براہ راست نشریات

تہران میں بڑے مظاہرے: امریکی معاہدے پر غصہ یا اقتدار کی لڑائی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
تہران میں مظاہرے اور امریکی معاہدے کے خلاف ایرانی شہریوں کا احتجاج
امریکہ کے ساتھ معاہدے کے خلاف احتجاج اس ملک میں ہو رہا ہے، جو مظاہروں پر پابندیاں عائد کرتا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

عوامی احتجاج پر سخت پابندیاں نافذ کرنے والے ملک ایران میں ہزاروں افراد کئی شہروں میں امریکا کے ساتھ متوقع معاہدے کے خلاف مظاہرے کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں

ایران میں اس وقت مذاکراتی وفد پر قومی مفادات سے دستبرداری کے الزام لگانے والے نعرے گونج رہے ہیں۔ 

مبصرین کے مطابق یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ مثلاً  ایسے معاہدے کے خلاف اس قدر شدید ردعمل کی وجہ کیا ہے جس کی شرائط ابھی باضابطہ طور پر سامنے ہی نہیں آئیں؟ 

اور کیا یہ ایک آزاد عوامی مؤقف ہے یا سیاسی دھڑوں کی کشمکش؟

الجزیرہ کے نمائندے نے اتوار کی رات تہران کے وسط میں خارجہ امور کی وزارت کے گرد فردوسی اسٹریٹ پر ہونے والے ایک احتجاجی اجتماع میں شرکت کی اور متعدد شرکا سے گفتگو کی ہے۔

’ہم سے کوئی بات کیوں نہیں کرتا؟‘

احتجاج کے ایک کونے میں 32 سالہ ثقافتی کارکن حسن کا کہنا تھا کہ ایرانی وفد نے انہیں نظرانداز کیا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم 105 سے زائد راتوں سے سڑکوں پر ہیں، مگر کوئی ہمیں معاہدے کی شرائط کے بارے میں شفافیت سے کیوں نہیں بتاتا؟‘

انہوں نے کہا کہ ’ماضی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ امریکہ کا وعدے توڑنے کا ریکارڈ معلوم ہے۔ ہمارے ذمہ دار بھی 2015ء کے جوہری معاہدے سے پہلے کی طرح خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ، جیسے ہم اپنے ہی ملک میں اجنبی ہوں۔‘

حسن نے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مذاکرات کے بارے میں مؤقف کا بھی حوالہ دیا۔

انہوں نے کہا کہ مذاکراتی وفد جن شرائط کی بات کرتا ہے، وہ شرائط پوری نہیں ہوئیں۔ انہوں نے پوچھا کہ کیا کسی نے آبنائے ہرمز، یورینیم کی افزودگی یا جنگ کے معاوضوں کا ذکر کیا ہے؟ بالکل نہیں!۔ یہ شرائط ابتدائی معاہدے میں موجود ہی نہیں ہیں۔

حسن سے پوچھا گیا کہ کیا ان کی احتجاج میں شرکت کسی سیاسی تنظیم کی دعوت پر ہے تو انہوں نے جواب دیا’ میں یہاں اپنی مرضی سے اور اپنے وطن کے لیے ذمہ داری کے احساس سے آیا ہوں۔‘

انہوں نے واضح کیا کہ اگر ولیِ فقیہ نے معاہدے کو قبول کر لیا تو اس کا مطلب ہوگا کہ مذاکراتی وفد اُن کی نگرانی میں کام کر رہا ہے، مگر ہمیں 2015ء کا جوہری معاہدہ یاد ہے، جس کا نتیجہ تباہ کن تھا۔‘

تہران میں مظاہرے اور امریکی معاہدے کے خلاف ایرانی شہریوں کا احتجاج
مظاہرین نے نعرے لگاتے ہوئے متعدد عہدیداروں پر ایران کے مفادات کو نظر انداز کرنے کا الزام لگایا ہے (فوٹو: الجزیرہ)

’قاتل سے مذاکرات؟‘

کالی چادر اوڑھے ایک 50 سالہ خاتون مرضیہ نہایت بلند آواز میں نعرے لگا رہی تھیں۔

الجزیرہ سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ  ’اگر ہم ایرانیوں نے امریکی صدر کو قتل کیا ہوتا تو کیا امریکہ ہم سے مذاکرات کی میز پر بیٹھتا؟ ہرگز نہیں! انہوں نے ہمارے سپریم لیڈر کو شہید کیا اور اب ہم ان سے بات کرنے جا رہے ہیں؟ یہ کون سی منطق ہے؟‘

خاتون کا غصہ حکام کے لیے بھی نظر آیا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم نے کسی ایک ذمے دار کی بھی آواز نہیں سنی، جس نے اُنہیں (امریکہ کو) دھمکی دی ہو۔ اگر کل وہ نئے رہبر کو بھی ہدف بنائیں تو کون ذمہ دار ہوگا؟ کس نے انہیں یہ جرأت دی؟‘

تاریخ کی تکرار

29 سالہ مذہبی طالب علم جلیل نے کہا کہ پچھلے رہبر کا جنازہ ابھی اٹھا بھی نہیں اور ہم ان کی بار بار کی کھلی دھمکیوں کو نظرانداز کرتے ہوئے معاہدوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آج ہم 2015ء کا منظر دوبارہ دیکھ رہے ہیں، مگر اس بار ٹرمپ کے ساتھ ،جس نے وہ معاہدہ خود پھاڑ کر پھینک دیا تھا۔

جلیل نے مزید کہا کہ 100 دن بھی نہیں گزرے اور ہم ان سے معاہدہ کر رہے ہیں؟

انہوں نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ سابق معاہدے میں بھی کہا گیا تھا کہ سب کچھ قیادت کی ہدایت پر ہے، اور آج وہی حجت اور وہی دلیل ہے۔

انہوں نے یاد دلایا کہ 2015ء میں تمام پابندیاں ختم ہونے کا وعدہ ہوا تھا، جبکہ آج صرف 12 ارب ڈالر کے منجمد اثاثے واپس کرنے کی بات ہے۔

جلیل نے بیروت کے جنوبی علاقے پر اسرائیلی حملوں کا بھی ذکر کیا، ان کا مؤقف تھا کہ ان حملوں نے ثابت کر دیا ہے کہ واشنگٹن کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ بے معنی ہے جب تک اسرائیل کو روکنے کی ضمانت نہ ہو۔

تہران میں مظاہرے اور امریکی معاہدے کے خلاف ایرانی شہریوں کا احتجاج
واشنگٹن کے ساتھ معاہدے کے خلاف ہزاروں ایرانیوں نے احتجاجی ریلیاں نکالیں (فوٹو: الجزیرہ)

ماہرین کی رائے

سیاسی تجزیہ کار مہدی خورسند نے الجزیرہ کو بتایا کہ ان احتجاجوں کی بنیادی وجہ سرکاری اداروں کی رائے عامہ کے لیے رہنمائی میں ناکامی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ واضح سرکاری مؤقف کی غیرموجودگی میں شہری مغربی اور اسرائیلی ذرائع ابلاغ سے معاہدے کا تصور لے رہے ہیں جو ان کی تشویش کو ہوا دیتا ہے۔

مہدی خورسند کے بقول مظاہرین دراصل ایرانی نظام کے وہ سخت گیر حامی ہیں، جو 105 راتوں سے سڑکوں پر ہیں اور انہوں نے ایران کو توڑنے کے لیے بڑی طاقتوں کے عزائم کو ناکام بنایا ہے۔ اِن کے لیے سابق رہبر کے قاتل سے مفاہمت ان کے بہائے ہوئے خون کی بے قدری ہے۔

خورسند نے زور دیا کہ مذاکراتی ٹیم کی خاموشی نے شہریوں کو یہ احساس دلایا ہے کہ برسوں کی قربانیاں اور ثابت قدمی مذاکرات کی میز پر ضائع ہو رہی ہے۔ 

انہوں نے کہا کہ ان احتجاجوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران میں اظہارِ رائے کی ایک حد تک گنجائش موجود ہے۔

تہران میں مظاہرے اور امریکی معاہدے کے خلاف ایرانی شہریوں کا احتجاج
مظاہرین معاہدے کو ایران کی طرف سے امریکہ کے لیے رعایت سمجھ رہے ہیں (فوٹو: الجزیرہ)

اندرونی طاقت کی جنگ؟

البتہ اکیڈمیشن اور سیاسی تجزیہ کار مہدی عرب صادق ان مظاہروں کو ایک مختلف زاویے سے دیکھتے ہیں۔

انہوں نے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کا  خودبخود اٹھنے والا غصہ نہیں ہے بلکہ ایک خاص طبقے کے اندر سیاسی کشمکش کا حصہ ہے۔ ملک میں ایک ایسا دھڑا موجود ہے جو ’ایرانوفوبیا‘پر پلتا ہے اور خارجہ پالیسی میں کسی بھی عقلیت پسندی کو قبول نہیں کرتا۔

انہوں نے الجزیرہ کو بتایا کہ معاہدے کی مخالفت کرنے والے وہی لوگ ہیں جو پہلے علی لاریجانی پر حملہ کرتے تھے اور اب اسپیکر پارلیمان قالیباف اور وزیرِ خارجہ عراقچی کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ 

مہدی نے کہا کہ ’ان کی کوئی حقیقی نظریاتی بنیاد نہیں، یہ اجتماعات منظم ہیں، خودبخود نہیں۔‘

وزیرِ خارجہ عباس عراقچی پر حملوں کی زیادہ شدت کے بارے میں عرب صادق نے کہا کہ عراقچی ایران کی سفارت کاری کا چہرہ اور عقلیت پسندی کی علامت ہیں۔ انہیں نشانہ بنانا دراصل حکومت میں عقلیت پسندی کو نشانہ بنانا ہے۔

مبصرین کے مطابق تہران اب بھی انگاروں پر ہے۔ مظاہرین اس خوف سے دوچار ہیں کہ ’تاریخ خود کو نہ دہرائے‘ اور برسوں کی قربانیاں مذاکرات کی میز پر اس دشمن کے سامنے نہ گنوا دی جائیں جس پر انہیں اعتماد نہیں۔

اس صورت حال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ کیا ایران کے حکمراں ادارے اس غصے کو جذب کر کے اسے ایک مذاکراتی قوت میں بدل پائیں گے؟ یا یہ معاہدہ اپنے پیش رو کی طرح ناکام ہو جائے گا؟