ان کا کہنا ہے کہ لچکدار اوقاتِ کار ملازمین کو پیشہ ورانہ اور نجی زندگی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، جس سے ملازمت سے وابستگی میں اضافہ اور ذہنی دباؤ یا ’برن آؤٹ‘ میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس نظام کو مؤثر انتظامی پالیسیوں کے ساتھ نافذ کیا جائے تو یہ نہ صرف ملازمین کی فلاح و بہبود کو بہتر بنائے گا بلکہ اداروں کی پیداواری صلاحیت اور کارکردگی میں بھی اضافہ کرے گا۔
ماہرین کے مطابق اس اقدام سے باصلاحیت افراد کو اداروں میں برقرار رکھنے، نئی صلاحیتوں کو متوجہ کرنے اور روزگار کے مواقع کو زیادہ پرکشش بنانے میں بھی مدد ملے گی۔
تاہم اس کے مثبت نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ادارے اسے کس حد تک مؤثر انداز میں نافذ کرتے ہیں اور اپنی تنظیمی ثقافت کے ساتھ ہم آہنگ بناتے ہیں۔
یہ منصوبہ صرف ان انتظامی ملازمتوں پر لاگو ہوگا جن کے اوقاتِ کار مقرر اور مستقل ہیں، جبکہ صحت، سرکاری تعلیم، فیلڈ آپریشنز اور دیگر مسلسل خدمات فراہم کرنے والے شعبے اس سے مستثنیٰ ہوں گے، کیونکہ ان کی نوعیت مسلسل آپریشن اور براہِ راست خدمات کی متقاضی ہے۔
لچکدار اوقاتِ کار کی یہ نئی پالیسی ریاض کو ایک زیادہ مؤثر، پائیدار اور ملازم دوست شہر بنانے کی حکومتی کوششوں کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ کام کے جدید تقاضوں کے مطابق ایک متوازن اور صحت مند دفتری ماحول بھی فروغ پائے گا۔