اصل چیلنج
مزید بریکنگ
نیوز نہیں بلکہ
الفاظ کے کھوئے
ہوئے معنی
بحال کرنا ہے
انسان کو مسلسل ہنگامی کیفیت میں رہنے کے لیے پیدا نہیں کیا گیا۔
ہمارا جسم اور دماغ ہر ’بریکنگ نیوز‘ کو ایک حقیقی خطرے کی طرح لیتا ہے۔
توجہ بڑھ جاتی ہے، ذہنی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے اور ایک احساس جنم لیتا ہے کہ کوئی بڑی تبدیلی یا خطرہ فوری توجہ کا متقاضی ہے لیکن جب یہی انتباہ روزانہ درجنوں مرتبہ دہرایا جائے تو ایک عجیب کیفیت پیدا ہوتی ہے:
ہم اس پر ردِعمل دینا چھوڑ دیتے ہیں۔
یہ بالکل اسی کہانی کی طرح ہے جس میں ایک شخص ہر روز ’بھیڑیا آیا، بھیڑیا آیا‘ کا شور مچاتا ہے۔
آخرکار جب واقعی بھیڑیا آتا ہے تو کوئی اس کی بات پر یقین نہیں کرتا۔
شاید اسی لیے ہم آج ایک غیر معمولی صحافتی تضاد کے دور میں زندہ ہیں۔
انسانی تاریخ میں کبھی اتنی اطلاعات، تنبیہات اور نوٹیفکیشنز موجود نہیں تھیں مگر اس کے باوجود شاید انسان کبھی اتنا بے حس بھی نہیں تھا جتنا آج ہے۔
ہم نے خوف کو اتنا استعمال کر لیا ہے کہ وہ اپنی تاثیر کھو چکا ہے۔
اب جنگوں، آفات اور بحرانوں کی خبریں بھی ہمارے سامنے اسی بے پروائی سے گزر جاتی ہیں جیسے موسم کی پیش گوئیاں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ’بریکنگ نیوز‘ اب صرف ایک صحافتی اصطلاح نہیں رہی بلکہ ایک عمومی ثقافت بن چکی ہے۔
یہ نیوز چینلز سے نکل کر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز تک پہنچ گئی ہے اور اداروں سے آگے بڑھ کر افراد کی ذاتی زندگیوں میں داخل ہو چکی ہے۔
اب ہر شخص اپنی ایک ’بریکنگ نیوز سروس‘ رکھتا ہے۔
بریکنگ: نئی تصویر۔
بریکنگ: نیا تبصرہ۔
بریکنگ: نیا تنازع۔
بریکنگ: نیا اسکینڈل۔
یہاں تک کہ ہماری ذاتی زندگیاں بھی جلد بازی کے اسی فلسفے کے تحت چلنے لگی ہیں۔ ہمیں خبر فوراً چاہیے، جواب فوراً چاہیے، کامیابی فوراً چاہیے اور شہرت بھی فوراً چاہیے۔
گویا وقت خود ہماری توقعات سے پیچھے رہ گیا ہو۔
لیکن غور طلب سوال یہ ہے کہ جب ایک پورا معاشرہ مستقل میڈیا ایمرجنسی میں زندگی گزارنے لگے تو اس کے نتائج کیا ہوتے ہیں؟
ایک امکان یہ ہے کہ لوگ اہم اور غیر اہم کے درمیان فرق کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھیں۔
جب ہر خبر کو یکساں ہنگامی انداز میں پیش کیا جائے تو پھر یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ واقعی اہم کیا ہے۔
جنگ کے آغاز کی خبر بھی اسی انداز میں دی جاتی ہے جس انداز میں کسی سیاسی بیان یا غیر مصدقہ افواہ کو پیش کیا جاتا ہے۔
نتیجتاً میڈیا کا بیانیہ مختلف چیزوں کے درمیان موجود فطری فرق کو مٹا دیتا ہے۔
ہر چیز اہم قرار پاتی ہے۔
اور جب ہر چیز اہم ہو جائے تو پھر کچھ بھی اہم نہیں رہتا۔
یہی اس پوری کہانی کا سب سے طنزیہ پہلو ہے۔
وہ لفظ جو دراصل عوام کو غیر معمولی واقعات سے خبردار کرنے کے لیے تخلیق کیا گیا تھا، بعض اوقات انہی واقعات کی اہمیت کو کمزور کرنے کا سبب بن جاتا ہے۔
شاید اسی لیے آج اصل سوال یہ نہیں رہا کہ ’برکنگ نیوز کیا ہے؟‘
بلکہ سوال یہ ہے:
کیا یہ خبر واقعی ’بریکنگ‘ کہلانے کی مستحق بھی ہے؟
ممکن ہے آج میڈیا کے سامنے سب سے بڑا چیلنج مزید ’بریکنگ نیوز‘ پیدا کرنا نہ ہو، بلکہ الفاظ کے کھوئے ہوئے معنی واپس لانا ہو۔
کیونکہ الفاظ بھی کرنسیوں کی طرح اعتماد کے سہارے اپنی قدر برقرار رکھتے ہیں۔
اور جب ’بریکنگ‘ جیسے الفاظ اپنا مفہوم کھو دیتے ہیں تو ہم صرف ایک صحافتی اصطلاح نہیں کھوتے، بلکہ وہ پیمانہ بھی کھو دیتے ہیں جس کے ذریعے ہم طے کرتے ہیں کہ کیا چیز واقعی ہماری توجہ کی مستحق ہے اور کیا نہیں۔
رہا وہ عالم جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ دو گھنٹوں میں ختم ہو جائے گا، تو غالب امکان یہی ہے کہ وہ بالکل خیریت سے موجود ہے۔
مگر لفظ ’بریکنگ‘ یقیناً ایک فوری امدادی کارروائی کا منتظر ہے۔
بشکریہ: الجزیرہ