ایک حالیہ سائنسی مطالعے میں انکشاف ہوا ہے کہ انسانوں اور بڑے بندروں کے درمیان ہنسنے کا انداز حیرت انگیز طور پر مشابہ ہے، جو تقریباً 15 ملین سال پرانا ہے۔
مزید پڑھیں
یہ تازہ تحقیق بتاتی ہے کہ ہنسی کی یہ خصوصیت ان کے مشترکہ آباؤ اجداد سے منتقل ہوئی ہے۔
برطانوی ماہرین نے 13 بڑے بندروں بشمول گوریلا، چمپینزی، بونوبو اور اورنگوٹان کے گدگدی کے دوران ہنسنے کے پرانے ریکارڈز کا جائزہ لیا۔
ان آوازوں کا موازنہ 4 چھوٹے بچوں کی ہنسی سے کیا گیا جو گھروں میں کھیل اور گدگدی کے دوران ریکارڈ کی گئی تھیں۔
جریدے ’کمیونیکیشنز بائیولوجی‘ میں شائع نتائج کے مطابق انسانوں اور بندروں کی ہنسی ایک مخصوص اور باقاعدہ وقفے کے ساتھ دہرائی جاتی ہے۔
محققین کے نزدیک یہ مشابہت اس بات کا ٹھوس ثبوت ہے کہ دونوں انواع کا ارتقائی پس منظر ایک ہی ہے۔
یونیورسٹی آف واروک کی ماہرِ حیاتیات کیارا ڈی گریگوریو کا کہنا ہے کہ لاکھوں سال قبل ارتقائی راستے الگ ہونے کے باوجود انسان آج بھی بڑے بندروں کی طرح ہنستے ہیں۔
یہ دریافت انسانی رویوں کے قدیم ترین پہلوؤں کو سمجھنے میں مددگار ثابت ہوئی ہے۔
تحقیق کے مطابق انسانی ہنسی وقت کے ساتھ سماجی زندگی اور زبان کے ارتقا کی وجہ سے زیادہ تیز اور پیچیدہ ہو گئی ہے۔ انسان اب مختلف حالات کے مطابق اپنی ہنسی بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو اسے دیگر انواع سے ممتاز اور منفرد بناتی ہے۔
ماہرین نے واضح کیا کہ انسانوں میں ساتھیوں کے ساتھ رسمی ہنسی اور قریبی دوستوں کے ساتھ بے ساختہ قہقہوں میں واضح فرق پایا جاتا ہے۔
یہ تنوع انسانی اظہارِ رائے کی وسعت ظاہر کرتا ہے، جبکہ جانوروں میں ہنسی کے ایسے مختلف انداز نہیں ملتے۔
مطالعے میں چوہوں کی مثال دیتے ہوئے بتایا گیا کہ وہ بھی گدگدی پر آوازیں نکالتے ہیں لیکن ان کا انداز انسانوں اور بندروں سے مختلف ہے۔
چوہوں کی آوازیں الٹراسونک ہوتی ہیں، ان میں وہ مخصوص تال موجود نہیں ہوتی جو انسانی ہنسی کا خاصہ ہے۔
محققین کا خیال ہے کہ ہنسی کے مطالعے سے نہ صرف جذبات بلکہ انسانی رابطوں کے ارتقا کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔
یہ تحقیق ان ابتدائی مراحل کی نشاندہی کر سکتی ہے جو انسانی زبان کے باقاعدہ ظہور سے بہت پہلے دنیا میں موجود رہے ہوں گے۔
آزاد ماہرین نے اس تحقیق کے دائرہ کار کو کتے، گھوڑے اور بلیوں جیسے دیگر جانوروں تک پھیلانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اس سے یہ معلوم ہو سکے گا کہ کیا دیگر جانداروں میں بھی کھیل کے دوران آوازوں کا ایسا ہی ارتقائی نمونہ پایا جاتا ہے۔