براہ راست نشریات

الیکٹرانک دستخط: کیا ایسا معاہدہ معتبر ہوگا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ایران امریکا الیکٹرانک معاہدہ

ایران اور امریکا کے درمیان متوقع مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کی تیاریوں نے عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق معاہدہ آئندہ 24 گھنٹوں میں مکمل ہو سکتا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک الیکٹرانک طریقے سے دستخط کریں گے۔
ماہرین کے مطابق یہ طریقہ کار معاہدے کی تکمیل کو تیز کرنے اور ممکنہ رکاوٹوں سے بچنے کے لیے اختیار کیا جا رہا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکٹرانک دستخط شدہ معاہدہ متعبر ہوگا؟

ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں دونوں ممالک کے درمیان متوقع مفاہمتی یادداشت پر روایتی تقریب کے بجائے الیکٹرانک دستخط کیے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتے کے روز کہا تھا کہ ان کا ملک معاہدے کی تکمیل کے فوراً بعد الیکٹرانک دستخط کے عمل کے لیے تیار ہے۔ 

انہوں نے امید ظاہر کی کہ معاہدہ آئندہ 24 گھنٹوں کے اندر طے پا سکتا ہے، جس کے بعد اگلے مرحلے میں تکنیکی مذاکرات شروع ہوں گے۔

الیکٹرانک دستخط دراصل ایک جدید ڈیجیٹل نظام ہے جس کے ذریعے کاغذی دستاویزات کے بغیر معاہدوں کی منظوری دی جاتی ہے۔ 

مزید پڑھیں

اس عمل میں خفیہ کاری اور ڈیجیٹل سرٹیفکیٹس کے ذریعے دستخط کنندگان کی شناخت اور دستاویز کی سلامتی کو یقینی بنایا جاتا ہے۔

اس کے برعکس روایتی دستخط قلم کے ذریعے کاغذی دستاویزات پر کیے جاتے ہیں اور بین الاقوامی معاہدوں کی تقریبات میں یہی طریقہ عام طور پر اختیار کیا جاتا رہا ہے۔

امریکا میں 2000 سے نافذ ’ای سائن ایکٹ‘ الیکٹرانک دستخطوں کو 

مکمل قانونی حیثیت دیتا ہے، جبکہ یورپی یونین کا ’eIDAS‘ نظام بھی مخصوص اقسام کے ڈیجیٹل دستخطوں کو روایتی دستخط کے برابر قانونی طاقت فراہم کرتا ہے۔

اگرچہ عالمی طاقتوں کے درمیان مکمل طور پر الیکٹرانک دستخط سے ہونے والے امن معاہدوں کی مثالیں بہت کم ہیں، تاہم کورونا وبا کے بعد بین الاقوامی اداروں، حکومتوں اور تجارتی تنظیموں میں اس طریقہ کار کا استعمال نمایاں طور پر بڑھا ہے۔

ChatGPT Image 14 يونيو 2026، 08 12 27 م

امریکی ذرائع کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان الیکٹرانک دستخط کا فیصلہ آخری لمحات میں اس لیے کیا گیا تاکہ معاہدے کی تکمیل میں تاخیر نہ ہو اور کسی ممکنہ سیاسی یا سفارتی رکاوٹ سے بچا جا سکے۔

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے یورپ میں بالمشافہ دستخطی تقریب کے خواہاں تھے، تاہم سیکیورٹی اور سفری انتظامات کے باعث یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ 

اسی وجہ سے الیکٹرانک دستخط کا آپشن زیر غور آیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ثالثی میں شامل بعض فریقوں کو خدشہ تھا کہ دستخط میں تاخیر کسی نئی پیچیدگی یا اختلاف کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے معاہدے کو جلد از جلد حتمی شکل دینے کے لیے ڈیجیٹل طریقہ کار کو ترجیح دی گئی۔