کولوراڈو بولڈر یونیورسٹی کی ایک نئی تحقیق مصنوعی ذہانت کے استعمال سے جڑے ایک نئے اور متنازع پہلو کو سامنے لائی ہے۔
مزید پڑھیں
اس تحقیق کے مطابق جو لوگ انتقال کر جانے والے اپنے پیاروں کی ڈیجیٹل شبیہ کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، وہ اسے گہرا جذباتی تجربہ قرار دیتے ہیں۔
ڈیجیٹل شبیہ کا تصور
محققین نے مصنوعی ذہانت کے ذریعے تیار کردہ ان شبیہوں کو ’جنریٹو گھوسٹ‘ یعنی ’تخلیق کیے گئے بھوت‘ کا نام دیا ہے۔
یہ ٹیکنالوجی جنیریٹو اے آئی پر انحصار کرتی ہے، جو کسی شخص کے بارے میں فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر اس کی ایک ڈیجیٹل نقل تیار کر لیتی ہے، جو قریبی لوگوں کے لیے حیران کن بھی ہے اور باعثِ تشویش بھی۔
تحقیق کا طریقہ
اس مطالعے میں 22 سے 50 سال کی عمر کے 16 ایسے افراد شامل کیے گئے، جنہوں نے اپنے قریبی عزیزوں کو کھو دیا تھا۔
پی ایچ ڈی اسکالر جیک میننگ اور پروفیسر جیڈ بروبیکر کی قیادت میں ہونے والی اس تحقیق میں زوم کے ذریعے شرکا کو مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کردہ ورچوئل شبیہ سے بات کرائی گئی۔
ان شرکا نے 2 مختلف انداز کی شبیہوں سے بات کی۔ پہلی شبیہ متکلم (یعنی میں) کے صیغے میں بات کر رہی تھی، جبکہ دوسری غائب (وہ) کے صیغے میں۔
تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ تمام شرکا نے متکلم کے انداز کو ترجیح دی، کیونکہ یہ انہیں مرحومین کی موجودگی کا زیادہ حقیقی احساس فراہم کرتا ہے۔
حساس تفصیلات کی اہمیت
شرکا نے اس تجربے میں معمولی معلوماتی غلطیوں کو نظر انداز کیا، لیکن انفرادی شناخت یا بات چیت کے مخصوص لہجے میں تبدیلی کو قبول نہیں کیا۔
ایک واقعے میں جب ڈیجیٹل شبیہ نے ایک خاص لفظ استعمال کیا جو مرحوم کبھی نہیں بولتے تھے، تو شریک نے فوری طور پر بات چیت ختم کرنے کا سوچ لیا۔
تجارتی خدمات اور اخلاقی پہلو
کولوراڈو بولڈر یونیورسٹی اور ایسوسی ایشن فار کمپیوٹنگ مشینری کی تحقیق اپنی نوعیت کی پہلی کوشش ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ خیال صرف تجربہ گاہ تک محدود نہیں رہا، بلکہ پروجیکٹ دسمبر اور ہیئر آفٹر اے آئی جیسی کمپنیاں اب اسے تجارتی بنیادوں پر فراہم کر رہی ہیں۔
جذباتی انحصار کا خطرہ
تحقیق میں شامل تمام شرکا نے دوبارہ اس ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کی خواہش ظاہر کی، تاہم ان میں سے بیشتر نے خبردار کیا کہ یہ عمل انسان کو جذباتی طور پر ان ڈیجیٹل شبیہوں کا عادی بنا سکتا ہے۔
محققین اب ماہرینِ نفسیات کے ساتھ مل کر اس کے ممکنہ علاج اور نفسیاتی خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں۔
مصنوعی ذہانت کا یہ پہلو جہاں غمزدہ افراد کے لیے نئی امید کی ایک کرن دکھائی دیتا ہے، وہیں یہ انسانی نفسیات اور یادوں کے تقدس کے لیے سنجیدہ سوالات بھی کھڑے کرتا ہے۔
نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کی افادیت اپنی جگہ، لیکن اس کا حد سے زیادہ استعمال انسانی جذباتی توازن کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتا ہے۔