ایک نئی طبی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ نیند کے لیے استعمال ہونے والی ایک عام دوا انسانی صحت پر اگلے دن مضر اثرات چھوڑ سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
اگرچہ یہ دوا نیند کے معیار کو بہتر بناتی ہے، لیکن اس کے بعد کے اوقات میں انسانی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
استعمال اور طبی پیچیدگیاں
سائنس الرٹ کی رپورٹ کے مطابق کویٹیابین جو تجارتی طور پر سیروکوئل کے نام سے فروخت ہوتی ہے، بنیادی طور پر شیزوفرینیا اور بائی پولر ڈس آرڈر کے علاج کے لیے تیار کی گئی ہے۔
تاہم ڈاکٹرز اکثر اسے کم خوراک میں بے خوابی کے علاج کے لیے تجویز کرتے ہیں۔
تحقیقی نتائج اور انسانی کارکردگی
فلینڈرز یونیورسٹی آسٹریلیا کی ماہرِ نیند کرکٹ فوسکا کا کہنا ہے کہ کم خوراک کو محفوظ سمجھا جاتا ہے، مگر نتائج زیادہ پیچیدہ ہیں۔
15 افراد پر کیے کلینیکل ٹرائل میں دیکھا گیا کہ دوا سے نیند تو بہتر ہوئی، مگر اگلے دن ذہنی بیداری متاثر ہوئی۔
ڈرائیونگ اور توازن پر اثرات
ٹیسٹ کے دوران شرکا کے ردعمل کا وقت سست پایا گیا اور توجہ بھٹکنے کے واقعات 2 سے بڑھ کر 10 ہو گئے۔
ڈرائیونگ سیمولیشن میں شرکا کے گاڑی چلانے پر پڑنے والے منفی اثرات کی شرح 33 فیصد بڑھ گئی، جس سے حادثات کا خطرہ نمایاں طور پر بڑھ جاتا ہے۔
احساس اور حقیقت میں تضاد
تحقیق کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ شرکا کو خود اپنی کارکردگی میں کمی یا غنودگی کا احساس نہیں ہوا۔
یہی تضاد انہیں سڑک پر یا کام کے دوران خطرناک حالات سے دوچار کر سکتا ہے، جہاں مکمل ذہنی بیداری اور توجہ کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔
نیند کے امراض اور تشخیص کا چیلنج
نیند کے دوران سانس کا رک جانا ایک عام عارضہ ہے، جس کے شکار 80 فیصد افراد تشخیص سے محروم ہیں۔
ماہرِ نیند ڈینی ایکرٹ کے مطابق ایسے مریضوں کو کبھی بھی یہ دوا روٹین کے طور پر نہیں دینی چاہیے کیونکہ یہ ان کی ذہنی صلاحیتوں کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔
تحقیقی نتائج واضح کرتے ہیں کہ نیند کے مسائل کا حل تلاش کرتے وقت محض وقتی آرام کو نہیں بلکہ اگلے دن کے محفوظ معمولات کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
ادویات کا غیر ضروری استعمال کارکردگی میں کمی اور حادثات کا باعث بن سکتا ہے، لہذا طبی مشورے میں احتیاط ناگزیر ہے۔