اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تاریخی اور اسٹریٹجک شقیف قلعے پر کنٹرول حاصل کرنے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیل اسے بڑی عسکری کامیابی قرار دے رہا ہے جبکہ لبنانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جدید جنگوں میں کسی مقام پر قبضہ فیصلہ کن کامیابی نہیں ہوتا۔
اس قلعے کی تاریخی اہمیت کیا ہے اور اس پر قبضے کے ما بعد اثرات کیا ہوسکتے ہیں؟
لبنانی سماجی کارکن فؤاد خریس نے اسرائیلی فوج کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ’تشہیری فلم‘ زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
ان کے مطابق شقیف بنیادی طور پر ایک تاریخی اور سیاحتی مقام ہے، نہ کہ ایسا فوجی قلعہ جہاں مزاحمتی جنگجو مستقل طور پر موجود ہوں۔انہوں نے مزید کہا کہ ویڈیو میں اسرائیلی فوجی بغیر بکتر بند گاڑیوں کے نظر آ رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کا مقصد زیادہ تر ایک علامتی منظر فلمانا تھا تاکہ اسے سیاسی اور میڈیا سطح پر کامیابی کے طور پر پیش کیا جا سکے۔
مصنف اور تجزیہ کار یاسین عزالدین بھی اسی مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔
ان کے مطابق اسرائیلی میڈیا قلعے میں داخل ہونے اور پرچم لہرانے کی اہمیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے، حالانکہ جدید جنگوں کی نوعیت مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔
اس تجزیے کی تائید اس حقیقت سے بھی ہوتی ہے کہ شقیف پر قبضے کے اعلان کے چند گھنٹوں بعد ہی شمالی اسرائیل کی بستی المطلہ اور دیگر علاقوں میں راکٹ حملوں کے خطرے کے باعث خطرے کے سائرن بج اٹھے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنوبی محاذ پر کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
کئی عسکری مبصرین کا کہنا ہے کہ کسی علاقے تک پہنچ جانا ایک بات ہے، لیکن وہاں طویل عرصے تک قیام اور اس کی قیمت برداشت کرنا دوسری بات ہے۔
ان کے مطابق جنوبی لبنان میں جاری مزاحمت کے پیشِ نظر اسرائیل کو آنے والے دنوں میں اس چیلنج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
شقیف قلعے پر اسرائیلی کنٹرول نے لبنان میں ایک نئی بحث کو بھی جنم دیا ہے۔
مبصرین سوال اٹھا رہے ہیں کہ آیا یہ پیش رفت جنوبی لبنان میں مزید زمینی پیش قدمی اور نبطیہ سمیت دیگر علاقوں کی جانب ممکنہ توسیع کا پیش خیمہ ثابت ہوگی یا نہیں۔