امریکہ نے 2038 کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی میں اپنی دلچسپی کا اشارہ دیا ہے۔
مزید پڑھیں
وائٹ ہاؤس کے ورلڈ کپ ورکنگ گروپ کے سربراہ اینڈریو گولیانی کا کہنا ہے کہ اگر فیفا ایونٹ میں ٹیموں کی تعداد 64 تک بڑھاتا ہے تو امریکہ اس بڑے ایونٹ کے انعقاد کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
امریکی صلاحیتوں کا اعتراف
امریکہ فی الحال کینیڈا اور میکسیکو کے ساتھ مشترکہ طور پر 2026 کے ورلڈ کپ کی میزبانی کر رہا ہے۔ اس ٹورنامنٹ کے کل 104 میچوں میں
سے 78 میچز امریکی سرزمین پر کھیلے جا رہے ہیں، جس میں 19 جولائی کو شیڈول فائنل میچ بھی شامل ہے۔
بڑے ایونٹ کے لیے انفرا اسٹرکچر
اینڈریو گولیانی کے مطابق امریکہ کے پاس جدید ترین کھیلوں کا انفرا اسٹرکچر اور لاجسٹک سہولیات موجود ہیں، جو اسے ایک بڑا ٹورنامنٹ کرانے کے لیے موزوں بناتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ دیگر ممالک کے مقابلے میں کم خرچ میں میزبانی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
موجودہ انفرا اسٹرکچر اور معاشی پہلو
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ یہاں موجودہ اسٹیڈیمز اور کھیلوں کی تنصیبات کی بدولت میزبانی کی لاگت دیگر ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
اس طرح اربوں ڈالر کے نئے انفرا اسٹرکچر کی تعمیر کے بجائے موجودہ وسائل کا بھرپور اور موثر استعمال ممکن ہو سکتا ہے۔
مستقبل کی میزبانی اور ممکنہ مقابلے
2026 کے بعد 2030 کا ورلڈ کپ اسپین، مراکش اور پرتگال میں ہوگا۔ 2034 کی میزبانی سعودی عرب کے پاس ہے۔
اطلاعات کے مطابق فرانس بھی 2038 کی میزبانی میں دلچسپی رکھتا ہے، جس سے واشنگٹن اور پیرس کے درمیان ایک ممکنہ سفارتی اور اسپورٹس مقابلہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔
White House World Cup Task Force Director @AndrewHGiuliani: “I can tell you the Intel Community has doubled and tripled down on this. We want to make sure that this largest sporting event… is also the safest event that we’ve ever put on.” pic.twitter.com/aT11kebv5D
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) June 21, 2026
64 ٹیموں کے فارمیٹ پر تحفظات
اگرچہ امریکہ 64 ٹیموں کے فارمیٹ کے لیے پرجوش ہے، لیکن عالمی فٹبال کے حلقوں میں اس تجویز پر اتفاق رائے نہیں ہے۔
فیفا تاحال اس پر غور کر رہا ہے، جبکہ کئی براعظمی فٹبال یونینز اور یورپی فٹبال ایسوسی ایشنز نے شیڈول میں خلل کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
امریکہ کا ورلڈکپ 2038 کے لیے ارادہ کھیلوں کی دنیا میں ایک بڑے بدلاؤ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
تاہم ٹورنامنٹ کے حجم میں اضافے کا حتمی فیصلہ اور یورپی و ایشیائی فیڈریشنز کے تحفظات اس منصوبے کی کامیابی اور مستقبل کا تعین کرنے میں فیصلہ کن کردار ادا کریں گے۔