سائبر جرائم کرنے والے اب روایتی ہیکنگ کے بجائے انسانوں کے جذبات اور اعتماد کو ہدف بنا رہے ہیں۔
مزید پڑھیں
میڈیا رپورٹس کے مطابق مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے ’ریئل ٹائم ڈیپ فیک‘ ٹیکنالوجی کے ذریعے اب کسی بھی شخص کی آواز اور چہرے کو لائیو ویڈیو کال میں ہو بہو نقل کرنا ممکن ہو چکا ہے۔
لائیو ڈیپ فیک: نیا سیکیورٹی چیلنج
مرکزالعرب برائے تحقیق کے ماہر ڈاکٹر محمد محسن رمضان کے مطابق اے آئی اب تفریح سے نکل کر سنگین جرائم کا حصہ بن چکی ہے۔
ریئل ٹائم ڈیپ فیک کے ذریعے مجرم سیکنڈوں میں کسی سرکاری افسر، باس یا قریبی رشتہ دار کا روپ دھار سکتے ہیں۔
یہ ٹیکنالوجی کیسے کام کرتی ہے؟
یہ عمل انتہائی پیچیدہ اور تیز رفتار الگورتھمز پر مبنی ہے، جس میں پہلے مرحلے میں کیمرہ اپنے ہدف کے چہرے کے خد و خال اور حرکات کو فوری ٹریک کرتا ہے۔
دوسرے مرحلے میں ’جنریٹو ایڈورسیریل نیٹ ورکس‘ (GANs) کا استعمال کرتے ہوئے ڈیجیٹل چہرہ ہدف کے اصلی چہرے پر سیکنڈوں میں نصب کر دیا جاتا ہے۔
مالیاتی فراڈ کا سنہری دور
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی مالیاتی اداروں کے لیے ڈراؤنا خواب بن چکی ہے۔
ایک عالمی کمپنی کے ملازم کو باس کی جانب سے جعلی لائیو ویڈیو کال کے ذریعے فوری رقم منتقل کرنے کا حکم دیا گیا، جس سے کمپنی کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔
ٹیکنالوجی ایکسپرٹس کے مطابق یہ جدید تکنیک براہ راست انسانی عقل کو دھوکہ دے رہی ہے۔
بائیو میٹرک تصدیق بھی خطرے میں
سابق مصری اسسٹنٹ وزیر داخلہ میجر جنرل خالد الشاذلی کے مطابق یہ ٹیکنالوجی بینکوں اور سرکاری ایپس میں استعمال ہونے والی بائیو میٹرک تصدیق (چہرہ اور آواز) کو بھی ناکام بنا سکتی ہے۔
ہیکرز اب جعلی شناخت کے ذریعے حساس دستاویزات تک رسائی حاصل کر رہے ہیں، جو ایک سنگین سیکیورٹی خطرہ ہے۔
ڈیجیٹل دفاع کی کوششیں
سائبر سیکیورٹی کے ماہرین اب ایسے نظام تیار کر رہے ہیں جو انسانی آنکھوں کی حرکت، پلک جھپکنے کی رفتار اور خون کے بہاؤ سے پیدا ہونے والی جلد کی معمولی تبدیلیوں کو پہچان سکیں۔
یہ وہ باریکیاں ہیں جنہیں فی الحال مصنوعی ذہانت کے ذریعے مکمل طور پر نقل کرنا ناممکن ہے۔
تحفظ کے لیے عملی اقدامات
اس نئے ڈیجیٹل خطرے سے بچنے کے لیے ضروری ہے کہ کسی بھی ویڈیو کال پر پہلی ہی بار میں ملنے والے احکامات پر عمل نہ کیا جائے۔
اس کے لیے بینکوں اور اداروں کو کثیر جہتی تصدیق (Multi-factor Authentication) اور خفیہ لفظی کوڈز کا نظام اپنانا چاہیے تاکہ ہنگامی حالات میں شناخت کی مکمل یقین دہانی ممکن بنائی جا سکے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کا یہ رُخ واضح کرتا ہے کہ ٹیکنالوجی کے فوائد کے ساتھ ساتھ اس کے سنگین سیکیورٹی مضمرات بھی موجود ہیں۔
اس سے بچنے کے لیے اب صرف تکنیکی سافٹ ویئرز کافی نہیں ہیں، بلکہ انسانی سطح پر بھی مشکوک کالز کی جانچ پڑتال کے لیے نئے پروٹوکولز وضع کرنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔