شمالی غزہ کے جبالیہ کیمپ میں 150 جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب منعقد کی گئی، جہاں ہر آنکھ میں بے مثال عزم اور حوصلہ نظر آیا۔
مزید پڑھیں
اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے بعد یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے، جس نے تباہی اور محاصرے کے درمیان فلسطینیوں کی زندگی سے وابستگی اور ناقابلِ تسخیر حوصلوں کی ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔
تباہی کے درمیان زندگی کی امید
جبالیہ کیمپ میں منعقدہ اس تقریب کا آغاز ایک جلوس سے ہوا جس میں دلہا اور ان کے اہل خانہ نے شرکت کی۔
ڈھول کی تھاپ اور روایتی دھنوں کے درمیان یہ جلوس تباہ شدہ محلوں سے ہوتا ہوا ایک بڑی تقریب کے مقام پر پہنچا، جہاں عوام کی بڑی تعداد موجود تھی۔
ثقافتی شناخت اور قومی پہچان
دلہا حضرات نے فلسطینی کفیہ زیب تن کر رکھی تھی، جبکہ دلہنوں نے روایتی غزوی لباس پہن رکھا تھا۔
یہ اہتمام محض ایک رسم نہیں، بلکہ مشکل حالات کے باوجود اپنی قومی شناخت اور تہذیب کو زندہ رکھنے اور اسے برقرار رکھنے کا ایک عملی مظاہرہ تھا۔
جنگ کا پس منظر اور انسانی المیہ
7 اکتوبر 2023 کو مسلط کی گئی جنگ اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے بعد سے یہ شمالی غزہ میں اپنی نوعیت کی پہلی اجتماعی تقریب ہے۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کا یہ اقدام دراصل اسرائیلی قبضے اور ان تباہ کن انسانی حالات کے سامنے ایک واضح اور جرات مندانہ چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔
غم اور زخموں کے بیچ اُمید
تقریب میں شریک ایک دلہا نے بتایا کہ اس نے جنگ کے دوران اپنے خاندان کے 200 افراد کو کھو دیا ہے۔
یہ خوشی کئی گہرے زخموں اور اپنوں کے بچھڑنے کے غم کے باوجود منائی گئی، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ زندگی کا تسلسل موت پر غالب ہے۔
حکومتی اعداد و شمار اور زمینی صورتحال
20 جون کو جاری ہونے والے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق شمالی غزہ میں 70 فیصد سے زائد رہائشی مکانات اسرائیلی بمباری میں تباہ ہو چکے ہیں۔
صہیونی جارحیت کے نتیجے میں کئی قصبوں کی آبادی مکمل طور پر بے گھر ہو چکی ہے، جبکہ اسرائیلی فوج سیکیورٹی جواز بنا کر لوگوں کو گھر واپس آنے سے روک رہی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اجتماعی شادی دنیا کے لیے پیغام ہے کہ غزہ کے باسی کسی صورت شکست تسلیم کرنے والے نہیں ہیں۔
اس اجتماع سے یہ واضح پیغام ملتا ہے کہ دکھوں اور ملبے کے ڈھیر میں بھی امید، خوشی اور زندگی کے پھول کھلائے جا سکتے ہیں۔