اہم خبریں
3 June, 2026
--:--:--

پڑوسیوں کو نشانہ بنانے کے بعد ایران کے پاس کیا بچے گا؟

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
(فوٹو: انٹرنیٹ)

مشرقِ وسطیٰ میں ایران طویل عرصے سے عدم استحکام کا بڑا سبب بنا ہوا ہے۔

مزید پڑھیں

ایرانی قیادت کی جانب سے ہمسایہ ممالک کے خلاف دھمکی آمیز لہجہ اور ڈرون و بیلسٹک میزائل حملے خطے کا امن داؤ پر لگا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں تہران اب شدید سفارتی اور معاشی دباؤ کی زد میں ہے۔

ایرانی دھمکیوں کا کھوکھلا پن

مجتبیٰ خامنہ ای کے حالیہ بیانات میں خلیجی ممالک کو امریکی اتحادی قرار دے کر تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ 

حقیقت یہ ہے کہ خلیج عرب کے ممالک نے اپنی حفاظت کے لیے ہمیشہ خود کو مضبوط کیا ہے۔ امریکی موجودگی کسی ڈرون حملے کی وجہ نہیں، بلکہ تہران کا انقلاب برآمد کرنے کا بیانیہ اپنی کشش کھو چکا ہے۔

علاقائی اثر و رسوخ اور اندرونی بحران

عراق، شام اور لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ ملیشیا گروہ اب مقامی آبادیوں کے لیے بوجھ بن چکے ہیں۔

لبنان میں حزب اللہ کی مسلح بالادستی کے خلاف عوامی مزاحمت بڑھ رہی ہے، جبکہ عراق میں بھی حکومتی حلقے ملیشیاؤں کی بدعنوانی اور مجرمانہ سرگرمیوں سے تنگ آ چکے ہیں۔ 

یہی پیش رفت ایرانی اثر و رسوخ کے زوال کا واضح اشارہ ہے۔

operation epic fury and middle east 1
(فوٹو: اے آئی جنریٹڈ)

مذاکرات اور دباؤ کی سیاست

ایک جانب ایران دھمکیاں دیتا ہے تو دوسری جانب محمد باقر قالیباف اور عباس عراقچی جیسے رہنما قطر کے ذریعے امریکہ سے مذاکرات کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

یہ تضاد واضح کرتا ہے کہ ایران معاشی بحران اور چینی دباؤ کے باعث اپنے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز پر قبضے کے خواب سے دستبردار ہونے پر مجبور ہے۔

مستقبل کے امکانات اور ایرانی حکومت کا انجام

ایرانی نظام اپنی بقا کے لیے غیر ملکی حمایت پر انحصار کر رہا ہے، لیکن روس اور چین کی قربت بھی اسے داخلی ٹوٹ پھوٹ سے نہیں بچا سکتی۔

جس طرح ایران نے 4 عرب ریاستوں کو تباہ کیا، اب خود اس کے اپنے عوام اس جبر کے خلاف چھٹی بار بغاوت کے لیے تیار دکھائی دیتے ہیں۔

العربیہ پر شائع رضوان السید کے اس تجزیے  کا نچوڑ یہ ہے کہ ایرانی نظام کا رویہ ہمسایہ ممالک کے لیے مسلسل خطرہ رہا ہے، جس نے پورے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ کو جنم دیا ہے۔ 

آج ایران نہ صرف اپنے پڑوسیوں بلکہ اپنے عوام کے لیے بھی سب سے بڑا دشمن بن چکا ہے۔ معاشی تباہی اور عالمی تنہائی اس بات کی غماز ہے کہ اس نظام کا خاتمہ نوشتہ دیوار ہے۔