اسرائیل نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے ایران کے اسٹریٹجک دفاعی نظام اور فضائی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ ایران نے تازہ فوجی کارروائیوں کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل، واشنگٹن کی منظوری اور تعاون کے بغیر ایسے حملے نہیں کر سکتا۔
دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے نے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان آج پیر کے روز ایک بار پھر براہِ راست محاذ آرائی دیکھنے میں آئی، جس نے خطے میں قائم نازک جنگ بندی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
تازہ فوجی کارروائیوں نے نہ صرف مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا دیا بلکہ جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے ایران میں تازہ فضائی حملے ایسے وقت میں کیے گئے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ چند گھنٹے قبل ہی اسرائیل کو ایران کے خلاف مزید کارروائی سے گریز کرنے کا مشورہ دے چکے تھے۔
مزید پڑھیں
اس دوران یروشلم سمیت مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ اس نے ایران کی جانب سے داغے گئے مزید میزائلوں کو فضا میں تباہ کر دیا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا کہ اس نے اسرائیل کے جنوبی علاقے میں واقع ’نیواتیم‘ اور وسطی اسرائیل میں موجود ’تل نوف‘ فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کے
مطابق یہ کارروائی ایران کے مختلف علاقوں میں ریڈار تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی۔
اسرائیلی فوج نے بھی ایران میں فوجی اہداف اور ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس کو نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ حملوں کا مقصد ایرانی عسکری صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا تھا۔
ادھر صدر ٹرمپ نے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نتن یاہو سے رابطے کا اعلان کیا۔
امریکی صحافی باراک راوید کے مطابق ٹرمپ نے کہا کہ میں ابھی بی بی ’نیتن یاہو‘ کو فون کروں گا اور کہوں گا کہ وہ جواب نہ دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل اپنا حملہ کر چکا ہے اور ایران بھی جواب دے چکا ہے، اب مزید حملوں کی ضرورت نہیں۔
ایک الگ انٹرویو میں ٹرمپ نے ایران کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم نے اپنے میزائل چلا دیے، اب بس کرو، مذاکرات کی میز پر واپس آؤ اور معاہدہ کر لو۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں مستقل امن کے لیے لبنان کو بھی کسی بھی ممکنہ معاہدے کا حصہ بنانا ہوگا، کیونکہ اسرائیل اب بھی ایران نواز تنظیم حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایران کے سینئر رہنما اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکا پر اسرائیل کو بیروت پر حملے کے لیے ’گرین سگنل‘ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ اب امریکی اور اسرائیلی مفادات ’جائز اہداف‘ بن چکے ہیں۔
دوسری طرف اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے ایران کے اسٹریٹجک دفاعی نظام کو نشانہ بنایا ہے۔
فوج کے مطابق درجنوں جنگی طیاروں نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے متعدد فضائی دفاعی نظام تباہ کر دیے۔
اس کے جواب میں ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے ایران میں ایک پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر مبینہ امریکی، اسرائیلی حملے کے ردعمل میں حیفہ میں ایک مشابہہ تنصیب کو میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔
ادھر ایران نے تازہ کشیدگی کا ذمہ دار امریکا کو قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل واشنگٹن کی منظوری اور تعاون کے بغیر ایسی کارروائیاں نہیں کر سکتا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ موجودہ فوجی کشیدگی یقیناً جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو متاثر کرے گی، تاہم پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران کے درمیان پیغامات اور رابطوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔