گوگل نے ایک اہم عدالتی کیس میں خفیہ تصفیہ کر لیا ہے، جس میں یوٹیوب پلیٹ فارم پر کم سن صارفین کی ذہنی صحت کو نقصان پہنچانے کا الزام تھا۔
مزید پڑھیں
العربیہ کے مطابق یہ تنازع ڈیجیٹل مصنوعات کے ایسے ڈیزائن کے گرد گھومتا ہے جنہیں مبینہ طور پر نشہ آور قرار دیا گیا ہے۔
خفیہ تصفیے کے پیچھے کی کہانی
اگرچہ تصفیے کی تفصیلات صیغہ راز میں رکھی گئی ہیں، تاہم یہ پیش رفت کیلیفورنیا میں شروع ہونے والی ٹرائل سے قبل سامنے آئی ہے۔
یہ مقدمہ نوعمروں میں بڑھتے ہوئے ذہنی صحت کے بحران میں سوشل
میڈیا کے کردار کو سمجھنے کی ایک کوشش ہے۔
فلوریڈا کے ایک 16 سالہ نوجوان نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے محض 8 سال کی عمر میں سوشل میڈیا کا استعمال شروع کیا تھا۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق بعد ازاں یہ استعمال ایک شدید لت میں تبدیل ہو گیا جس سے اسے بے خوابی، شدید ذہنی دباؤ اور تشویش کا سامنا کرنا پڑا۔
دیگر ٹیک کمپنیوں کو ٹرائل کا سامنا
مذکورہ مقدمے میں صرف یوٹیوب ہی ہدف نہیں تھی۔ اس میں میٹا کا انسٹاگرام، اسنیپ کا اسنیپ چیٹ اور بائٹ ڈانس کا ٹک ٹاک بھی شامل ہیں۔
اینڈرائیڈ ہیڈلائنز کی رپورٹ کے مطابق گوگل واحد کمپنی ہے جس نے عدالت سے باہر تصفیہ کیا ہے، جبکہ باقی تین کمپنیاں جولائی میں مقدمے کا سامنا کریں گی۔
گوگل کے ترجمان ہوزے کاسٹانیڈا کا کہنا ہے کہ کمپنی مختلف عمر کے گروہوں کے لیے موزوں مصنوعات بنانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ بچوں اور نوعمروں کے لیے ایک محفوظ تجربہ یقینی بنانے کی خاطر والدین کے کنٹرول کے ٹولز کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔
قانونی چیلنجز
مدعی کے وکلا جان موگن اور ایملی جیفکوٹ نے کہا ہے کہ ٹرائل سے قبل یوٹیوب کا تصفیہ کرنا خود اپنے آپ میں ایک ثبوت ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام ان الزامات کی شدت اور سنگینی کی تصدیق کرتا ہے جو ان پلیٹ فارمز کے خلاف اٹھائے گئے تھے۔
مبصرین کے مطابق یہ کیس ٹیکنالوجی کمپنیوں کے خلاف اٹھنے والی قانونی لہر کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
صرف کیلیفورنیا ہی میں ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی لت سے متعلق 3300 سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔ اس کے علاوہ 2600 دیگر کیسز میں افراد، تعلیمی ادارے، میونسپلٹیز اور مقامی حکومتیں بھی فریق ہیں۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا دفاع
سوشل میڈیا کمپنیاں مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی رہی ہیں کہ وہ نوجوان صارفین کی حفاظت کے لیے وسیع اقدامات کر رہی ہیں۔
ان میں پیرنٹل کنٹرول ٹولز، عمر کی پابندیاں اور ڈیجیٹل تحفظ کے جدید فیچرز شامل ہیں جو بچوں کو نقصان دہ مواد سے بچانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
تاہم ناقدین ان پلیٹ فارمز پر تنقید جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے الگورتھم اور ڈیزائن کا بنیادی مقصد صرف صارف کا وقت زیادہ سے زیادہ ضائع کرنا ہے۔
یہ حکمت عملی بچوں اور نوعمروں کی ذہنی صحت پر انتہائی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
مستقبل کے قانونی مضمرات
امریکی عدالتوں میں جاری ہزاروں مقدمات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا ذہنی صحت پر اثر اب ایک سنگین قانونی مسئلہ بن چکا ہے۔
آنے والے سالوں میں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے یہ ضابطہ اخلاق اور قانونی چیلنجز سب سے بڑے رکاوٹیں ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ پیش رفت واضح کرتی ہے کہ ڈیجیٹل دنیا کے اثرات اب محض آن لائن سرگرمی تک محدود نہیں رہے۔
کمپنیوں کے ڈیزائن اور انسانی نفسیات کے درمیان کشمکش کا یہ تنازع اب ایک وسیع تر سماجی اور قانونی بحث میں تبدیل ہو چکا ہے جس کے نتائج دور رس ہوں گے۔