سائنس دانوں نے ایک ایسی اہم پیش رفت کی ہے جو مستقبل میں اسمارٹ ویئر ایبل ڈیوائسز اور انسانی اعضاء میں نصب کیے جانے والے طبی آلات میں انقلاب لا سکتی ہے۔
مزید پڑھیں
ماہرین نے ایک ایسے پولیمر کی ساخت کو سمجھ لیا ہے جو بیک وقت بجلی گزارنے کی صلاحیت اور انسانی بافتوں جیسی لچک رکھتا ہے۔
الیکٹرانکس اور بائیولوجی کا حسین امتزاج
ماہرین طویل عرصے سے ایک ایسے مادے کی تلاش میں تھے جو دھاتی تاروں کی طرح بجلی گزار سکے، مگر اس کی ساخت انسانی بافتوں کی طرح نرم اور لچکدار ہو۔
اس مقصد کے لیے ’پِیڈوٹ پی ایس ایس‘ (PEDOT:PSS) نامی پولیمر کو سب سے موزوں سمجھا جاتا رہا ہے، جو اپنی نوعیت کا منفرد مادہ ہے کیونکہ یہ الیکٹرونز اور آئنز دونوں کو منتقل کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
یہ صلاحیت اسے روایتی الیکٹرانکس اور انسانی اعضاء کے حیاتیاتی نظاموں کے درمیان ایک مثالی پل بنانے کے قابل بناتی ہے، جس سے مستقبل میں جدید طبی کامیابیاں ممکن ہو سکیں گی۔
مائیکرو اسکوپی کی نئی تاریخ
اس پولیمر کے پیچیدہ نینو اسٹرکچر کو سمجھنا اب تک ایک ناممکن کام سمجھا جاتا تھا۔
تاہم پنسلوانیا اسٹیٹ اور آئیووا اسٹیٹ یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے 2017 میں کیمسٹری کا نوبل انعام جیتنے والی ’کرائیو الیکٹران مائیکرو اسکوپی‘ ٹیکنالوجی اور جدید ترین کمپیوٹیشنل تجزیے کی مدد سے اس معمے کو حل کر لیا ہے۔
عام الیکٹران مائیکرو اسکوپ میں مواد کو خشک کرنا پڑتا ہے، جس سے پولیمر کی اصل ساخت خراب ہو جاتی ہے، لیکن کرائیو الیکٹران مائیکرو اسکوپی میں نمونے کو فوری طور پر انتہائی ٹھنڈے سیال میں جما دیا جاتا ہے۔
اس عمل کو ’گلیزنگ‘ کہتے ہیں، جس سے مادہ اپنی اصل اور قدرتی شکل میں محفوظ رہتا ہے۔
ڈیجیٹل تجزیہ اور نینو ساخت کا انکشاف
تحقیقی ٹیم نے ڈیٹا کے تجزیے کے لیے ’گراف وی 2‘ (GraphV2) نامی اوپن سورس سافٹ ویئر استعمال کیا ہے۔
اس ٹیکنالوجی نے پولیمر کے اندر موجود نینو ذرات کی ساخت کو ایک چھوٹے آڑو کی مانند ظاہر کیا، جس کا مرکز بجلی گزارنے والا ’پِیڈوٹ‘ ہے اور بیرونی غلاف ’پی ایس ایس‘ پر مشتمل ہے۔
تجزیے سے معلوم ہوا کہ جب اس محلول میں نمکیات یا مخصوص سالوینٹس ملائے جاتے ہیں، تو یہ ذرات آپس میں جڑ کر طویل زنجیریں اور نینو کیبلز بنا لیتے ہیں۔
یہ منظم ڈھانچہ بجلی بہاؤ کو انتہائی مؤثر اور تیز رفتار بناتا ہے، جو ٹیکنالوجی کے لیے ایک اہم پیش رفت ہے۔
مستقبل کے طبی امکانات اور چیلنجز
اس تحقیق کے نتیجے میں ایسے اسمارٹ طبی آلات بنانا ممکن ہو جائے گا جو انسانی دماغ کے ساتھ براہ راست رابطہ قائم کر سکیں گی۔
اس کے علاوہ مصنوعی جلد، روبوٹکس میں حساسیت اور مریضوں کی صحت کی مسلسل نگرانی کرنے والے لچکدار سینسرز کی تیاری کے دروازے بھی کھل گئے ہیں۔
اگرچہ یہ ایک شاندار سائنسی کامیابی ہے، لیکن ماہرین اب بھی محتاط ہیں۔
تجارتی استعمال کے لیے اس مواد کا انسانی جسم کے گرم اور نمی والے ماحول میں طویل عرصے تک مستحکم رہنا اور اپنی کارکردگی برقرار رکھنا ایک بڑا تکنیکی چیلنج ہے جس پر مزید کام جاری ہے۔