اطالوی کمپنی لاواٹزا (Lavazza) کے چیئرمین جوزیپے لاواٹزا نے خبردار کیا ہے کہ عالمی منڈی میں کافی کی قیمتوں میں اضافہ اگلے 2 برسوں تک جاری رہ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
انہوں نے بلومبرگ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ مارکیٹ میں سپلائی کی گراوٹ اور شدید اتار چڑھاؤ کے باعث قیمتوں میں خاطر خواہ کمی کا امکان نہیں ہے۔
لاواٹزا کے مطابق کافی کا عالمی مارکیٹ میں عدم استحکام ایک مستقل حقیقت بن چکا ہے۔
قیمتوں میں توازن لانے کے لیے برازیل اور ویتنام میں کم از کم 2 بہترین
پیداواری سیزن کی ضرورت ہے تاکہ گزشتہ برسوں کے دوران ختم ہونے والے عالمی ذخائر کو بحال کیا جا سکے۔
حال ہی میں نیویارک میں عربیکا کافی کے سودوں میں 26 برس کی بلند ترین سطح کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو مارکیٹ میں جاری شدید بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگرچہ برازیل میں ریکارڈ پیداوار کی امیدیں تھیں، لیکن ذخائر میں کمی اور موسمیاتی تبدیلیوں نے ان توقعات کو دھندلا دیا ہے۔
جون میں ماہرین موسمیات کی جانب سے النینو کے اثرات کی پیش گوئی کے بعد سے کافی کی قیمتوں میں 30 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
یہ موسمیاتی رجحان برازیل سمیت اہم پیداواری ممالک میں درجہ حرارت اور بارشوں کے معمولات کو متاثر کر رہا ہے، جس سے فصلوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
اُدھر یورپ، خاص طور پر جرمنی کی ریٹیل مارکیٹ میں کچھ برانڈز کی قیمتوں میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے۔
لڈل، کاؤفلینڈ اور ایلڈی جیسے بڑے اسٹورز نے جیکبز اور لاواٹزا سمیت دیگر برانڈز کی قیمتوں میں تخفیف کی ہے، تاہم یہ ریلیف 2020ء کی سطح کے مقابلے میں اب بھی کافی کم ہے۔
جرمن فیڈرل اسٹیٹسٹیکل آفس کے اعداد و شمار کے مطابق ریٹیل سطح پر ہونے والی یہ محدود کمی پیداواری لاگت میں اضافے اور عالمی سپلائی چین کے مسائل کو مکمل طور پر ختم نہیں کر سکی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک عالمی پیداوار میں بہتری نہیں آتی، صارفین کو مہنگی کافی خریدنی پڑے گی۔