براہ راست نشریات

جرمنی: دکانوں سے چوری کی بڑھتی وارداتیں، سالانہ 5 ارب ڈالر کا نقصان

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
جرمنی میں چوری کی وارداتیں، جرمن ریٹیل سیکٹر میں دکانوں سے چوری اور منظم جرائم کے باعث ہونے والے معاشی نقصانات کا گراف
جرمنی میں چوری شدہ سامان کی مجموعی مالیت 4.3 ارب یورو یعنی تقریباً 4.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے (فوٹو: اے آئی)

جرمنی کے ریٹیل سیکٹر میں دکانوں سے چوری کی وارداتوں کے باعث ہونے والے نقصانات نے 2025 کے دوران ایک نیا ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔

مزید پڑھیں

مسلسل چوتھے سال ان نقصانات میں اضافے کے بعد اب منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے مطالبات زور پکڑ رہے ہیں۔

ای آئی ایچ ریٹیل انسٹی ٹیوٹ کی حالیہ تحقیق کے مطابق جرمنی میں چوری شدہ سامان کی مجموعی مالیت 4.3 ارب یورو یعنی تقریباً 4.9 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

یہ اعداد و شمار گزشتہ سال 2024 کے مقابلے میں چوری کی وارداتوں میں 3.1 فیصد اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ نقصانات کا سب سے بڑا حصہ گاہکوں کی جانب سے کی جانے والی چوریوں پر مشتمل ہے جس کی مالیت 3.05 ارب یورو بنتی ہے۔ 

اس خطیر رقم کا ایک تہائی حصہ پیشہ ور اور منظم جرائم پیشہ گروہوں کی کارروائیوں کا نتیجہ ہے۔

علاوہ ازیں ریٹیل کمپنیوں کے اپنے ملازمین بھی 910 ملین یورو کے مالی نقصان کے ذمہ دار پائے گئے ہیں۔ 

جرمنی میں چوری کی وارداتیں، جرمن ریٹیل سیکٹر میں دکانوں سے چوری اور منظم جرائم کے باعث ہونے والے معاشی نقصانات کا گراف
ریٹیل کمپنیوں کے اپنے ملازمین بھی 910 ملین یورو کے مالی نقصان کے ذمہ دار پائے گئے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

مزید برآں صفائی کرنے والے عملے اور سپلائی کمپنیوں کے ورکرز کی جانب سے کی جانے والی چوریوں سے جرمنی کے ریٹیل شعبے کو مجموعی طور پر 370 ملین یورو کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سال 2020ء سے 2025ء کے درمیان مجموعی نقصانات میں 29 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ 

اس 5 سالہ عرصے کے دوران صرف گاہکوں کی جانب سے کی جانے والی چوریوں کی شرح میں 41 فیصد سے زائد کا غیر معمولی اور تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چوریوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ مہنگائی کی بلند شرح بھی ہو سکتی ہے۔ 

اس دورانیے میں صارفین کے لیے اشیا کی قیمتوں میں 20 فیصد جبکہ غذائی اجناس کی قیمتوں میں 35 فیصد تک کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

جرمنی میں چوری کی وارداتیں، جرمن ریٹیل سیکٹر میں دکانوں سے چوری اور منظم جرائم کے باعث ہونے والے معاشی نقصانات کا گراف
چوریوں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ مہنگائی کی بلند شرح بھی ہو سکتی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ای آئی ایچ انسٹی ٹیوٹ کے ماہر فرینک ہورسٹ نے منظم اور پیشہ ورانہ چوریوں کو ریٹیل سیکٹر کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ جہاں منظم گروہ سرگرم ہیں، وہیں عام گاہکوں کی جانب سے بڑھتی ہوئی چوریاں بھی اب سنگین صورتحال اختیار کر چکی ہیں۔

جرمن ریٹیل فیڈریشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دکانوں میں چوری کی وارداتوں میں ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی سخت کی جائے۔ 

انہوں نے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عدالتوں کی صلاحیتوں اور وسائل کو بہتر بنانے پر زور دیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ مطالعہ 103 مختلف کمپنیوں کے زیر انتظام چلنے والے 21 ہزار 225 اسٹورز سے حاصل کردہ ڈیٹا کی بنیاد پر تیار کیا گیا ہے۔ 

ان کمپنیوں نے نقصانات کی تقسیم کا تخمینہ لگانے کے بعد اسے جرمنی کی پوری ریٹیل مارکیٹ کے اعداد و شمار پر لاگو کیا ہے۔