گوگل میپس نے نیویگیشن ایپ سے ایک جدید ایکسپلوریشن پلیٹ فارم میں خود کو تبدیل کر لیا ہے، جس میں جیمینائی آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور آسک میپس جیسی خصوصیات شامل ہیں۔
مزید پڑھیں
اب کمپنی ایک ایسی نئی سہولت پر کام کر رہی ہے جس کے تحت صارفین براہ راست ایپ کے ذریعے کھانے کا آرڈر دے سکیں گے۔
اینڈرائیڈ اتھارٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق گوگل میپس کے تازہ ترین بیٹا ورژن میں اس نئی خصوصیت کے اشارے ملے ہیں۔
یہ فیچر فی الحال عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں ہے، تاہم ایپ کی کوڈنگ میں اس حوالے سے واضح ہدایات اور ٹیکسٹ سٹرنگز موجود ہیں
جو اس کی تیاری کی تصدیق کرتی ہیں۔
یہ معلومات اینڈرائیڈ کے لیے گوگل میپس کے ورژن 26.27.00.941319029 سے حاصل ہوئی ہیں۔
اے پی کے فائل کے تجزیے کے دوران آسک میپس ٹو آرڈر فوڈ نامی فیچر دریافت ہوا ہے، جو صارفین کو اپنی پسند کا کھانا بتانے پر خود بخود آرڈر مکمل کرنے کی سہولت فراہم کرے گا۔
اس فیچر کے ذریعے صارفین کو صرف یہ بتانا ہوگا کہ وہ کیا کھانا چاہتے ہیں، جس کے بعد گوگل میپس مقامی ریستوران تلاش کرے گا اور صارف کی جانب سے آرڈر مکمل کر دے گا۔
یہ عمل سفر کے دوران بھی کارآمد ثابت ہوگا جس سے صارفین کا کافی وقت بچ سکے گا۔
اس سہولت کے متعارف ہونے سے صارفین کو الگ سے فوڈ ڈیلیوری ایپس پر جانے، مینو دیکھنے یا ادائیگی کے مراحل سے گزرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔
گوگل کا یہ اقدام اے آئی ایجنٹس تیار کرنے کی حکمت عملی کا حصہ ہے جو صرف معلومات نہیں بلکہ عملی کام بھی کر سکیں۔
گزشتہ ایک سال کے دوران جیمینائی کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس میں اپائنٹمنٹس بک کرنا، کیلنڈر کا انتظام سنبھالنا اور روزمرہ کی پیداواری سرگرمیوں میں مدد شامل ہے۔
کھانے کا آرڈر دینے کی یہ نئی سہولت گوگل کے اس وسیع تر تکنیکی وژن کا ایک عملی اور اہم حصہ ثابت ہوگی۔