براہ راست نشریات

فضا میں موت سے سامنا، کھڑکی اکھڑتے ہی مسافر باہر لٹک گیا

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
طیارہ حادثہ
زخمی مسافر کو گردن اور کندھے پر چوٹیں آئیں (فوٹو: ایکس)

یونان سے جرمنی جانے والی ریان ایئر کی پرواز دورانِ پرواز اس وقت خوف و ہراس کا شکار ہو گئی جب ایک کھڑکی اچانک اپنی جگہ سے الگ ہو گئی۔
دباؤ ختم ہونے سے ایک مسافر جزوی طور پر طیارے سے باہر کھنچ گیا، تاہم اس کی سیٹ بیلٹ اور دیگر مسافروں کی بروقت مدد نے اس کی جان بچا لی۔

یونان سے جرمنی جانے والی ایک مسافر بردار پرواز میں پیش آنے والے ہولناک واقعے نے فضائی سفر کے دوران حفاظتی اقدامات کی اہمیت ایک بار پھر اجاگر کر دی۔ 

دورانِ پرواز اچانک ایک کھڑکی الگ ہونے سے کیبن کا دباؤ ختم ہوگیا، آکسیجن ماسک خود بخود نیچے آ گئے، جبکہ ایک مسافر جزوی طور پر طیارے سے باہر کھنچ گیا۔ 

خوش قسمتی سے اس کی سیٹ بیلٹ بندھی ہوئی تھی اور قریبی مسافروں نے فوری طور پر اسے اندر کھینچ لیا، جس سے ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔

مزید پڑھیں

الجزیرہ کے مطابق یہ واقعہ جمعہ کی صبح ریان ایئر کی اس پرواز میں پیش آیا جو یونان کے شہر تھیسالونیکی سے جرمنی کے شہر میمنگن جا رہی تھی۔ 

ایئرلائن کے مطابق پرواز کے ٹیک آف کے کچھ ہی دیر بعد ایک مسافر کی کھڑکی اپنی جگہ سے الگ ہو گئی، جس کے بعد پائلٹ نے فوری طور پر ہنگامی صورتحال کا اعلان کرتے ہوئے طیارہ واپس تھیسالونیکی موڑ دیا۔

61 سالہ مسافر زخمی

حکام کے مطابق متاثرہ شخص 61 سالہ سرب شہری تھا، جسے گردن، کندھے اور جسم کے اوپری حصے پر رگڑ کے باعث زخم آئے۔ 

اسے فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ابتدائی طبی امداد فراہم کی گئی۔ 

حکام نے اس کی شناخت ظاہر نہیں کی، جبکہ اس کی موجودہ حالت کے بارے میں مزید معلومات جاری نہیں کی گئیں۔ 

طیارے میں خوفناک مناظر

مسافروں کے مطابق اچانک ایک زوردار دھماکے جیسی آواز سنائی دی، جس کے فوراً بعد آکسیجن ماسک نیچے آ گئے اور طیارہ تیزی سے نیچے آنے لگا۔

ایک خاتون مسافر نے یونانی میڈیا کو بتایا کہ چند لمحوں کے لیے ہر طرف چیخ و پکار مچ گئی۔ اس کے مطابق متاثرہ شخص کا سر، گردن اور کندھے کھڑکی سے باہر نکل گئے تھے، مگر ساتھ بیٹھے مسافروں نے اسے مضبوطی سے پکڑ کر واپس اندر کھینچ لیا۔

ایک اور مسافر نے بتایا کہ زیادہ تر لوگ اس وقت سو رہے تھے یا آرام کر رہے تھے۔ 

اچانک ایسا محسوس ہوا جیسے کسی گاڑی کا ٹائر زور سے پھٹ گیا ہو، لیکن آواز اس سے کہیں زیادہ شدید تھی۔ 

اس کے بعد سب کو اندازہ ہو گیا کہ طیارے کے اندر کا دباؤ ختم ہو چکا ہے۔

سیٹ بیلٹ نے جان بچا لی

ماہرین کے مطابق اگر متاثرہ مسافر نے سیٹ بیلٹ نہ باندھی ہوتی تو نتائج انتہائی خوفناک ہو سکتے تھے۔

امریکی جامعہ جارج ٹاؤن کے سابق کمرشل پائلٹ اور فضائی سلامتی کے ماہر شائی گیلاد کا کہنا ہے کہ اچانک دباؤ ختم ہونے پر کھڑکی یا سوراخ کے قریب انتہائی طاقتور سکشن پیدا ہوتا ہے، جو ابتدائی چند سیکنڈ میں انسان کو اپنی طرف کھینچ سکتا ہے۔ 

ایسے حالات میں سیٹ بیلٹ ہی سب سے مؤثر حفاظتی ذریعہ ثابت ہوتی ہے۔

حادثے کی وجہ پر ابہام

ریان ایئر نے تاحال واضح نہیں کیا کہ کھڑکی کس وجہ سے الگ ہوئی۔

دوسری جانب امریکی نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ NTSB نے کہا ہے کہ انہیں موصول ہونے والی ابتدائی اطلاع میں دائیں انجن میں خرابی اور کیبن پریشر میں اچانک کمی دونوں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ دونوں واقعات آپس میں منسلک تھے یا نہیں۔

تحقیقات بین الاقوامی قواعد کے مطابق مقدونیہ شمالی کی فضائی حادثات تحقیقاتی کمیٹی کی نگرانی میں کی جائیں گی، جبکہ امریکی ادارہ تکنیکی معاونت فراہم کرے گا۔

طیارے کی تفصیلات

حادثے کا شکار طیارہ بوئنگ 737-800 تھا، جس میں 189 مسافروں کی گنجائش ہے۔ 

یہ طیارہ 2008 سے ریان ایئر کے بیڑے میں شامل ہے۔

فلائٹ ٹریکنگ ڈیٹا کے مطابق طیارہ پرواز کے تقریباً چھ منٹ بعد 15 ہزار فٹ سے زائد بلندی تک پہنچا، لیکن دباؤ ختم ہونے کے بعد تیزی سے تقریباً 6 ہزار فٹ تک نیچے آیا۔ 

بعد ازاں تقریباً 30 منٹ تک فضا میں گردش کرتے ہوئے اضافی ایندھن کم کیا گیا، جس کے بعد طیارے نے محفوظ انداز میں تھیسالونیکی ایئرپورٹ پر ہنگامی لینڈنگ کی۔

ریان ایئر کا کہنا ہے کہ تمام مسافر بحفاظت اتر گئے، زخمی شخص کو فوری طبی امداد دی گئی، جبکہ بعد میں ایک متبادل طیارے کے ذریعے باقی مسافروں کو جرمنی روانہ کر دیا گیا۔