سعودی عرب نے اقوام متحدہ کے پائیدار ترقیاتی اہداف کے ڈیٹا بیس اور جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس کے 2025 کے سیکیورٹی انڈیکس کے مطابق جی 20 ممالک میں پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے۔
مزید پڑھیں
رپورٹ کے مطابق سعودی عرب میں رات کے اوقات میں تنہا چلنے پر خود کو محفوظ سمجھنے والے شہریوں کی شرح 97.7 فیصد تک ریکارڈ کی گئی ہے۔
سعودی حکام کے مطابق یہ کامیابی وژن 2030 کے تحت معاشی، غذائی، ماحولیاتی، صحت، سماجی، سیاسی اور سائبر سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں کی جانے والی ٹھوس کوششوں کا نتیجہ ہے۔
اس جامع حکمت عملی کا مقصد مملکت کے تمام ریجنز اور گورنریٹس میں شہریوں کو پرامن اور معیاری زندگی فراہم کرنا ہے۔
سیکیورٹی کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے سعودی وزارت داخلہ کے اشتراک سے کئی جدید اقدامات کیے گئے ہیں۔
ان اقدامات میں جرائم کی یکساں درجہ بندی، 911 ایمرجنسی سروس کا قیام، جدید پولیس مراکز کا قیام اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے جرائم کے تجزیے کے لیے ’امن‘ پلیٹ فارم کا اجرا شامل ہے۔
اس طرح کے اہم فیصلوں کے نتیجے میں مملکت میں مجموعی سیکیورٹی احساس کی شرح 99.86 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
وزارت داخلہ کے مطابق 911 ایمرجنسی مراکز کے قیام سے اب تک 210 ملین سے زائد کالز موصول ہو چکی ہیں، جو کہ فوری رسپانس سسٹم کی افادیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
مملکت میں سیکیورٹی آپریشنز کے مراکز کا نیٹ ورک مسلسل پھیلایا جا رہا ہے۔
پہلا مرکز 2014 میں مکہ مکرمہ میں قائم ہوا، جس کے بعد 2020 میں ریاض، 2022 میں مشرقی ریجن اور گزشتہ برس مدینہ منورہ میں مراکز کا افتتاح کیا گیا۔
حال ہی میں الباحہ ریجن میں بھی نئے مرکز کا سنگ بنیاد رکھا گیا ہے۔
یہ نیشنل آپریشن سینٹرز سول ڈیفنس، ٹریفک، روڈ سیکیورٹی اور پولیس سمیت تمام سیکیورٹی اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر لاتے ہیں۔
اس نظام سے معلومات کا تبادلہ آسان ہوا ہے اور ہنگامی حالات میں فوری احکامات جاری کرنے اور بحرانی صورتحال کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔