براہ راست نشریات

نیتن یاہو کا گریٹر اسرائیل: مشرقِ وسطیٰ میں خطرناک جغرافیائی منصوبہ

Picture of Overseas Post
Overseas Post
شیئر
ووٹ
Array
50% LikesVS
50% Dislikes
نیتن یاہو کا گریٹر اسرائیل منصوبہ اور مشرق وسطیٰ کا نیا جغرافیائی نقشہ
امریکہ نے پالیسیوں پر نظرِثانی نہ کی تو یہ منصوبہ عصرِحاضر کی سب سے بڑی تباہی پر منتج ہو سکتا ہے (فوٹو: اے آئی)

جب اسرائیلی دائیں بازو کے حلقے ’گریٹر اسرائیل‘ (عظیم تر اسرائیل) کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، تو عام طور پر اسے صرف مقبوضہ زمینوں میں اضافے کے ایک توسیعی تصور کے طور پر دیکھا جاتا ہے، لیکن حقائق اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور سنگین ہیں۔

مزید پڑھیں

نیتن یاہو اور ان کے انتہا پسند اتحادیوں کے نزدیک ’گریٹر اسرائیل‘ محض سرحدوں کی توسیع نہیں، بلکہ ایک ایسا جیو پولیٹیکل منصوبہ ہے جس کا مقصد پورے مشرقِ وسطیٰ پر اسرائیلی بالادستی قائم کرنا اور خطے کو دائمی جنگ و جدل کی آماجگاہ بنانا ہے۔

منصوبے کے تحت فلسطینیوں کی نسل کشی و بے دخلی تیز کردی گئی ہے اور پڑوسی عرب ممالک کی خودمختاری کو بھی نشانہ بنایا جارہا ہے۔

غزہ، مغربی کنارہ اور شام: قبضے کی نئی لہر

گزشتہ 30 مہینوں کے دوران اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو ملبے کا ڈھیر بنا کر وہاں دوبارہ قابض ہونے کی راہ ہموار کی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی جاں بحق و زخمی ہوئے اور آبادی کو محض 12 فیصد رقبے تک محدود کر دیا گیا۔

مغربی کنارے میں بھی 1967 کے بعد سے اب تک کی سب سے بڑی مہم کے ذریعے فلسطینیوں کو بے گھر کیا جا رہا ہے۔ 

شام میں بشار الاسد کے دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں سے باہر شامی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، جبکہ جنوبی لبنان پر دوبارہ قبضے کی تیاریاں مکمل ہیں۔ 

اسرائیلی کابینہ کے وزرا مثلاً بزاريل سموٹریچ  اب کھلے عام دمشق تک توسیع اور لبنان و غزہ میں اسرائیلی بستیوں کی تعمیر کے مطالبات کر رہے ہیں۔

نیتن یاہو کا گریٹر اسرائیل منصوبہ اور مشرق وسطیٰ کا نیا جغرافیائی نقشہ
نیتن یاہو اب اسرائیل کو محض علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ’عالمی سپر پاور‘ کے طور پر پیش کر رہے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

خلیجی ممالک کو کمزور کرنے کی حکمتِ عملی

سابق اسرائیلی مذاکرات کار ڈینیل لیوی کے مطابق نیتن یاہو کا اصل مقصد ایران کو علاقائی طاقت کے توازن سے نکال باہر کرنا ہے، جس کے لیے وہ امریکہ کو براہِ راست جنگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔

اس منصوبے کا ایک اہم حصہ خلیجی ممالک (GCC) کو کمزور کرنا ہے تاکہ وہ اپنی سیکیورٹی اور توانائی کی برآمدات کے لیے مکمل طور پر اسرائیل کے مرہونِ منت ہو جائیں۔ 

ایران کی جانب سے خلیجی تنصیبات پر حملوں کو نیتن یاہو نے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا تاکہ وہ آبنائے ہرمز اور باب المندب کے متبادل راستوں کی تجویز دے سکیں۔

اس پلان کا مقصد بھی یہی تھا کہ تیل اور گیس کی پائپ لائنیں جزیرہ نما عرب سے گزر کر براہِ راست اسرائیلی بندرگاہوں تک پہنچیں گی۔

نیتن یاہو کا گریٹر اسرائیل منصوبہ اور مشرق وسطیٰ کا نیا جغرافیائی نقشہ
اسرائیل نے گولان کی پہاڑیوں سے باہر شامی علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے اور جنوبی لبنان پر دوبارہ قبضے کی تیاریاں مکمل ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

چھ ملکی اتحاد اور ’جنگل کی ملکہ‘ کا تصور

نیتن یاہو نے ایک ایسے چھ ملکی اتحاد کا تصور پیش کیا ہے جس میں بھارت، عرب ممالک، افریقی ریاستیں، یونان، قبرص اور ایشیائی ممالک شامل ہوں گے اور اس کا مرکز اسرائیل ہوگا۔

اسرائیلی فوج کے اسٹریٹجک تھنک ٹینکس اس منصوبے کو ’جنگل کی ملکہ‘ (Queen of the Jungle) کا نام دیتے ہیں، جہاں اسرائیل کو خطے میں ایک برتر مقام حاصل ہوگا اور وہ دُور دراز کے علاقوں کو بغیر براہِ راست قبضے کے اپنے آپریشنل کنٹرول میں رکھے گا۔ 

نیتن یاہو اب اسرائیل کو محض علاقائی طاقت نہیں بلکہ ایک ’عالمی سپر پاور‘ کے طور پر پیش کر رہے ہیں جو امریکی اثر و رسوخ کم ہونے کی صورت میں خلا کو پُر کرے گی۔

نیتن یاہو کا گریٹر اسرائیل منصوبہ اور مشرق وسطیٰ کا نیا جغرافیائی نقشہ
گزشتہ 30 مہینوں کے دوران اسرائیل نے غزہ کی پٹی کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا ہے (فوٹو: انٹرنیٹ)

امریکی مفادات کا نقصان اور ’فاشزم‘ کا تجربہ

امریکی محقق جان ہوفمین (Cato Institute) کا کہنا ہے کہ گریٹر اسرائیل کا یہ جنون خود امریکہ کے لیے سیاسی، معاشی اور اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی مہنگا ثابت ہو رہا ہے۔

واشنگٹن نے دہائیوں سے طاقت کے زور پر مشرقِ وسطیٰ کو منظم کرنے کی کوشش کی لیکن اسے ہمیشہ ناکامی ہوئی۔  اب اسرائیل کی غیر مشروط حمایت امریکہ کو ایک نہ ختم ہونے والی جنگ میں دھکیل رہی ہے۔ 

دوسری طرف برطانوی صحافی اینڈی ورتھنگٹن کا کہنا ہے کہ اسرائیل مغربی فاشزم کے لیے ایک تجربہ گاہ بن چکا ہے، جہاں نسلی امتیاز، جدید ترین نگرانی  اور طاقت و جبر کے نئے طریقے آزمائے جا رہے ہیں، جنہیں مستقبل میں دیگر مغربی ممالک میں بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔

نیتن یاہو کا گریٹر اسرائیل منصوبہ اور مشرق وسطیٰ کا نیا جغرافیائی نقشہ
امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو مصافحہ کررہے ہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

عالمی تباہی کا پیش خیمہ

ماہرین اور کالم نگاروں بشمول ڈاکٹر جوش بازل کا کہنا ہے کہ اگر اسرائیل کے ان توسیعی عزائم کو نہ روکا گیا تو یہ مشرقِ وسطیٰ سے لاکھوں شہریوں کے اخراج اور انسانی جانوں کے ضیاع کا باعث بنے گا۔

گریٹر اسرائیل کوئی نظریاتی بحث نہیں بلکہ ایک ایسا عملی منصوبہ ہے جس پر تیزی سے عمل درآمد ہو رہا ہے۔

اگر عالمی برادری اور بالخصوص امریکہ نے اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی نہ کی تو یہ منصوبہ عصرِ حاضر کی سب سے بڑی تباہی پر منتج ہو سکتا ہے۔