براہ راست نشریات

سالڈاسٹیٹ بیٹریز:الیکٹرک گاڑیوں کی دنیامیں انقلابی تبدیلی یاصرف خواب؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
الیکٹرک گاڑیوں میں سالڈ اسٹیٹ بیٹریز کی ٹیکنالوجی اور سیمی سالڈ بیٹریوں کا متبادل
مکمل طور پر سالڈ اسٹیٹ بیٹریاں بنانے کی لاگت انہیں لگژری کاروں کے لیے خصوصی بناتی ہے (فوٹو: رائٹرز)

سالڈ اسٹیٹ بیٹریز کو دنیا بھر میں توانائی کے بحران کا بہترین حل قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں

الیکٹرک آلات کی ترقی کے مقابلے میں پرانی ٹیکنالوجی کی بیٹریاں پیچھے رہ گئی تھیں۔ اب نئی ٹیکنالوجی سے بہتر توانائی ذخیرہ کرنے اور تیز تر چارجنگ کی امیدیں وابستہ کی جا رہی ہیں۔

الیکٹرک گاڑیوں کے لیے نئی اُمید

صارفین اور الیکٹرک گاڑیوں کے شوقین افراد سالڈ اسٹیٹ بیٹریز کو ایک اہم موڑ سمجھتے ہیں۔ 

یہ بیٹریاں روایتی لیتھیم آئن بیٹریوں کی خامیوں کو دُور کر کے گاڑیوں کی رینج اور چارجنگ کی رفتار میں نمایاں بہتری لانے اور انہیں روایتی گاڑیوں کا حقیقی حریف بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

پیداواری تعطل اور تجارتی رکاوٹیں

امریکی جریدے ’ڈیجیٹل ٹرینڈز‘کی رپورٹ کے مطابق یہ ٹیکنالوجی لیبارٹریوں سے باہر نکلنے میں مشکلات کا شکار ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ سالڈ اسٹیٹ بیٹریز کم از کم اس دہائی کے اختتام تک عام عوام کی پہنچ سے دور رہیں گی اور فی الحال بڑے پیمانے پر دستیابی ممکن نہیں۔

2030 تک بڑے پیمانے پر پیداوار کا چیلنج

دنیا کے معروف ترین بیٹری ساز ادارے کیٹل (CATL) کے چیئرمین روبن زینگ کے مطابق ان بیٹریز کی بڑے پیمانے پر پیداوار 2030 سے پہلے ممکن نہیں۔

کمپنی نے ٹیکنالوجی کو منافع بخش بنانے کے لیے کم از کم 10 لاکھ گاڑیوں کی تیاری کا ہدف مقرر کر رکھا ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں میں سالڈ اسٹیٹ بیٹریز کی ٹیکنالوجی اور سیمی سالڈ بیٹریوں کا متبادل
کیٹل کے چیئرمین رابن زینگ: سالڈ اسٹیٹ بیٹریاں 2030 سے ​​پہلے دستیاب نہیں ہوں گی (فوٹو: رائٹرز)

قیمتوں میں اضافہ اور لگژری گاڑیاں

روبن زینگ نے خبردار کیا کہ جب یہ ٹیکنالوجی عام ہوگی تب بھی اس کی لاگت 37 ہزار ڈالر سے زائد ہوسکتی ہے۔

یہ بھاری قیمت اسے صرف انتہائی مہنگی اور لگژری گاڑیوں تک محدود رکھے گی، جس سے عام صارفین کی پہنچ میں آنا فی الحال ایک دور کی بات ہے۔

تکنیکی پیچیدگیاں اور ناکامی کے اسباب

کیٹل فی الحال بیٹری کے اجزاء کو جوڑنے کے لیے 6000 فضائی دباؤ استعمال کر رہی ہے۔

اس شدید دباؤ کے باعث مختلف کثافت والی اشیاء میں ساختی عدم توازن پیدا ہوتا ہے، جس سے اندرونی مزاحمت بڑھتی ہے اور بیٹری کے خلیے تیزی سے اپنی کارکردگی کھو دیتے ہیں۔

تحقیقی مراحل کا تعین

رپورٹ کے مطابق مکمل سالڈ اسٹیٹ بیٹریز کی کیمیائی تیاری فی الحال 9 میں سے صرف چوتھے مرحلے پر ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ یہ ٹیکنالوجی اب بھی صرف لیبارٹری کے تجرباتی مراحل میں ہے اور اسے مکمل طور پر محفوظ اور قابلِ اعتبار بنانا ایک مشکل ترین امر ہے۔

electric car evs battery being charged 2026 01 07 23 39 17 utc

سیمی سالڈ بیٹریز: ایک حقیقت پسندانہ متبادل

امریکی جریدے ’دی ورج‘ کے مطابق کمپنیاں اب ’سیمی سالڈ‘ یا ہائبرڈ بیٹریوں پر توجہ دے رہی ہیں۔

یہ بیٹریاں مائع اور ٹھوس مواد کا مرکب ہیں، جو جیل کی طرح کام کرتی ہیں۔ یہ لیتھیم آئن بیٹریوں کے مقابلے میں ہیٹ اسٹروک اور آگ لگنے جیسے خطرات سے کافی محفوظ ہیں۔

مستقبل کا لائحہ عمل

سیمی سالڈ بیٹریاں مستقبل کے لیے ایک پُل کی حیثیت رکھتی ہیں۔

’رائیڈ 1 اپ‘(Ride1UP) جیسی امریکی کمپنیاں پہلے ہی اپنی الیکٹرک بائیکس میں اس ٹیکنالوجی کا استعمال شروع کر چکی ہیں۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ ہائبرڈ ٹیکنالوجی فی الحال سالڈ اسٹیٹ کا ایک قابل عمل اور محفوظ متبادل ہے۔

سالڈ اسٹیٹ ٹیکنالوجی بلاشبہ توانائی کے شعبے میں ایک گیم چینجر ثابت ہو سکتی ہے، لیکن فی الحال اس کی تیاری میں درپیش ساختی نقائص اور بھاری لاگت اسے ایک تجارتی خواب بنائے ہوئے ہے۔ 

قلیل مدتی بنیادوں پر سیمی سالڈ  بیٹریاں ہی الیکٹرک صنعت کے لیے زیادہ متوازن اور حقیقت پسندانہ پیش رفت معلوم ہوتی ہیں۔