ایک وقت تھا جب سیارچے (Asteroids) بغیر کسی پیشگی اطلاع کے زمین کے لیے خطرہ بنے ہوئے تھے، لیکن اب جدید دفاعی نظام انہیں زمین تک پہنچنے سے مہینوں اور برسوں پہلے ہی ٹریس کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مزید پڑھیں
30 جون کو بین الاقوامی سائنسی برادری ’عالمی یومِ سیارچہ‘ مناتی ہے۔
اس دن کا آغاز 2016 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ایک باضابطہ فیصلے کے تحت ہوا، جس کی تجویز برطانوی ماہرِ فلکیات و طبیعیات ’برائن مے‘ کی زیرِقیادت سائنسدانوں اور فلم سازوں نے دی تھی۔
اس دن کا مقصد جدید تاریخ میں زمین سے ٹکرانے والے سب سے بڑے شہابی واقعے کی یاد تازہ کرنا ہے۔
تونگوسکا سے جدید الرٹ سسٹم تک
30جون 1908 کو سائبیریا کے علاقے تونگوسکا میں ایک شہابیہ فضا ہی میں دھماکے سے پھٹ گیا تھا، جس نے بغیر کسی انتباہ کے تقریباً 80 ملین درختوں کو تباہ کر دیا تھا۔
آج یہ دن ایک بالکل مختلف پیغام کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جدید رصدگاہی نظاموں کی بدولت اب کائناتی حیرانیوں اور خوف کا دور ختم ہونے کے قریب ہے۔
انسانی صلاحیتوں میں انقلابی تبدیلی
امریکی خلائی ادارے (ناسا) کے ذیلی دفتر کی رپورٹس بتاتی ہیں کہ انسانیت نے کائناتی خطرات کو بھانپنے میں غیر معمولی پیش رفت کی ہے۔
کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری کے ماہرین کے مطابق زمینی ریڈار سسٹم نے حال ہی میں خلا کی گہرائیوں میں ہی 7 چھوٹے شہابیوں کو شناخت کیا اور ان کے زمین سے ٹکرانے کے وقت اور مقام کا سیکنڈز کی درستگی کے ساتھ تعین کیا۔
ان میں سب سے نمایاں 2008 کا شہابیہ ’2008 TC3‘ ہے جو سوڈان کے اوپر فضا میں بکھر گیا تھا، جبکہ 2024 کا شہابیہRW1 فلپائن کے اوپر فضا میں داخل ہوتے ہی ایک سبز روشنی میں بدل کر راکھ ہو گیا، جسے شناخت کے صرف 8 گھنٹے بعد ہی دیکھ لیا گیا تھا۔
روس کا واقعہ: لمحہ بیداری
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ تکنیکی تبدیلی حادثاتی نہیں بلکہ بڑے واقعات کا نتیجہ ہے۔
2013 میں روس کے شہر چیلیابنسک میں گرنے والے شہابیے نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا، جس کے دھماکے سے 1500 سے زائد افراد کھڑکیوں کے ٹوٹنے سے زخمی ہوئے تھے۔
ناسا کے سابق انسپکٹر برائے دفاع سیارہ جات ’لِنڈلے جانسن‘ کے مطابق روسی شہابیہ ایک الارم تھا جس نے انسانیت کو غفلت سے جگایا اور ثابت کیا کہ کائناتی خطرات محض نظریاتی نہیں بلکہ حقیقت ہیں۔
اس کے بعد ہی انٹرنیشنل ایسٹرائڈ وارننگ نیٹ ورک قائم کیا گیا تاکہ عالمی سطح پر نگرانی مربوط کی جا سکے۔
بڑے سیاروں کو قابو کرنا
’نیئر ارتھ آبجیکٹ اسٹڈیز سینٹر‘ کے مطابق سائنسدان اب خلائی دیوؤں کو بھی قابو کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔
مشہور شہابیہ اپوفس (Apophis) جس کے بارے میں خدشہ تھا کہ وہ زمین سے ٹکرا سکتا ہے، اب مکمل طور پر محفوظ قرار دیا گیا ہے۔
یہی نہیں، 2029 میں یہ زمین کے انتہائی قریب سے گزرے گا جسے دنیا بھر میں لاکھوں لوگ عام آنکھوں (بغیر دُوربین) سے دیکھ سکیں گے۔
مزید برآں ناسا کا ڈارٹ (DART) مشن، جس نے ایک شہابیے کو ٹکر مار کر اس کا راستہ تبدیل کیا، اس بات کا ثبوت ہے کہ اب کائنات کے تباہ کن واقعات انسانی ارادے اور سائنسی تدبر کے تابع ہیں۔
عالمی یوم سیارچہ محض اعداد و شمار کا دن نہیں، بلکہ انسانی عقل کی عظمت اور مسلسل تحقیق کی قدر کا اعتراف ہے۔
آج ہم آسمان کی طرف ڈائنوسارز کی طرح خوف سے نہیں دیکھتے، بلکہ ایک باشعور تہذیب کی طرح دیکھتے ہیں جو یہ جانتی ہے کہ علم ہی وہ نور ہے جو نامعلوم کے اندھیروں کو مٹاتا ہے۔
کائنات کو سمجھنا اور زمین کو محفوظ بنانا ہی انسان کا سب سے بڑا فکری اعزاز اور بنیادی فریضہ ہے۔