کابینہ نے وزارتِ ثقافت کے تحت کام کرنے والے ’ثقافتی آرکائیو‘ یونٹ کو ایک نئے اور جامع ’سعودی کلچر میموری سینٹر‘ میں تبدیل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔
مزید پڑھیں
اس منصوبے کا مقصد مملکت کے ورثے کو جدید اور پیشہ ورانہ خطوط پر استوار کرنا ہے۔
سعودی وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن فرحان نے اس اہم فیصلے پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد و وزیراعظم شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے قیادت کی جانب سے ثقافتی شعبے کی بھرپور سرپرستی کو سراہا ہے۔
وزیر ثقافت کے مطابق یہ نیا مرکز 5 بنیادی شعبوں پر توجہ مرکوز کرے گا، جن میں قومی ورثے کی فہرست سازی، ڈیجیٹل آرکائیونگ، انسانی وسائل کی تربیت، محفوظ شدہ مواد کی پائیداری اور متعلقہ اداروں کے ساتھ روابط کا فروغ شامل ہے۔
أرفع أسمى آيات الشكر والعرفان إلى مولاي خادم الحرمين الشريفين وسمو سيدي ولي العهد على موافقة مجلس الوزراء على تحويل"الأرشيف الثقافي" في @MOCSaudi إلى مركز غير مستقل باسم "مركز ذاكرة الثقافة السعودية"#رؤية_السعودية_2030 https://t.co/aXydZwGyCd
— بدر بن عبدالله بن فرحان آل سعود (@BadrFAlSaud) June 23, 2026
یہ مرکز مملکت کے ثقافتی ورثے کے لیے ایک مستند قومی ادارے کے طور پر کام کرے گا جو دستاویزی عمل اور ڈیجیٹل آرکائیونگ کے لیے پالیسیاں اور معیار وضع کرنے کے ساتھ ساتھ وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں معاون ہوگا۔
سعودی کلچر میموری سینٹر ایک متحدہ قومی پلیٹ فارم کی نگرانی کرے گا جس کے ذریعے ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے گا۔
اس کے ذریعے معاشرے میں ثقافتی ورثے کی اہمیت سے متعلق شعور بیدار کرنے کے لیے مختلف تربیتی پروگرامز بھی ترتیب دیے جائیں گے۔
اس اقدام کے تحت تمام ثقافتی ڈیٹا کو ایک ہی چھتری تلے جمع کیا جائے گا تاکہ ماہرین اور محققین کو مستند معلومات تک آسان رسائی حاصل ہو سکے اور ملکی تاریخ و ثقافت کو محفوظ بنانے کے لیے بین الاقوامی معیار اپنائے جا سکیں۔
وزارت ثقافت کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم قومی ثقافتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے ورثے کو محفوظ بنانا اور عوامی شراکت داری کو فروغ دیتے ہوئے سعودی عرب کی شناخت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔