براہ راست نشریات

ایران پر امریکی پابندیوں کے خاتمے کی راہ میں بڑے چیلنجز کا پہاڑ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران پر امریکی پابندیاں، واشنگٹن میں او ایف اے سی (OFAC) کے قوانین اور امریکی کانگریس کے مابین سفارتی و قانونی چیلنجز کا خاکہ
40 برس سے نافذ سخت پابندیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ایک بڑا سیاسی، تجارتی اور قانونی چیلنج ہے (فوٹو: اے آئی)

امریکا کی جانب سے ایران پر عائد اقتصادی پابندیوں میں 60 دنوں کے لیے عارضی چھوٹ کے اعلان کے بعد تہران کو اربوں ڈالر کے ممکنہ مالی فوائد حاصل ہونے کی توقع ہے۔

مزید پڑھیں

تاہم گزشتہ 40 برس سے نافذ ان پیچیدہ ترین پابندیوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ایک ایسا بڑا سیاسی، تجارتی اور قانونی چیلنج ہے جس کی تکمیل میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ 

متعدد بین الاقوامی ماہرین اور مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکی قوانین، بین الاقوامی ضوابط اور نجی شعبے کے تحفظات کی وجہ سے پابندیوں کے اس پورے نظام کو ختم کرنا ایک انتہائی کٹھن مرحلہ ہے۔ 

اس کے لیے جہاں کچھ اقدامات صدر کے خصوصی اختیارات کے ذریعے فوری طور پر کیے جا سکتے ہیں، وہیں متعدد دیگر اہم فیصلوں کے لیے امریکی کانگریس کی منظوری، اقوام متحدہ اور پابندیاں لگانے والے دیگر حلیف ممالک کے ساتھ قریبی ہم آہنگی لازمی ہوگی۔

دوسری جانب دہائیوں سے جاری ان پابندیوں کے باعث عالمی کمپنیاں اب بھی حد درجہ محتاط ہیں، جو اس ریلیف کے اثرات کو محدود کر سکتا ہے۔

ٹرمپ جنگی اختیارات امریکی کانگریس ووٹنگ
ٹرمپ کے اختیارات کے خلاف رائے شماری میں 46 کے مقابلے میں 51 ووٹوں سے تجویز مسترد کی گئی (فوٹو: انٹرنیٹ)

پابندیوں کا جال اور صدارتی اختیارات کی حد

سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دور میں انسدادِ دہشت گردی کے نائب قومی سلامتی مشیر رہنے والے خوان زاراتی نے نیوز ایجنسی رائٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے صورتحال کی سنگینی کو واضح کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’آپ کے سامنے پابندیوں کا ایک ایسا جال ہے جو آپس میں بری طرح الجھا ہوا ہے۔ یہ معاملہ صرف صدارتی احکامات  تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس میں امریکی کانگریس کی طرف سے منظور کردہ باقاعدہ قوانین بھی شامل ہیں‘۔

اس حوالے سے امریکی مقتدرہ برائے نفاذِ پابندیوں کے سابق اہلکار اور لا فرم ہیوز ہابارڈ اینڈ ریڈ کے پارٹنر جیریمی بینر کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثہ جات (OFAC) کی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہزاروں اداروں، کمپنیوں اور افراد کے نام نکالنے کے لیے بیورو کو کم از کم ایک سال کا عرصہ چاہیے۔

اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں جاری کیے گئے صدارتی احکامات کو منسوخ کرنے کا اختیار رکھتے ہیں، لیکن حماس اور لبنانی تنظیم حزب اللہ جیسی تحریکوں کی حمایت کے جرم میں ایران پر عائد کئی پابندیاں باقاعدہ امریکی قوانین کا حصہ ہیں، جنہیں صرف کانگریس ہی ختم یا تبدیل کر سکتی ہے۔

ایران پر امریکی پابندیاں، واشنگٹن میں او ایف اے سی (OFAC) کے قوانین اور امریکی کانگریس کے مابین سفارتی و قانونی چیلنجز کا خاکہ
دہائیوں سے جاری ان پابندیوں کے باعث عالمی کمپنیاں اب بھی حد درجہ محتاط ہیں (فوٹو: اے آئی)

’پیاز کاٹنے جیسا عمل‘ اور سیاسی خطرات

تھنک ٹینک ’فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز‘ کے سیاسی و دباؤ ڈالنے والے ونگ ایف ڈی ڈی ایکشن کے مینیجنگ ڈائریکٹر اور امریکی ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے سابق اسسٹنٹ میٹ زوئیگ کے مطابق 40 سالہ پرانی پابندیوں کو اچانک واپس لینا ناممکن حد تک مشکل ہے۔

انہوں نے اس کی تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ پابندیوں کی تہوں کو ایک ایک کر کے ہٹانے کا جامع عمل بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی پیاز کو کاٹا جا رہا ہو۔

انہوں نے بتایا کہ یہ اقدام موجودہ امریکی انتظامیہ کو نہ صرف شدید قانونی پیچیدگیوں بلکہ انتہائی سنگین سیاسی خطرات سے بھی دوچار کر دے گا۔

اسی طرح او ایف اے سی (OFAC) کی سابق عہدیدار اور موجودہ لا فرم ہولینڈ اینڈ نائٹ کی پارٹنر اسٹیفنی کونور نے بھی کئی سنگین مسائل کی نشاندہی کی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ پابندیوں میں نرمی کا سیدھا مطلب یہ ہوگا کہ وہ رقوم اب ان گروہوں تک پہنچیں گی جنہیں امریکا اپنے لیے بڑا خطرہ سمجھتا ہے۔ 

انہوں نے ایک اہم سوال اٹھایا کہ کیا ہم واقعی اس بات کی اجازت دینے جا رہے ہیں کہ فنڈز براہِ راست ایرانی پاسداران انقلاب کے پاس چلے جائیں؟

واضح رہے کہ امریکا نے پاسدارانِ انقلاب کو باقاعدہ ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔

ایران پر امریکی پابندیاں، واشنگٹن میں او ایف اے سی (OFAC) کے قوانین اور امریکی کانگریس کے مابین سفارتی و قانونی چیلنجز کا خاکہ
کچھ اقدامات صدر کے خصوصی اختیارات کے ذریعے فوری طور پر کیے جا سکتے ہیں (فوٹو: اے آئی)

1979 سے اب تک: پابندیوں کا تاریخی پس منظر

امریکا اور ایران کے درمیان اس معاشی جنگ کی تاریخ دہائیوں پرانی ہے۔

واشنگٹن نے پہلی بار 1979 میں ایران پر اس وقت پابندیاں عائد کی تھیں جب تہران میں انقلابی طلبہ نے امریکی سفارت خانے پر قبضہ کر کے سفارت کاروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔ 

اس واقعے کے بعد سے اب تک امریکی کانگریس نے ایران کے خلاف 6 سخت ترین قوانین پاس کیے، جبکہ مختلف امریکی صدور نے تہران کے جوہرِی پروگرام اور خطے میں سرگرم مسلح تنظیموں بشمول حماس، حزب اللہ اور یمن کے حوثیوں کی مبینہ مالی و عسکری امداد کے خلاف درجنوں صدارتی احکامات جاری کیے۔ 

امریکی محکمہ خزانہ کے اعداد و شمار کے مطابق صرف 2025 کے آغاز سے لے کر اب تک بیورو آف او ایف اے سی نے ایران سے وابستہ ایک ہزار سے زائد افراد، تجارتی بحری جہازوں اور طیاروں پر نئی پابندیاں عائد کی ہیں۔

ایٹمی ہتھیاروں کی عالمی دوڑ اور مشرق وسطیٰ میں جوہری پروگرام کے اثرات کی عکاسی
پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ امریکی حملوں کے بعد جوابی وار کیا گیا

عالمی کارپوریٹ سیکٹر کی ہچکچاہٹ اور JASTA قانون

پابندیوں کے ممکنہ خاتمے کے باوجود عالمی بینکوں، آئل کمپنیوں اور انشورنس اداروں کو مسلسل بدلتے ہوئے قوانین، سخت ترین آڈٹ اور چین، شمالی کوریا اور روس کے ساتھ ایران کے گہرے تعلقات کے باعث پیدا ہونے والے خطرات کا سامنا رہے گا۔

اس کے علاوہ ان کمپنیوں کو برطانیہ، اقوام متحدہ اور یورپی یونین کی طرف سے عائد کردہ الگ تھلگ پابندیوں کی پاسداری بھی کرنی ہوگی۔

تہران کے ساتھ کاروبار کا ارادہ رکھنے والی کمپنیوں کے سر پر قانونی چارہ جوئی کی تلوار بھی لٹکتی رہے گی۔ 

دہشت گردانہ حملوں کے متاثرین 2016 میں منظور ہونے والے امریکی قانون جسٹس اگینسٹ اسپنرز آف ٹیررازم ایکٹ (JASTA) کے تحت ان سرمایہ کاروں یا کمپنیوں کو عدالتوں میں گھسیٹ سکتے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کی پشت پناہی کرنے والے کسی ملک کی مدد کی ہو۔ 

ماہرین کے مطابق اس قانون کا ختم ہونا فی الحال ناممکن ہے۔ 

کنسلٹنگ کمپنی اوپسیڈین رسک ایڈوائزرز کے ڈائریکٹر بریک ایرکسن کا کہنا ہے کہ ان تمام قانونی اور ساکھ کے خطرات کو مدنظر رکھتے ہوئے جب تک موجودہ ایرانی نظام اقتدار میں ہے، بڑی کمپنیاں ایران کا رخ کرنے سے گریز کریں گی۔ 

انہوں نے کہا کہ جب تک ایران میں صورتحال سیاسی طور پر مکمل مستحکم اور دیرپا نہیں ہو جاتی، تب تک ہم کارپوریٹ سیکٹر کی جانب سے اربوں ڈالر کی بڑی سرمایہ کاری کے معاہدے نہیں دیکھیں گے۔ ابھی یہ سفر بہت طویل ہے۔

ایران پر امریکی پابندیاں، واشنگٹن میں او ایف اے سی (OFAC) کے قوانین اور امریکی کانگریس کے مابین سفارتی و قانونی چیلنجز کا خاکہ
امریکی قوانین، عالمی ضوابط اور نجی شعبے کے تحفظات کی وجہ سے پابندیاں ختم کرنا انتہائی کٹھن ہے (فوٹو: اے آئی)

14 نکاتی معاہدہ اور امریکی پالیسی میں تبدیلی

اقوام متحدہ، امریکہ اور یورپی یونین نے 70ء کی دہائی کے آخر سے ایران کے جوہری پروگرام، انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں اور علاقائی مسلح دھڑوں کی حمایت کے الزامات کے تحت تجارتی بائیکاٹ اور اثاثے منجمد کرنے جیسے اقدامات کر رکھے ہیں۔

تاہم گزشتہ ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان ایک اہم پیش رفت اُس وقت ہوئی، جب دونوں ممالک نے ایک 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے۔ 

اس معاہدے کے تحت واشنگٹن ایک طے شدہ شیڈول کے مطابق ایران پر سے تمام اقسام کی پابندیاں ہٹانے کا آغاز کرے گا۔ 

اس شیڈول کا حتمی تعین اگلے 60 دنوں کے اندر ہونے والے آخری معاہدے میں کیا جائے گا، جس کی مدت میں باہمی رضا مندی سے توسیع بھی ممکن ہے۔

اس سلسلے میں امریکی محکمہ خزانہ نے عبوری جنرل لائسنس جاری کیا ہے، جس کے تحت ایرانی خام تیل ، پیٹرو کیمیکلز اور پیٹرولیم مصنوعات کی پیداوار، ترسیل اور فروخت کی اجازت 21 اگست (2026) تک دی گئی ہے۔

اگر یہ عبوری معاہدہ اپنے منطقی انجام کو پہنچتا ہے اور ایران پر سے بقیہ تمام پابندیاں مستقل طور پر ہٹا دی جاتی ہیں تو یہ امریکی خارجہ پالیسی میں ایک تاریخی اور تزویراتی موڑ ثابت ہوگا۔ 

گزشتہ کئی دہائیوں سے واشنگٹن کی پوری توجہ مالیاتی اور اقتصادی دباؤ کے ذریعے ایران کے علاقائی اثر و رسوخ کو روکنے اور تہران حکومت کو کمزور کرنے پر مرکوز رہی ہے۔ 

تاہم اس جکڑے ہوئے معاشی نظام کو اچانک کھولنا جتنا قانونی طور پر پیچیدہ ہے، اتنا ہی سیاسی طور پر امریکی انتظامیہ کے لیے کڑا امتحان ہے۔ 

عالمی منڈیوں اور کارپوریٹ سیکٹر کا فوری طور پر ایران پر اعتماد کرنا ممکن دکھائی نہیں دیتا، کیونکہ تہران کے بیجنگ اور ماسکو کے ساتھ تزویراتی روابط اور امریکی کانگریس کا سخت گیر مؤقف اس عبوری ریلیف کے راستے میں اب بھی سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔