اہم خبریں
13 June, 2026
--:--:--

العلا کا جبل الاقرع: 400 کتبے صدیوں سے حجاج کے سفر کے گواہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
العلا میں جبل الاقرع کے اسلامی کتبے اور تاریخی چٹانیں
یہ دریافت العلا کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

العلا رائل کمیشن نے جبل الاقرع کی چٹانوں پر ابتدائی دور کے 400 سے زائد اسلامی کتبوں کو دستاویزی شکل دینے کا انکشاف کیا ہے۔

مزید پڑھیں

یہ دریافت العلا کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے، جو قدیم زمانے میں تجارتی قافلوں و حج کے راستوں پر ایک اہم مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ صدیوں تک انسانی و ثقافتی سرگرمیوں کا گڑھ رہا ہے۔

کمیشن کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق یہاں سے گزرنے والے مسافروں کے چھوڑے گئے یہ کتبے جزیرہ نما عرب میں سفر اور نقل و حرکت کی تاریخ کا ایک زندہ ریکارڈ ہیں۔ 

ان تحریروں میں مسافروں کے نام، جذباتی پیغامات، دعائیہ کلمات (مغفرت و رحمت کی دعائیں) اور سفر کے دوران سلامتی و آسانی کے لیے لکھی گئی عبارتیں شامل ہیں۔

العلا میں جبل الاقرع کے اسلامی کتبے اور تاریخی چٹانیں
مسافروں کے چھوڑے گئے یہ کتبے جزیرہ نما عرب میں سفر اور نقل و حرکت کی تاریخ کا زندہ ریکارڈ ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

یہ کتبے حج اور تجارتی قافلوں سے وابستہ اس روحانی اور سماجی پہلو کی عکاسی کرتے ہیں جو العلا کی تاریخی گزرگاہوں سے منسلک تھا۔

یہ منظر ابتدائی اسلامی ادوار میں خطے میں ہونے والے تہذیبی رابطوں کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔

حج کے قدیم راستوں کی دستاویزات

العلا رائل کمیشن نے واضح کیا ہے کہ جبل الاقرع کے کتبے ان تاریخی راستوں پر حجاج اور تجارتی قافلوں کی نقل و حرکت کی تصدیق کرتے ہیں۔

یہ کتبے اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ العلا مسافروں، تاجروں اور حجاج کے لیے ایک اہم سنگم تھا، جس نے اسے شمال مغربی جزیرہ نما عرب میں ثقافتی و تہذیبی تبادلے کا مرکز بنا دیا تھا۔

العلا میں جبل الاقرع کے اسلامی کتبے اور تاریخی چٹانیں
یہ منظر ابتدائی اسلامی ادوار میں خطے میں ہونے والے تہذیبی رابطوں کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

ثقافتی ورثے کا تحفظ

کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ دستاویزی کام آثار قدیمہ کے مقامات کے تحفظ اور العلا کے ثقافتی و تاریخی ورثے کو محفوظ بنانے کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔

اب ان اسلامی تاریخی کتبوں کو جزیرہ نما عرب کی یادداشت اور تہذیبی شناخت کا لازمی جزو قرار دیتے ہوئے ان کی اہمیت کو اجاگر کیا جا رہا ہے، تاکہ سعودی وژن 2030 کے اہداف کے عین مطابق قومی ورثے کو عالمی سطح پر روشناس کرایا جا سکے۔