براہ راست نشریات

ٹائٹن آبدوز کی تباہی کے 3 سال بعد حادثے کی رپورٹ تیار، اہم انکشافات

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ٹائٹن آبدوز کا حادثہ، ٹائی ٹینک کا ملبہ اور گہرے سمندر میں تباہ ہونے والی اوشین گیٹ آبدوز کی تحقیقات
اس آپریشن میں دنیا بھر کے ماہرین اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد لی گئی تھی تاکہ سراغ لگایا جا سکے (فوٹو: انٹرنیٹ)

کینیڈا کے ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے ٹائٹن آبدوز کے المناک حادثے کی حتمی تحقیقاتی رپورٹ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ رپورٹ اُس ہولناک واقعے کے 3 سال مکمل ہونے پر منظر عام پر لائی جا رہی ہے جس میں پانچوں مسافر جاں بحق ہو گئے تھے۔

حکام کے مطابق یہ جامع رپورٹ انٹرنیٹ پر شائع کی جائے گی جس میں مستقبل کے لیے 6 اہم سفارشات شامل کی گئی ہیں۔ 

اس سے قبل کینیڈا کے متعلقہ بورڈ نے اس رپورٹ کی اشاعت کے حوالے سے باقاعدہ طور پر پیشگی طور پر میڈیا کو آگاہ کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ ٹائٹن آبدوز جون 2023 میں بحیرہ اوقیانوس میں ڈوبے ہوئے مشہور جہاز ٹائی ٹینک کے ملبے کی سیر کے دوران لاپتا ہو گئی تھی۔

ٹائٹن آبدوز کا حادثہ، ٹائی ٹینک کا ملبہ اور گہرے سمندر میں تباہ ہونے والی اوشین گیٹ آبدوز کی تحقیقات
اس المناک حادثے میں پانچوں مسافر جاں بحق ہو گئے تھے (فوٹو: انٹرنیٹ)

اس مہم جوئی کے آغاز کے کچھ ہی دیر بعد آبدوز کا رابطہ منقطع ہو گیا تھا، اور اس واقعے نے عالمی توجہ حاصل کر لی تھی۔

امریکی کوسٹ گارڈز نے کینیڈین افواج کی مدد سے نیوفاؤنڈ لینڈ کے جنوب میں تقریباً 700 کلومیٹر کے فاصلے پر بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن شروع کیا تھا۔ 

اس آپریشن میں دنیا بھر کے ماہرین اور جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد لی گئی تھی تاکہ سراغ لگایا جا سکے۔

لاپتا ہونے کے کئی روز بعد ایک ریموٹ کنٹرول غوطہ خور گاڑی نے ٹائی ٹینک کے ملبے سے محض 500 میٹر دُور ٹائٹن آبدوز کا ملبہ تلاش کیا۔ 

ٹائٹن آبدوز کا حادثہ، ٹائی ٹینک کا ملبہ اور گہرے سمندر میں تباہ ہونے والی اوشین گیٹ آبدوز کی تحقیقات
یہ رپورٹ واقعے کے 3 سال مکمل ہونے پر منظر عام پر لائی جا رہی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

تحقیقات سے ثابت ہوا کہ آبدوز گہرے پانی کے شدید دباؤ کے باعث اندرونی دھماکے کا شکار ہوئی تھی۔

بعد ازاں مختلف اداروں کی تحقیقات میں واشنگٹن میں قائم آپریٹر کمپنی ’اوشین گیٹ‘ کی جانب سے سنگین کوتاہیوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ 

رپورٹ کے مطابق کمپنی نے حفاظتی معیارات کو نظر انداز کیا جس کے نتیجے میں یہ بڑا انسانی المیہ رونما ہوا اور قیمتی جانیں گئیں۔

اس حادثے میں جاں بحق ہونے والے 5 افراد میں اوشین گیٹ کے بانی اور سی ای او اسٹاکٹن رش بھی شامل تھے۔ 

اس واقعے کے بعد گہرے سمندر میں سیاحتی مہم جوئی کے حوالے سے عالمی سطح پر سخت سوالات اور حفاظتی خدشات اٹھائے گئے تھے۔