عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد سے زائد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو اپریل کے بعد ہفتہ وار بنیادوں پر سب سے بڑی گراوٹ ہے۔
مزید پڑھیں
یہ صورتحال امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں ممکنہ توسیع کی خبروں کے بعد پیدا ہوئی ہے۔
جمعہ کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت 1.66 ڈالر یا 1.8 فیصد کمی کے بعد 92.5 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی۔ اسی طرح امریکی خام تیل ڈبلیو ٹی آئی 1.54 ڈالر کمی سے 87.36 ڈالر پر آگیا۔
ایجن کیپٹل کے پارٹنر جان کیلڈوف کا کہنا ہے کہ مارکیٹ اس تاثر کو
قبول کر رہی ہے کہ جنگ بندی کا عمل اب مکمل ہو چکا ہے، کیونکہ گزشتہ 3 ماہ سے جاری ایران امریکہ اسرائیل جنگ کے خاتمے کی خبریں مسلسل گردش کر رہی ہیں۔
اس تنازع کے خاتمے سے عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے اہم ترین راستہ آبنائے ہرمز کھلنے کی امید پیدا ہوئی ہے۔
واضح رہے کہ دنیا بھر میں تیل اور گیس کی مجموعی تجارت کا پانچواں حصہ اسی اہم بحری گزرگاہ کے ذریعے منتقل کیا جاتا ہے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق تہران نے ابھی معاہدے کی حتمی منظوری نہیں دی ہے۔
اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے ہرمز بلا تعطل کھولنا ہوگا، تاہم تہران وہاں ٹریفک کنٹرول کرنے اور ٹرانزٹ فیس وصول کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی توانائی کی قیمتوں میں استحکام کے لیے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولے۔
یاد رہے کہ اس گزرگاہ کی بندش کے باعث حالیہ دنوں میں تیل کی قیمتوں میں 6 ڈالر تک کا اتار چڑھاؤ دیکھا گیا۔
رواں ہفتے برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 11 فیصد کمی ہوئی جو 7 ہفتوں کی سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ ڈبلیو ٹی آئی کی قیمت بھی 9 فیصد سے زائد گر گئی اور دونوں انڈیکس اپریل کے بعد کم ترین سطح پر ہیں۔
جاپان کی تیل درآمدات میں گزشتہ ماہ اپریل 2025ء کے مقابلے میں 66 فیصد کی بڑی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔
کامرز بینک نے برینٹ کروڈ کی قیمت ستمبر کے آخر تک 90 ڈالر اور سال کے اختتام تک 85 ڈالر رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ تخمینہ اس مفروضے پر مبنی ہے کہ ہرمز مزید 2 ماہ تک عام جہاز رانی کے لیے بند رہے گی۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق گزشتہ ہفتے خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر میں کمی واقع ہوئی ہے۔
ریفائنریوں کی جانب سے طلب میں اضافے کے باوجود امریکی برآمدات 1.16 ملین بیرل کمی کے ساتھ 44 لاکھ بیرل یومیہ رہ گئیں۔
ذرائع کے حوالے سے میڈیا رپورٹس کے مطابق جمعرات کو فریقین کے درمیان جہاز رانی پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا معاہدہ طے پایا ہے۔، جس کے اثرات عالمی مارکیٹ پر نظر آئیں گے۔