براہ راست نشریات

غزہ سے بیرونِ ملک سفر: بھاری رقم، انسانی اسمگلنگ و سیکیورٹی خدشات

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
غزہ سے انخلا کا بحران، رفح کراسنگ اور کرم ابو سالم پر سفری پابندیاں اور فلسطینیوں کی نقل مکانی کا منظر نامہ
بروکرز و خفیہ نیٹ ورکس کی موجودگی نے اس سفر کو ایک خطرناک اور مہنگی مہم بنا دیا ہے (فوٹو: اے آئی)

غزہ کی پٹی سے باہر نکلنے کے خواہش مند ہزاروں فلسطینیوں کے لیے سفر کرنا ایک معمہ بن چکا ہے۔

مزید پڑھیں

یہاں سرحدی گزرگاہوں پر سخت سیکیورٹی اور پیچیدہ منظوری کے عمل نے راستے مسدود کر رکھے ہیں تو دوسری جانب بروکرز و خفیہ نیٹ ورکس نے اس سفر کو ایک خطرناک اور مہنگی مہم بنا دیا ہے۔

سفر کے محدود اور پیچیدہ راستے

غزہ سے انخلا کے لیے فی الحال 2 بنیادی راستے فعال ہیں۔ ایک رفح کراسنگ اور دوسری کرم ابو سالم کراسنگ۔ 

ان دونوں مقامات پر اسرائیلی فوج کا مکمل سیکیورٹی کنٹرول ہے اور یہاں سے گزرنے کے لیے سخت حفاظتی جانچ پڑتال اور پیشگی اجازت نامہ لازمی ہے، جو عام شہریوں کے لیے ایک کٹھن مرحلہ ہے۔

غزہ سے انخلا کا بحران، رفح کراسنگ اور کرم ابو سالم پر سفری پابندیاں اور فلسطینیوں کی نقل مکانی کا منظر نامہ
المجد یورپ فاؤنڈیشن نے غزہ سے کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے روانگی کا اہتمام کیا ہے (فوٹو: رائٹرز)

کرم ابو سالم اور سیکیورٹی خطرات

کرم ابو سالم کراسنگ بنیادی طور پر بیماروں، بیرون ملک وظائف پر جانے والے طلبہ اور غیر ملکی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے مختص ہے۔

تاہم یہاں سفر کی منظوری کے باوجود گرفتاریوں کے واقعات نے خوف کی فضا پیدا کر دی ہے۔ یکم جون 2026 کو ڈاکٹر محمود النجار کی گرفتاری اس کی بڑی مثال ہے۔

اس سے قبل 23 مارچ 2026 کو محمد عثمان کو بھی اسی راستے سے واپسی پر گرفتار کیا گیا تھا۔ 

یہ دونوں واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیلی منظوری کے باوجود سفر کرنے والے افراد مکمل طور پر محفوظ نہیں ہیں اور انہیں کسی بھی وقت حراست میں لیا جا سکتا ہے۔

غزہ سے انخلا کا بحران، رفح کراسنگ اور کرم ابو سالم پر سفری پابندیاں اور فلسطینیوں کی نقل مکانی کا منظر نامہ
غزہ: خان یونس میں کراسنگ کھولنے کے لیے احتجاج کے دوران ایک خاتون نے اپنا پاسپورٹ اٹھا رکھا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

’المجد یورپ‘ اور خفیہ انخلا کا نیٹ ورک

سوشل میڈیا خاص طور پر فیس بک پر فعال ’المجد یورپ‘ نامی تنظیم نے بھی انخلا کے عمل میں خود کو ایک کردار کے طور پر پیش کیا ہے۔

یہ ادارہ مختلف ممالک کے سفر کی پیشکش کرتا ہے، تاہم اس کی قانونی حیثیت مبہم ہے۔

اس ادارے نے اکتوبر 2024 سے اب تک درجنوں افراد کو یورپ اور دیگر ممالک پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے، تاہم سفر کے خواہش مندوں سے بھاری فیسوں کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ 

دلچسپ بات یہ ہے کہ انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (ICRC) نے اس تنظیم سے کسی بھی قسم کے تعلق یا کوآرڈینیشن کی سختی سے تردید کی ہے۔

غزہ سے انخلا کا بحران، رفح کراسنگ اور کرم ابو سالم پر سفری پابندیاں اور فلسطینیوں کی نقل مکانی کا منظر نامہ
ایک فلسطینی بچہ غزہ اور مصر کے درمیان رفح کراسنگ پر انتظار کر رہا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

اخراجات: 6 تا 50 ہزار ڈالر کا کھیل

تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ رفح کراسنگ سے انخلا کے لیے 3 مختلف راستے موجود ہیں:

  • پہلا راستہ طبی بنیادوں پر ہے۔
  • دوسرا راستہ ان افراد کے لیے ہے، جن کے نام پہلے سے فہرستوں میں تھے۔
  • تیسرا ان بااثر یا صاحبِ حیثیت افراد کے لیے ہے، جو بھاری رقوم کے عوض سفری انتظامات کرتے ہیں۔

اسی طرح منظم بروکرز کے ذریعے سفر کی قیمت انتہائی بلند ہے۔ ایک اندازے کے مطابق فوری سفر کے لیے فی کس 30 سے 50 ہزار ڈالر تک وصول کیے جا رہے ہیں۔

ادائیگی کا طریقہ یہ ہے کہ رقم کسی تھرڈ پارٹی یا منی ایکسچینج میں جمع کروائی جاتی ہے جو سفر مکمل ہونے کے بعد ہی بروکرز کو ملتی ہے۔

غزہ سے انخلا کا بحران، رفح کراسنگ اور کرم ابو سالم پر سفری پابندیاں اور فلسطینیوں کی نقل مکانی کا منظر نامہ
طلبہ کو جانے کی اجازت اور بیرون ملک سفر کی سہولت کے لیے احتجاج کے شرکا (فوٹو: الجزیرہ)

بحران کی سنگینی

غزہ میں طبی امداد اور علاج کے لیے جانے کے خواہش مندوں کی تعداد 17 ہزار 757 تک پہنچ چکی ہے، لیکن اب تک صرف 3226 افراد ہی مختلف کراسنگز کے ذریعے نکل پائے ہیں۔

اس میں مریضوں اور تیمارداروں کی تعداد شامل ہے۔ یہ عدم مساوات انسانی بحران کی شدت کو ظاہر کرتی ہے۔

غزہ سے انخلا کا یہ سلسلہ محض ایک سفری عمل نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ نیٹ ورک بن چکا ہے جہاں انسانی مجبوریوں کو منافع یا تجارت میں بدلا جا رہا ہے۔ 

جب تک قانونی اور شفاف راستے بحال نہیں ہوتے، تب تک بروکرز کا یہ بازار نہ صرف غریب فلسطینیوں کو معاشی طور پر برباد کرتا رہے گا، بلکہ ان کی جانوں کو بھی غیر یقینی خطرات میں ڈالتا رہے گا۔

غزہ سے انخلا کا بحران، رفح کراسنگ اور کرم ابو سالم پر سفری پابندیاں اور فلسطینیوں کی نقل مکانی کا منظر نامہ
فلسطین جانب سے رفح کراسنگ کا داخلی راستہ (فوٹو: الجزیرہ)