سوشل میڈیا پلیٹ فارمز خاص طور پر ٹک ٹاک پر ان دنوں آئل پلنگ کا رجحان عروج پر ہے۔
مزید پڑھیں
انفلوئنسرز دعویٰ کر رہے ہیں کہ روزانہ چند منٹ ناریل کے تیل سے کلیاں کرنے سے دانت سفید، سانس تازہ اور منہ کی صحت بہتر ہو جاتی ہے۔
قدیم طریقہ علاج کا نیا روپ
تیل سے کلیاں کرنے کا عمل کوئی جدید ایجاد نہیں، بلکہ اس کی جڑیں قدیم بھارتی طریقہ علاج آیورویدا میں پیوست ہیں۔
اس عمل میں ناریل یا تل کا ایک چمچ تیل منہ میں 10 سے 20 منٹ تک گھمایا جاتا ہے اور پھر اسے باہر پھینک دیا جاتا ہے۔
کیا یہ دانت واقعی سفید کر سکتا ہے؟
اب تک کوئی ایسی ٹھوس طبی تحقیق سامنے نہیں آئی جو یہ ثابت کرے کہ تیل سے کلیاں دانتوں کا رنگ تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ طریقہ ہائیڈروجن پیروکسائیڈ جیسے معیاری بلیچنگ ایجنٹس کی جگہ کبھی نہیں لے سکتا۔
دانتوں کے ڈاکٹروں کے مطابق تیل سے کلی کرنے پر وقتی طور پر دانت کچھ چمکدار محسوس ہو سکتے ہیں کیونکہ اس سے سطح پر موجود کچھ پلاٹ اور جراثیم صاف ہو جاتے ہیں۔
تاہم یہ عمل دانتوں کے قدرتی رنگ کو بدلنے میں بالکل بھی مددگار ثابت نہیں ہوتا۔
سائنسی نقطہ نظر اور فوائد
کچھ تحقیقی مطالعات بتاتے ہیں کہ ناریل کے تیل میں موجود لورک ایسڈ بیکٹیریا کش خصوصیات رکھتا ہے۔
اس کے باقاعدہ استعمال سے منہ میں موجود مخصوص بیکٹیریا میں کمی آ سکتی ہے، جو مسوڑھوں کی سوزش اور سانس کی بدبو کو محدود کرنے میں جزوی طور پر مددگار ثابت ہوتا ہے۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے دستیاب سائنسی شواہد کا معیار اب بھی متوسط یا نچلے درجے کا ہے۔
اسے دانتوں کی صفائی کا ایک حتمی یا مؤثر علاج قرار دینا سائنسی طور پر درست نہیں ہے، کیونکہ یہ فوائد انتہائی محدود اور مخصوص حالات تک محدود ہیں۔
دانتوں کی صفائی کا متبادل نہیں
ڈاکٹر زور دیتے ہیں کہ تیل سے کلی کرنے کو ہرگز ٹوتھ پیسٹ یا فلورائیڈ کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ فلورائیڈ دانتوں کو کیڑا لگنے سے بچانے اور مضبوط کرنے کا سب سے موثر اور مستند ترین سائنسی ذریعہ ہے۔
علاوہ ازیں ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر غلطی سے تیل بار بار حلق میں چلا جائے یا سانس کے ساتھ اندر چلا جائے تو بہت نایاب صورتوں میں یہ لپڈ نمونیا جیسی صحت کی پیچیدگیوں کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
لہذا اس پر انحصار کرتے ہوئے روایتی صفائی کو نظر انداز کرنا نقصان دہ ہے۔
مختصراً یہ کہ آئل پلنگ کو ایک ضمنی اور اختیاری عمل سمجھا جا سکتا ہے، نہ کہ علاج۔
ایک پرکشش مسکراہٹ کے لیے دن میں دو بار فلورائیڈ والے پیسٹ سے برش، فلاس کا استعمال، متوازن غذا اور ماہرِ دندان کے پاس باقاعدہ چیک اپ کروانا ہی واحد قابلِ اعتماد اور محفوظ راستہ ہے۔