خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود نے متعدد اہم شاہی فرمان جاری کیے ہیں، جن کے تحت مختلف وزارتوں، سرکاری اداروں اور اعلیٰ عہدوں پر تقرریاں اور تبدیلیاں عمل میں لائی گئی ہیں۔
ان اقدامات کو حکومتی اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے اور انتظامی ڈھانچے کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قرار دیا گیا ہے۔
سعودی پریس ایجنسی کے مطابق شاہی فرمان میں شہزادہ عبد العزیز بن سلمان کو وزارتِ توانائی کے ساتھ ساتھ وزیرِ صنعت و معدنی وسائل بھی مقرر کر دیا گیا ہے، جس سے توانائی اور صنعتی شعبوں کے درمیان ہم آہنگی کو مزید فروغ ملنے کی توقع ہے۔
اسی سلسلے میں بندر الخریف کو وزیرِ صنعت و معدنی وسائل کے عہدے سے سبکدوش کر کے وزیرِ مملکت اور رکنِ کابینہ مقرر کیا گیا ہے۔
ساتھ ہی انہیں جنرل اتھارٹی برائے عسکری صنعت General Authority for Military Industries کے گورنر کی ذمہ داریاں بھی سونپی گئی ہیں، جبکہ انجینئر احمد العوہلی کو اس منصب سے فارغ کر دیا گیا ہے۔
عدالتی شعبے میں شیخ ڈاکٹر محمد بن سلیمان المطلق کو ممتاز درجے پر نائب وزیرِ انصاف مقرر کیا گیا ہے۔
شاہی احکامات میں شلعان بن شلعان کو نائب پراسیکیوٹر جنرل کے منصب سے ہٹا کر شاہی دیوان میں ممتاز درجے پر مشیر مقرر کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
بلدیاتی شعبے میں احسان بن عباس بن حمزہ بافقیہ کو ممتاز درجے پر جدہ کا میئر مقرر کیا گیا ہے۔
مالیاتی شعبے میں عبدالإلہ الدحیم کو سعودی مرکزی بینک ’ساما‘ میں ایگزیکٹو امور کے نائب گورنر، جبکہ طلال الحمود کو فنی امور کے نائب گورنر کے طور پر ممتاز درجے پر تعینات کیا گیا ہے۔
یہ تمام شاہی فرمان سعودی پریس ایجنسی نے جاری کیے، جنہیں حکومتی اداروں میں اصلاحات، انتظامی استعداد میں اضافے اور مملکت کے ترقیاتی وژن کے تسلسل کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔