براہ راست نشریات

خوشی کا سب سے بڑا راز: دوسروں کو خوش کریں

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
خدمتِ خلق

بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی خدمت کرنا وقت، محنت اور آرام کی قربانی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
خدمتِ خلق نہ صرف معاشرے کو بہتر بناتی ہے بلکہ انسان کو ذہنی سکون، قلبی اطمینان، خوشی اور روحانی بالیدگی بھی عطا کرتی ہے۔
اسلام نے بھی نیکی اور دوسروں کے کام آنے کو دنیا و آخرت کی کامیابی کا ذریعہ قرار دیا ہے۔

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دوسروں کی خدمت کرنا ایک طرح کی قربانی یا اپنے آرام، وقت اور محنت کو دوسروں کے لیے قربان کرنے کے مترادف ہے، لیکن اگر انسان گہرائی سے غور کرے تو اسے معلوم ہوگا کہ نیکی کا سب سے بڑا فائدہ خود نیکی کرنے والے کو ہی پہنچتا ہے۔ 

جب کوئی شخص اپنے بھائی کے سامنے مسکراتا ہے، راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دیتا ہے، مجلس میں کسی کے لیے جگہ بنا دیتا ہے، اچھی بات کہتا ہے یا خلوص کے ساتھ دوسروں کی تعریف کرتا ہے تو درحقیقت وہ اپنے دل و روح میں خوشی کے چراغ روشن کر رہا ہوتا ہے۔ 

مزید پڑھیں

وہ اپنی روح کو ایسے عظیم انسانی اقدار سے سیراب کرتا ہے جو اسے اپنی اہمیت اور مقام کا احساس دلاتی ہیں اور اس کی زندگی کو سکون، اطمینان اور قلبی راحت سے بھر دیتی ہیں۔

اسلام نے بھی اسی حقیقت کو نہایت واضح اور گہرے انداز میں بیان کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 

اگر تم بھلائی کرو گے تو اپنے ہی لیے بھلائی کرو گے‘۔ 

یعنی ہر نیکی اور ہر اچھا عمل سب سے پہلے خود انسان کے لیے فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔ 

لوگوں کے ساتھ کیا جانے والا حسنِ سلوک دراصل دنیا اور آخرت میں اپنی ذات کے لیے ایک سرمایہ کاری ہے۔ 

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ’اور جو بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے، اسے اللہ کے پاس موجود پاؤ گے‘۔

ChatGPT Image 15 يونيو 2026، 07 49 57 م

احادیثِ نبویہ میں بھی دوسروں کو فائدہ پہنچانے کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ 

رسول اللہﷺ نے فرمایا ’اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب وہ لوگ ہیں جو لوگوں کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہوں‘۔ 

ایک اور حدیث میں آپﷺ نے فرمایا ’اللہ اپنے بندے کی مدد میں رہتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں رہتا ہے‘۔ 

یہ احادیث صرف دینی فریضے کے طور پر خدمتِ خلق کی تلقین نہیں کرتیں بلکہ اس کے گہرے نفسیاتی اور روحانی اثرات کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔ 

جو شخص دوسروں کی مدد کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسانیاں، برکتیں اور مدد کے دروازے کھول دیتا ہے۔

ChatGPT Image 15 يونيو 2026، 07 53 19 م

اگر انسان اپنی زندگی پر نظر ڈالے تو اسے معلوم ہوگا کہ دینے اور بانٹنے کی خوشی کسی اور خوشی جیسی نہیں۔ 

مہنگی چیزیں خریدنا اور خواہشات پوری کرنا وقتی مسرت تو دے سکتا ہے، لیکن کسی کے دل میں خوشی پیدا کرنا، کسی ضرورت مند کی مدد کرنا یا کسی مشکل میں گھرے انسان کا سہارا بننا ایسا اطمینان بخشتا ہے جو دیرپا ہوتا ہے۔ 

مثبت نفسیات Positive Psychology کی متعدد تحقیقات سے بھی ثابت ہوا ہے کہ جو لوگ مستقل طور پر نیکی، مہربانی اور رضاکارانہ خدمات انجام دیتے ہیں وہ زندگی سے زیادہ مطمئن اور خوش رہتے ہیں، جبکہ ان میں تناؤ اور تنہائی کے احساسات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔

دنیا کی تقریباً تمام تہذیبیں اور ثقافتیں خیر خواہی اور عطا کی اہمیت پر متفق ہیں۔ 

عربی مقولہ ہے ’نیکی کرو، چاہے نامناسب جگہ ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ نیکی کبھی ضائع نہیں جاتی‘۔ 

ChatGPT Image 15 يونيو 2026، 08 03 09 م

مغربی فکر میں بھی یہ تصور موجود ہے کہ جب آپ دوسروں کے لیے کام کرتے ہیں تو درحقیقت اپنے لیے بھی کام کر رہے ہوتے ہیں۔ 

امریکی مصنفہ میل رابنز کا کہنا ہے ’میں نے سیکھا ہے کہ لوگ شاید یہ بھول جائیں کہ آپ نے کیا کہا یا کیا کیا، لیکن وہ کبھی نہیں بھولتے کہ آپ نے انہیں کیسا محسوس کرایا تھا‘۔

جب آپ دوسروں کے
لیے کام کرتے ہیں
تو درحقیقت
اپنے لیے ہی
کر رہے ہوتے ہیں

دوسروں کی خدمت صرف بڑے اور غیر معمولی کاموں کا نام نہیں۔
چھوٹے چھوٹے اعمال بھی بڑے اثرات پیدا کر سکتے ہیں۔
ایک مخلص مسکراہٹ، محبت بھرا سلام، کسی پریشان شخص کی بات توجہ سے سننا، مایوس طالب علم کی حوصلہ افزائی کرنا، محنتی ملازم کا شکریہ ادا کرنا یا لوگوں کے لیے پسِ پردہ خلوصِ دل سے دعا کرنا—یہ سب نیکی کی ایسی صورتیں ہیں جو معاشرے کو فائدہ پہنچاتی ہیں اور ساتھ ہی کرنے والے کو قلبی سکون، کشادہ دلی، لوگوں کی محبت اور دنیا و آخرت کا اجر عطا کرتی ہیں۔
آج کے دور میں جب زندگی کی رفتار تیز ہو چکی ہے اور انفرادیت پسندی بڑھتی جا رہی ہے، ایسے جملے عام سننے کو ملتے ہیں کہ ’لوگوں سے دور رہو، صرف اپنی خوشی کے بارے میں سوچو، کسی کی پروا نہ کرو‘۔

ایسے ماحول میں خدمتِ خلق اور باہمی تعاون کی ثقافت کو زندہ کرنا پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔ 

مضبوط معاشرے خود غرضی سے نہیں بلکہ رحم، تعاون اور باہمی کفالت سے تعمیر ہوتے ہیں۔ 

ہر انسان اپنی محدود صلاحیتوں کے باوجود خیر کا ذریعہ بن سکتا ہے۔

ChatGPT Image 15 يونيو 2026، 08 04 41 م

زندگی کے عظیم رازوں میں سے ایک راز یہ بھی ہے کہ جب انسان اپنی ذات کے گرد گھومنے والی سوچ سے نکل کر دوسروں کی خوشی اور خدمت کو اپنی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا لیتا ہے تو وہ خود کو زیادہ خوش، مطمئن اور پُرسکون محسوس کرتا ہے۔ 

 

عطا کرنے سے انسان کم نہیں ہوتا بلکہ اور زیادہ مالا مال ہو جاتا ہے۔ 

دوسروں کی خدمت کوئی بوجھ نہیں بلکہ خوشی، برکت اور قلبی اطمینان کا راستہ ہے۔ 

اس لیے اگر آپ چاہتے ہیں کہ سب سے پہلے خود فائدہ اٹھائیں اور اپنے دل کو خوشیوں سے بھر لیں، تو ہر روز کوئی نہ کوئی موقع تلاش کریں جس میں آپ کسی انسان کی مدد کر سکیں۔ 

ممکن ہے آپ کی وہ چھوٹی سی خدمت کسی دوسرے کی خوشی کا سبب بنے، اور آپ کی اپنی خوشی کا بھی۔

بشکریہ: سبق