جون 2016 میں 52 فیصد برطانوی عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی (بریگزٹ) کے حق میں ووٹ دیا تھا۔
مزید پڑھیں
اُس وقت اسے ملکی مسائل، خاص طور پر ہجرت کے خاتمے کا جادوئی حل قرار دیا گیا تھا، تاہم 2026 میں صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے اور عوامی رائے کا جھکاؤ واپسی کی جانب ہے۔
بریگزٹ کے بعد عوامی مایوسی اور معاشی نقصانات
برطانوی معاشرے میں اب بریگزٹ کے بجائے بریگریشن (واپسی) کا چرچا ہے۔
یورپی کونسل برائے خارجہ تعلقات کے سروے کے مطابق 66 فیصد برطانوی شہری مہنگائی میں اضافے اور 65 فیصد معیشت کو پہنچنے والے نقصان کا ذمہ دار بریگزٹ کو ٹھہراتے ہیں۔
سروے کے 57 فیصد شرکا بریگزٹ کو نوجوانوں کے مواقع محدود کرنے کا سبب سمجھتے ہیں۔
یورپی یونین میں واپسی کی بڑھتی حمایت
سروے بتاتے ہیں کہ 58 فیصد برطانوی شہری ہجرت کے مسئلے کو بریگزٹ کے بعد پہلے سے بدتر قرار دیتے ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ 15 یورپی ممالک کے عوام کی بھی 66 فیصد اکثریت برطانیہ کی دوبارہ یورپی یونین میں شمولیت کی حامی دکھائی دیتی ہے۔
سیاسی مخالفت
برطانیہ کی واپسی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دائیں بازو کی سیاست ہے۔
نائجل فاراج کی زیر قیادت ریفارم پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی کی رہنما کیمی بیڈیناک نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسی ڈیل کو مسترد کریں گی جو 2016 کے ریفرنڈم کے نتائج کے برعکس ہو۔
مزدور: ایک اہم رکاوٹ
یورپی یونین کے 4 بنیادی اصولوں میں آزادانہ نقل و حمل شامل ہے۔ برطانیہ یورپی منڈی تک رسائی تو چاہتا ہے لیکن تارکینِ وطن کی آمد کے حق میں نہیں ہے۔
یورپی مذاکرات کار مشیل بارنیئر کے مطابق برطانیہ کو انتخابی شمولیت کی اجازت نہیں دی جائے گی، کیونکہ یہ دیگر ممالک کے لیے بھی مثال بن سکتی ہے۔
برسلز میں لندن پر اعتماد کا فقدان
یورپی حکام اور سفارتکاروں کے درمیان لندن کے حوالے سے اعتماد کا شدید فقدان ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دوبارہ شمولیت کا عمل 5 سال سے طویل ہو سکتا ہے۔ برطانیہ کا ماضی میں یورو کرنسی اور شینگن معاہدے سے دُوری اختیار کرنا بھی اسے ایک مشکل شراکت دار بناتا ہے۔
مستقبل کے امکانات اور لیبر پارٹی
نئے متوقع وزیر اعظم اینڈی برنہم یورپی یونین میں برطانیہ کی واپسی کے حامی ہیں مگر تاحال واضح حکمت عملی پیش نہیں کر سکے۔
کچھ حلقے صرف کسٹمز یونین میں واپسی کی تجویز دیتے ہیں، لیکن اس سے مالیاتی خدمات کے شعبے کو وہ فوائد حاصل نہیں ہوں گے جو یورپی سنگل مارکیٹ کی مکمل رکنیت سے مل سکتے ہیں۔
مبصرین کے مطابق برطانیہ کا بریگزٹ کے بعد کا تجربہ توقعات سے برعکس رہا ہے، جس نے معاشی و سماجی سطح پر گہری مایوسی پیدا کی ہے۔
تاہم داخلی سیاسی تقسیم اور یورپی یونین کے سخت شرائط کے حامل اصولوں کے باعث لندن کے لیے واپسی کا راستہ انتہائی دشوار گزار اور طویل المدتی عمل ثابت ہوگا۔