سعودی عرب کے زرعی لحاظ سے زرخیز علاقے جازان میں ایک خاتون نے جدت اور کاروباری سوچ کا منفرد امتزاج پیش کرتے ہوئے زرعی شعبے میں نئی مثال قائم کر دی ہے۔
زلیخہ الکعبی نے مقامی زرعی وسائل سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نیلے اور سرخ رنگ کے کیلے کی کامیاب کاشت کر کے توجہ حاصل کر لی ہے۔
زلیخہ الکعبی کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ایسی زرعی مصنوعات تیار کرنا ہے جو اعلیٰ معیار کے ساتھ منفرد اور مارکیٹ میں نمایاں ہوں۔
اسی وژن کے تحت انہوں نے روایتی زرد کیلے کے بجائے نیلے اور سرخ رنگ کے کیلے کی اقسام اگانے کا تجربہ کیا، جو کامیاب ثابت ہوا۔
انہوں نے اپنی سرگرمیوں کو صرف کاشتکاری تک محدود نہیں رکھا بلکہ جازان کی قدرتی پیداوار کو جدید غذائی مصنوعات میں بھی تبدیل کیا۔
ان کی تیار کردہ مصنوعات میں مقامی اجزا سے بنی حلوہ، کیک اور دیگر صحت بخش غذائیں شامل ہیں، جنہیں جدید انداز میں تیار کیا جاتا ہے جبکہ ان کی مقامی شناخت بھی برقرار رکھی جاتی ہے۔
زلیخہ الکعبی کا کہنا ہے کہ ان کا منصوبہ جازان کی زرعی پیداوار کی قدر میں اضافہ کرنے، صحت بخش غذائی صنعت کو فروغ دینے اور مقامی مصنوعات کو نئی منڈیوں تک پہنچانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تجربہ سعودی خواتین کی بڑھتی ہوئی کاروباری صلاحیتوں اور زرعی شعبے میں جدت پسندی کی عکاسی کرتا ہے، جو نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط بناتا ہے بلکہ قومی زرعی وسائل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کا راستہ بھی ہموار کرتا ہے۔