اہم خبریں
11 June, 2026
--:--:--

ٹریفک دباؤ کم کرنے کے لئے ریاض کے 50 اداروں میں فلیکسی ٹائم پالیسی

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
ریاض فلیکسی ٹائم پالیسی

سعودی دارالحکومت ریاض میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی، شہری نقل و حرکت کو بہتر بنانے اور ملازمین کے معیارِ زندگی کو بلند کرنے کے لیے لچکدار اوقاتِ کار کی نئی پالیسی نافذ کر دی گئی ہے۔
اس اقدام کے تحت 50 سے زائد سرکاری اداروں میں ملازمین کو 4 گھنٹے تک لچکدار آمد و روانگی کی سہولت دی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق یہ اقدام جدید دفتری ثقافت کو فروغ دینے، ملازمین کے ذہنی دباؤ میں کمی لانے اور اداروں کی کارکردگی بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

سعودی دارالحکومت ریاض میں ٹریفک کے دباؤ میں کمی، ملازمین کے معیارِ زندگی میں بہتری اور شہری نقل و حرکت کو مؤثر بنانے کے لیے ’لچکدار اوقاتِ کار‘ Flexible Working Hours کی نئی پہل کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ 

اس منصوبے کے تحت شہر کے 6 بڑے کاروباری اور دفتری علاقوں میں 50 سے زائد سرکاری ادارے شامل ہیں۔

یہ اقدام ریاض رائل کمیشن اور وزارت ہیومن ریسورسز کے اشتراک سے نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت ملازمین کو آمد و روانگی کے اوقات میں 4 گھنٹے تک کی لچک فراہم کی جائے گی، تاکہ رش کے اوقات میں ٹریفک کا دباؤ کم کیا جا سکے۔

مزید پڑھیں

العربیہ کے مطابق اس منصوبے کا اطلاق شہر کے اہم کاروباری مراکز جیسے ریاض ڈیجیٹل سٹی، کنگ عبداللہ فنانشل ڈسٹرکٹ، لیسن ویلی، غرناطہ بزنس اور روشن فرنٹ پر کیا جا رہا ہے۔

 انسانی وسائل کے ماہر علی العید نے کہا ہے کہ یہ اقدام محض دفتری اوقات کی تنظیم نہیں بلکہ جدید طرزِ فکر اور کام کے بدلتے ہوئے تصورات کی عکاسی کرتا ہے۔

 ان کا کہنا ہے کہ لچکدار اوقاتِ کار ملازمین کو پیشہ ورانہ اور نجی زندگی کے درمیان بہتر توازن قائم کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں، جس سے ملازمت سے وابستگی میں اضافہ اور ذہنی دباؤ یا ’برن آؤٹ‘ میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔

ChatGPT Image 4 يونيو 2026، 06 14 20 م

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس نظام کو مؤثر انتظامی پالیسیوں کے ساتھ نافذ کیا جائے تو یہ نہ صرف ملازمین کی فلاح و بہبود کو بہتر بنائے گا بلکہ اداروں کی پیداواری صلاحیت اور کارکردگی میں بھی اضافہ کرے گا۔

ماہرین کے مطابق اس اقدام سے باصلاحیت افراد کو اداروں میں برقرار رکھنے، نئی صلاحیتوں کو متوجہ کرنے اور روزگار کے مواقع کو زیادہ پرکشش بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ 

تاہم اس کے مثبت نتائج کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ ادارے اسے کس حد تک مؤثر انداز میں نافذ کرتے ہیں اور اپنی تنظیمی ثقافت کے ساتھ ہم آہنگ بناتے ہیں۔

ChatGPT Image 4 يونيو 2026، 06 16 25 م

یہ منصوبہ صرف ان انتظامی ملازمتوں پر لاگو ہوگا جن کے اوقاتِ کار مقرر اور مستقل ہیں، جبکہ صحت، سرکاری تعلیم، فیلڈ آپریشنز اور دیگر مسلسل خدمات فراہم کرنے والے شعبے اس سے مستثنیٰ ہوں گے، کیونکہ ان کی نوعیت مسلسل آپریشن اور براہِ راست خدمات کی متقاضی ہے۔

لچکدار اوقاتِ کار کی یہ نئی پالیسی ریاض کو ایک زیادہ مؤثر، پائیدار اور ملازم دوست شہر بنانے کی حکومتی کوششوں کا اہم حصہ سمجھی جا رہی ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل میں کمی آئے گی بلکہ کام کے جدید تقاضوں کے مطابق ایک متوازن اور صحت مند دفتری ماحول بھی فروغ پائے گا۔