے ہتھیار نئی فلسطینی انتظامیہ کو منتقل کیے جائیں گے، جبکہ اسرائیلی فوج مرحلہ وار غزہ سے پیچھے ہٹے گی۔ حماس پہلے اسرائیلی حملوں کے خاتمے اور انخلا کا مطالبہ کررہی ہے، جبکہ اسرائیل پہلے مکمل نزع سلاح چاہتا ہے۔ اسی اختلاف کے باعث یہ پیش رفت اہم ہونے کے باوجود ابھی حتمی امن معاہدہ نہیں بنی۔
موجودہ حیثیت: مجوزہ فریم ورکمعاہدے میں حقیقی پیش رفت کی پہلی واضح علامت اسرائیل کی باضابطہ منظوری ہوگی، جس کے بعد ایک پابند شیڈول سامنے آنا چاہیے۔
اس میں اسرائیلی انخلا کے مقامات، ہتھیاروں کی حوالگی کے مراحل، بین الاقوامی فورس کا کردار اور حملے دوبارہ شروع نہ کرنے کی ضمانتیں واضح طور پر درج ہوں۔
اس وقت تک غزہ ایک نادر مگر نہایت نازک موقع کے سامنے کھڑا ہے۔
یا تو ’ہتھیاروں کے بدلے انخلا‘ کا فارمولہ جنگ کے خاتمے، فلسطینی انتظامیہ کی بحالی اور غزہ کی تعمیر نو کا راستہ کھول دے گا، یا پھر یہ بھی ان سیاسی وعدوں کی فہرست میں شامل ہوجائے گا جو اس سوال پر ٹوٹ جاتے ہیں کہ پہلا قدم کون اٹھائے گا۔
🕊️
اصل اور بنیادی ذرائع
حماس کے نزع سلاح، اسرائیلی انخلا، فلسطینی انتظامیہ اور غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس سے متعلق بنیادی ذرائع
9 بنیادی ذرائع
اصل اور بنیادی ذرائع
حماس کے نزع سلاح، اسرائیلی انخلا، فلسطینی انتظامیہ اور غزہ میں مجوزہ بین الاقوامی استحکام فورس سے متعلق بنیادی ذرائع