اہم خبریں
30 May, 2026
--:--:--

سلیکون دور ختم: سائنسدان روشنی سے چلنے والے کمپیوٹرز کے قریب تر

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
آپٹیکل کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی اور روشنی سے چلنے والی کمپیوٹر چپس کا منظر
کمپیوٹر چپس میں ڈیٹا منتقلی اور پروسیسنگ کے لیے الیکٹرانز کی جگہ روشنی کا استعمال ممکن ہوگا (فوٹو: انٹرنیٹ)

دنیا بھر میں اسمارٹ فون صارفین کا یہ دیرینہ خواب رہا ہے کہ ان کا موبائل گرم ہوئے اور بیٹری ختم کیے بغیر دن بھر آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی پیچیدہ ایپلی کیشنز چلا سکے۔

مزید پڑھیں

اب یہ سائنسی فکشن جیسا خیال بہت جلد حقیقت بننے والا ہے۔ 

سائنسی دنیا میں آپٹیکل کمپیوٹنگ یعنی روشنی کی مدد سے چلنے والے کمپیوٹرز کے شعبے میں ایک ایسی انقلابی پیشرفت سامنے آئی ہے جس کے بعد اب کمپیوٹر چپس کے اندر ڈیٹا کی منتقلی اور پروسیسنگ کے لیے الیکٹرانز کی جگہ روشنی کا استعمال ممکن ہو سکے گا۔ 

روایتی کمپیوٹرز ڈیٹا کی منتقلی کے لیے الیکٹرانز کی حرکت پر انحصار 

کرتے ہیں، لیکن جدید دور میں مصنوعی ذہانت کی ایپلیکیشنز کے پھیلاؤ کے باعث اس پرانے طریقے کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں سب سے نمایاں مسئلہ بجلی کا بے پناہ استعمال اور چپس کا بہت زیادہ گرم ہونا ہے۔

اس پیچیدہ مائیکرواسٹرکچر اور تھرمل مسئلے کو حل کرنے کے لیے ماضی میں بھی روشنی کے استعمال کی کوششیں ہوئیں کیونکہ روشنی کی رفتار انتہائی تیز ہوتی ہے اور اس میں توانائی کا ضیاع نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے۔

آپٹیکل کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی اور روشنی سے چلنے والی کمپیوٹر چپس کا منظر
اب یہ سائنسی فکشن جیسا منظر نامہ بہت جلد حقیقت بننے والا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

تاہم کمپیوٹنگ میں روشنی کا استعمال اب تک انتہائی محدود رہا کیونکہ روشنی کے بنیادی ذرات یعنی فوٹونز کا آپس میں تعامل یا ایک دوسرے پر اثر انداز ہونا بے حد مشکل کام ہے۔

جبکہ کمپیوٹر کے اندر حساب کتاب اور منطقی فیصلے یعنی لاجک آپریشنز کے لیے اس تعامل کا ہونا لازمی ہے۔

اس سائنسی رکاوٹ کو دُور کرنے کے لیے امریکہ کی یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے محققین نے ایک بڑا بریک تھرو حاصل کیا ہے۔

انہوں نے انتہائی باریک سیمی کنڈکٹر مواد کے اندر روشنی کے ذرات (فوٹونز) کو الیکٹرانز کے ساتھ ملا کر ایک ہائبرڈ ذرہ تیار کیا ہے جسے ’ایکسائٹون پولاریٹون‘ (Exciton-polariton) کا نام دیا گیا ہے۔ 

یہ نیا ہائبرڈ ذرہ روشنی کی تیز رفتار کو برقرار رکھتے ہوئے اسے آپس میں مضبوطی سے تعامل کرنے کی حیرت انگیز صلاحیت فراہم کرتا ہے۔

آپٹیکل کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی اور روشنی سے چلنے والی کمپیوٹر چپس کا منظر
امریکہ کی یونیورسٹی آف پنسلوانیا کے محققین نے ایک بڑا بریک تھرو حاصل کیا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

اس عظیم سائنسی کامیابی کو معتبر عالمی جریدے ’فزیکل ریویو لیٹرز‘(Physical Review Letters) میں شائع کیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف پنسلوانیا کی ویب سائٹ پر جاری کردہ باضابطہ پریس ریلیز میں محققین نے بتایا ہے کہ یہ نئی ٹیکنالوجی مستقبل میں ایسے کمپیوٹرز کی تیاری کی راہ ہموار کرے گی جو موجودہ نظام سے کہیں زیادہ تیز رفتار اور کارآمد ہوں گے۔ 

یہ پیشرفت خاص طور پر مصنوعی ذہانت، خود کار گاڑیوں (سیلف ڈرائیونگ کارز)، روبوٹکس اور دنیا بھر کے بڑے ڈیٹا سینٹرز کے شعبوں میں انقلابی تبدیلیاں لائے گی۔ 

ماہرین نے یہ کامیابی بھی حاصل کی ہے کہ انہوں نے چپس کے اندر ’آل آپٹیکل سوئچنگ‘ کا کامیاب تجربہ کیا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ اب کمپیوٹنگ سگنلز کو کنٹرول کرنے کے لیے تقریباً صرف روشنی کا ہی استعمال کیا جائے گا جس سے موجودہ الیکٹرانک کمپیوٹرز کے مقابلے میں بجلی کا استعمال نہ ہونے کے برابر رہ جائے گا۔

اگرچہ یہ جدید ٹیکنالوجی ابھی سائنسی تحقیق اور لیبارٹری کے مراحل میں ہے، لیکن سائنسدان اسے ایک ایسا امید افزا قدم قرار دے رہے ہیں۔

آپٹیکل کمپیوٹنگ ٹیکنالوجی اور روشنی سے چلنے والی کمپیوٹر چپس کا منظر
روشنی کی مدد سے چلنے والے کمپیوٹرز کے شعبے میں انقلابی پیشرفت سامنے آئی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

اس پیش رفت کے نتیجے میں کمپیوٹرز الیکٹرانز کے بجائے مکمل طور پر روشنی پر انحصار کریں گے، جسے سائنسی زبان میں ’پوسٹ سلیکون ایرا‘ یا سلیکون کے بعد کا عہد کہا جا رہا ہے۔ 

یہ اصطلاح کمپیوٹنگ اور الیکٹرانکس کی صنعت کے اس مستقبل کے دور کو ظاہر کرتی ہے جہاں چپس اور پروسیسرز کی تیاری میں روایتی عنصر سلیکون پر انحصار ختم کر دیا جائے گا، جو اس وقت دنیا کی تمام الیکٹرانک چپس اور کمپیوٹر پروسیسرز کی تیاری میں بنیادی مادی عنصر کے طور پر استعمال ہو رہا ہے۔ 

نئے آپٹیکل چپس مارکیٹ میں آنے سے نہ صرف توانائی کے عالمی بحران پر قابو پایا جا سکے گا بلکہ سپر کمپیوٹنگ کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم ہوگی۔