امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کے دوران امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے، جس کے بعد امریکا کے لیے جواب دینا ناگزیر ہو گیا۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ ہیلی کاپٹر میں دو پائلٹ سوار تھے، تاہم خوش قسمتی سے دونوں محفوظ رہے اور انہیں کوئی جسمانی نقصان نہیں پہنچا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اس حملے کا جواب دینے پر مجبور ہے، تاہم ممکنہ جوابی کارروائی کی نوعیت یا وقت کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی۔
دوسری جانب امریکی سینٹرل کمانڈ ’سینٹکام‘ نے اس سے قبل بتایا تھا کہ 8 جون کی شام آبنائے ہرمز کے قریب امریکی فوج کا ایک AH-64 اپاچی ہیلی کاپٹر سمندر میں گر گیا تھا۔
بیان کے مطابق ہیلی کاپٹر عمان کے ساحل کے قریب معمول کی گشتی پرواز پر تھا جب حادثے کا شکار ہوا۔
سینٹکام کے مطابق دونوں فوجی اہلکاروں کو تقریباً دو گھنٹے کی امدادی کارروائی کے بعد بحفاظت نکال لیا گیا اور ان کی حالت مستحکم ہے۔
امریکی بحریہ، فضائیہ اور 82 ویں ایئر بورن ڈویژن نے مشترکہ طور پر امدادی آپریشن میں حصہ لیا، جبکہ امریکی پانچویں بحری بیڑے کی ٹاسک فورس 59 نے بھی کارروائی میں معاونت فراہم کی۔
تاہم امریکی فوج نے واضح کیا ہے کہ ہیلی کاپٹر گرنے کی اصل وجہ تاحال معلوم نہیں ہو سکی اور واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
اس لیے ٹرمپ کے دعوے اور فوجی بیان کے درمیان فی الحال تضاد موجود ہے، کیونکہ سینٹکام نے ایران کی جانب سے حملے کی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔
یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے اور دونوں ممالک حالیہ دنوں میں ایک دوسرے پر حملے کر چکے ہیں، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں مزید تصادم کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔