براہ راست نشریات

ڈیجیٹل دور میں کریڈٹ کارڈ اور قرضوں کے بوجھ سے کیسے بچیں؟ تجاویز

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور قرضوں کے بوجھ سے بچنے کی مالیاتی تجاویز
آسائشوں اور روزمرہ اخراجات کے لیے قرض لینا مالی دباؤ کی پہلی سیڑھی ثابت ہوتا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

آج کے جدید اور ڈیجیٹل دور میں آسان قرض اور کریڈٹ کارڈ کا حصول عام ہو چکا ہے، تاہم مشکلات تب شروع ہوتی ہیں جب ماہانہ اقساط اور کریڈٹ کارڈز کا کم از کم واجب الادا حصہ کل آمدنی کا بڑا حصہ ہڑپ کر لیتا ہے۔

مزید پڑھیں

ایسی صورت میں بیماری، بے روزگاری یا مہنگائی جیسے معمولی مالی جھٹکے بھی خاندانوں کے لیے بحران کا باعث بن سکتے ہیں۔

قرض اور آمدن کا تناسب

مالیاتی ادارے فرد کی ادائیگی کی صلاحیت جانچنے کے لیے ’ڈیٹ ٹو انکم ریشو‘  (Debt-to-Income Ratio) کا استعمال کرتے ہیں۔ 

اس میں کل ماہانہ قرضوں کی اقساط کو مجموعی ماہانہ آمدنی پر 

تقسیم کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق قرض کا یہ تناسب نہ صرف بینکوں کے لیے ایک پیمانہ ہے بلکہ خاندانوں کے لیے بھی مالی انتباہ کا ذریعہ ہے۔

قرض کب مفید اور کب بوجھ بنتا ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض بذات خود بری چیز نہیں بلکہ یہ ایک مالی ٹول ہے۔

تعلیم یا گھر خریدنے کے لیے لیا گیا قرض مستقبل کی سرمایہ کاری ہو سکتا ہے، لیکن آسائشوں اور روزمرہ اخراجات کے لیے قرض لینا مالی دباؤ کی پہلی سیڑھی ثابت ہوتا ہے، جو انسان کو کبھی نہ ختم ہونے والے چکر میں دھکیل دیتا ہے۔

کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور قرضوں کے بوجھ سے بچنے کی مالیاتی تجاویز
قرض بذات خود بری چیز نہیں بلکہ یہ ایک مالی ٹول ہے، ماہرین (فوٹو: انٹرنیٹ)

مختلف ممالک میں مالیاتی حدود

سعودی مرکزی بینک قرضوں کی کٹوتی کی سخت حدود مقرر کرتا ہے، جہاں غیر رہائشی قرضوں کے لیے تنخواہ کا 33.33 فیصد اور ریٹائرڈ افراد کے لیے 25 فیصد مقرر ہے۔

مصر اور اُردن جیسے ممالک میں بھی اسی طرح کے ضوابط ہیں، جبکہ متحدہ عرب امارات میں یہ حد مجموعی تنخواہ کے 50 فیصد تک رکھی گئی ہے۔

کریڈٹ کارڈ اضافی آمدن نہیں

کریڈٹ کارڈ کو کبھی بھی اپنی آمدنی کا حصہ نہیں سمجھنا چاہیے۔

آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ (OECD) کے مطابق جب قرض سے روزمرہ کے اخراجات پورے کیے جاتے ہیں تو یہ آمدنی میں اضافہ نہیں کرتا بلکہ مستقبل کی آمدنی کو وقت سے پہلے خرچ کر دیتا ہے، جس سے مالی بحران مزید گہرا ہو جاتا ہے۔

کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور قرضوں کے بوجھ سے بچنے کی مالیاتی تجاویز
تعلیم یا گھر خریدنے کے لیے لیا گیا قرض مستقبل کی سرمایہ کاری ہو سکتا ہے، ماہرین (فوٹو: انٹڑنیٹ)

عالمی سطح پر خدشات

امریکی فیڈرل ریزرو اور یورپی سینٹرل بینک نے خبردار کیا ہے کہ مہنگائی کے دباؤ کے باعث گھرانوں کی قرض چکانے کی صلاحیت متاثر ہو رہی ہے۔

خاص طور پر کریڈٹ کارڈ اور کار لون کے ڈیفالٹ ہونے کی شرح گزشتہ دہائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے، جو مالیاتی استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

جال سے بچنے کے اصول

قرض سے بچنے کا پہلا قدم اپنی ماہانہ مالی حیثیت کا درست حساب رکھنا ہے۔

ماہانہ اقساط کو آمدنی سے تقسیم کرکے تناسب معلوم کریں۔ اس کے علاوہ ہنگامی صورتحال کے لیے بچت کا ایک فنڈ الگ رکھیں، تاکہ کسی بھی ناگہانی ضرورت پر دوبارہ قرض لینے کی نوبت نہ آئے۔

کریڈٹ کارڈ کا استعمال اور قرضوں کے بوجھ سے بچنے کی مالیاتی تجاویز
کریڈٹ کارڈ کو کبھی بھی اپنی آمدنی کا حصہ نہیں سمجھنا چاہیے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ادائیگی کی ترجیحات

قرض چکاتے وقت سب سے مہنگے قرض یعنی کریڈٹ کارڈ کو پہلے ختم کریں۔

قرض کی ری شیڈولنگ سے محتاط رہیں کیونکہ اس سے قسط تو کم ہو سکتی ہے مگر قرض کی مجموعی مدت اور لاگت بڑھ جاتی ہے۔ 

کسی بھی معاہدے پر دستخط سے قبل اس کی اصل قیمت اور تمام شرائط کو اچھی طرح سمجھ لیں۔

مالیاتی خود مختاری کا انحصار اس سادہ سے اصول پر ہے کہ کیا آپ اس قرض کو ذہنی سکون کے ساتھ واپس کر سکتے ہیں؟ 

اگر جواب میں تذبذب ہو تو سمجھ لیں کہ یہ مالی خودکشی کی طرف پہلا قدم ہے۔  اپنے وسائل کے اندر رہنا ہی طویل مدتی خوشحالی اور معاشی تحفظ کی واحد ضمانت ہے۔