بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی خدمت کرنا وقت، محنت اور آرام کی قربانی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
خدمتِ خلق نہ صرف معاشرے کو بہتر بناتی ہے بلکہ انسان کو ذہنی سکون، قلبی اطمینان، خوشی اور روحانی بالیدگی بھی عطا کرتی ہے۔
اسلام نے بھی نیکی اور دوسروں کے کام آنے کو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔
دوسروں کی خدمت صرف بڑے اور غیر معمولی کاموں کا نام نہیں۔
چھوٹے چھوٹے اعمال بھی بڑے اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔
ایک مخلص مسکراہٹ، محبت بھرا سلام، کسی پریشان شخص کی بات توجہ سے سننا، مایوس طالب علم کی حوصلہ افزائی کرنا، محنتی ملازم کا شکریہ ادا کرنا یا لوگوں کے لیے پسِ پردہ خلوصِ دل سے دعا کرنا—یہ سب نیکی کی ایسی صورتیں ہیں جو معاشرے کو فائدہ پہنچاتی ہیں اور ساتھ ہی کرنے والے کو قلبی سکون، کشادہ دلی، لوگوں کی محبت اور دنیا و آخرت کا اجر عطا کرتی ہیں۔
آج کے دور میں جب زندگی کی رفتار تیز ہو چکی ہے اور انفرادیت پسندی بڑھتی جا رہی ہے، ایسے جملے عام سننے کو ملتے ہیں کہ ’لوگوں سے دور رہو، صرف اپنی خوشی کے بارے میں سوچو، کسی کی پروا نہ کرو‘۔